والد، یہ صرف ایک رشتہ نہیں، بل کہ ایک ایسا سائبان ہے، جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں اولاد خود کو ہر دکھ، ہر خوف اور ہر مشکل سے محفوظ محسوس کرتی ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنی خواہشات، اپنے خواب اور اپنی آسایشیں قربان کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں مصروف رہتی ہے۔ باپ اپنی تھکن کو مسکراہٹ میں چھپا لیتا ہے، اپنی محرومیوں کو خاموشی سے سہہ لیتا ہے اور اپنی اولاد کی کام یابی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ والد کی محبت سمندر کی مانند گہری، پہاڑ کی مانند مضبوط اور چراغ کی مانند روشن ہوتی ہے، جو خود جل کر اپنے بچوں کی راہوں کو منور کرتا ہے۔
والدِ محترم کا نام آتے ہی میرے ذہن میں قربانی، محبت، محنت اور ایثار کی ایک پوری داستان زندہ ہو جاتی ہے۔ والدِ محترم اُس چراغ کی مانند ہوتے ہیں، جو اپنے خونِ جگر سے دیا جلائے رکھتے ہیں، تاکہ اُن کے بچوں کی زندگی کی تاریک راتیں روشنی میں بدل جائیں۔ میری زندگی میں بھی میرے والدِ محترم ایسی ہی عظیم شخصیت کے مالک ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی ہمارے روشن مستقبل کے لیے وقف کیے رکھی۔
میرے والدِ محترم محمد سہراب خان اگرچہ حالات کی سختیوں کے باعث زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے، مگر علم کی اہمیت اور تعلیم کی قدر کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ انھوں نے اپنی محدود آمدنی اور بے شمار معاشی مشکلات کے باوجود ہماری تعلیم پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ وہ اکثر فرمایا کرتے تھے: ’’بیٹا! میرا تو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا، مگر حالات نے اجازت نہ دی، لیکن میں تمھیں سرکاری اسکول کی بہ جائے پرائیویٹ اسکول میں اس لیے پڑھا رہا ہوں، تاکہ کل کو تم یہ نہ کَہ سکو کہ تمھارے والد نے تمھیں اچھی تعلیم نہیں دلوائی۔‘‘
یہ الفاظ محض ایک جملہ نہیں، بل کہ ایک باپ کے خواب، احساسِ محرومی اور اپنی اولاد کے لیے بے پناہ محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج جب ان الفاظ پر غور کرتا ہوں، تو محسوس ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے کتنی خاموش قربانیاں دیتے ہیں، جن کا اندازہ اولاد کو اکثر وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔
میرے والدِ محترم ایک سرکاری اسکول میں کلاس فور ملازم تھے اور سنہ 2018 میں ریٹائر ہوئے۔ انھوں نے پوری زندگی دیانت داری، محنت اور جاں فشانی کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھائیں۔ وہ ہمیشہ ہمیں یہی نصیحت کرتے رہے کہ ’’بیٹا! زندگی میں جہاں بھی کام کرو، ایمان داری اور خوش اخلاقی کے ساتھ کرو۔ وقت چاہے ایک منٹ ہو، ایک گھنٹا ہو، ایک دن ہو، ایک سال ہو یا پوری زندگی… مگر ایسا کردار چھوڑ کر آؤ کہ جب تم وہاں سے رخصت ہو، تو لوگ تمھاری جدائی پر افسوس کریں۔ تمھارے پیٹھ پیچھے تمھاری اچھائیاں بیان کریں، نہ کہ برائیاں۔‘‘
یہ نصیحت میرے لیے زندگی کا سرمایہ ہے۔ والدِ محترم نے ہمیں صرف تعلیم ہی نہیں دی، بل کہ کردار، اخلاق، صبر اور انسانیت کا درس بھی دیا۔ انھوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ انسان کی اصل پہچان اس کا عہدہ، دولت یا شہرت نہیں، بل کہ اس کا اخلاق، کردار اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔
مَیں جب بھی اپنے والدِ محترم کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ایک باپ دراصل اپنی اولاد کے لیے خاموش سپاہی ہوتا ہے۔ وہ خود دھوپ میں جلتا ہے، تاکہ اس کے بچوں کو سایہ نصیب ہو۔ وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ دیتا ہے، تاکہ اس کے بچوں کی خواہشیں پوری ہوسکیں۔ والد وہ عظیم ہستی ہے، جو اپنی اولاد کی کام یابی کے لیے ہر دکھ، ہر پریشانی اور ہر آزمایش خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتا ہے۔
آج اگر ہم اپنی زندگی میں کسی مقام پر کھڑے ہیں، اگر ہمارے خوابوں کو تعبیر ملی ہے اور اگر ہمارے اندر اچھے اور برے کی پہچان موجود ہے، تو اس میں ہمارے والدین، خصوصاً والدِ محترم کی بے شمار قربانیوں اور دعاؤں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ والد ایک ایسی نعمت ہیں، جن کی موجودگی انسان کو مضبوطی، اعتماد اور سکون عطا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے والدِ محترم کو صحتِ کاملہ، خوشیوں بھری لمبی زندگی اور دائمی سکون عطا فرمائے۔ اللہ پاک اُن کے ہر دکھ کو خوشی میں بدل دے، اُن کی ہر دعا قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اُن کی خدمت، اطاعت اور ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
میری زندگی کی سب سے بڑی دولت میرے والدِ محترم ہیں، اور مَیں فخر سے کہتا ہوں کہ مَیں ایک عظیم باپ کا بیٹا ہوں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










