آج کے دور میں اگر کسی ایک نشے نے معاشروں، خاندانوں اور بالخصوص نوجوان نسل کو سب سے زیادہ خاموشی کے ساتھ تباہ کیا ہے تو وہ ’’آئس‘‘ ہے۔ یہ صرف ایک نشہ نہیں، بل کہ ایک کیمیائی ہتھ یار کی مانند ہے، جو انسان کے دماغ، اعصاب، جسم، اخلاق، معیشت اور معاشرتی تعلقات کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اس کا پھیلاو ایک سماجی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کی لپیٹ میں صرف جرائم پیشہ افراد نہیں، بل کہ طالب علم، نوجوان لڑکے لڑکیاں، خواتین اور یہاں تک کہ کم عمر بچے بھی آ رہے ہیں۔ جدید دور کی چکاچوند، ذہنی دباو، بے مقصدیت اور سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا نے اس زہر کو نئی نسل کے لیے مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
کیمیائی طور پر ’’آئس‘‘ دراصل ’’میتھ ایمفیٹامین‘‘ (Methamphetamine) نامی ایک طاقت ور مصنوعی منشیات ہے۔ یہ مرکزی اعصابی نظام کو شدید طور پر متحرک کرتی ہے۔ اسے عموماً ’’کرسٹل میتھ‘‘ (Crystal Meth) بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ شیشے یا برف کے ٹکڑوں جیسی شفاف کرسٹل شکل میں ہوتی ہے۔ اسی لیے عام زبان میں اسے ’’آئس‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ منشیات لیبارٹریوں میں مختلف خطرناک کیمیکلز سے تیار کی جاتی ہے، جن میں ’’ایفیڈرین‘‘، ’’سوڈو ایفیڈرین‘‘، ’’فاسفورس‘‘، ’’لیتھیم‘‘ اور دیگر زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔ اس کی تیاری کا عمل نہ صرف غیر قانونی تو ہے ہی، لیکن انتہائی خطرناک بھی ہے۔ وجہ اس میں استعمال ہونے والے کیمیکل، دھماکا خیز اور انتہائی زہریلے ہوتے ہیں۔
آئس، انسانی دماغ پر بہ راہِ راست حملہ کرتی ہے۔ یہ دماغ میں ’’ڈوپامین‘‘ نامی کیمیکل (نیرو ٹرانسمیٹر) کی مقدار غیر معمولی حد تک بڑھا دیتی ہے۔ ڈوپامین، خوشی، توانائی اور اطمینان کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جب آئس استعمال کی جاتی ہے، تو انسان خود کو غیر معمولی طاقت ور، پُراعتماد، بیدار اور خوش محسوس کرتا ہے… لیکن یہ کیفیت مصنوعی اور وقتی ہوتی ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد دماغ اپنی قدرتی صلاحیت کھو دیتا ہے اور پھر انسان نارمل رہنے کے لیے بھی اسی نشے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے، جہاں نشہ عادت نہیں، بل کہ بیماری بن جاتا ہے۔ یہ عادی بنانے میں زیادہ وقت نہیں لیتا اور اس لیے یہ خاصیت اس کو سب سے خطرناک نشہ بناتی ہے۔
آئس کے جسمانی اثرات نہایت ہول ناک ہیں۔ یہ دل کی دھڑکن کو تیز کرتی ہے۔ بلڈ پریشر بڑھاتی ہے، جس سے دل کے دورے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ دماغی شریانیں الگ متاثر ہوتی ہیں، جس سے فالج تک ہوسکتا ہے۔ مسلسل استعمال سے دانت گلنے لگتے ہیں، جلد خراب ہو جاتی ہے، وزن تیزی سے کم ہوتا ہے اور انسان شدید کم زوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ یوں نیند ختم ہو جاتی ہے، کئی کئی دن جاگتے رہنے کے باعث ذہنی توازن بگڑنے لگتا ہے۔ بعض مریضوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے جسم پر چیونٹیاں رینگ رہی ہوں۔ نفسیاتی طور پر یہ منشیات انسان کو شکی، پُرتشدد، بے قابو اور بعض اوقات خودکُشی تک لے جاتی ہے۔
ہر نشے کی اپنی کیفیت ہوتی ہے۔ اس نشے میں انسان صرف خود کو ٹھیک سمجھتا ہے، انتہائی ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور اپنی کیفیت سے بالکل انجان بن جاتا ہے۔ اس لیے اس کے عادی افراد علاج کو اپنے لیے نجات نہیں، بل کہ سزا یا دھوکا سمجھتے ہیں۔
دنیا میں آئس کی ابتدا 20ویں صدی کے آغاز میں ہوئی۔ ابتدا میں اسے طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، خصوصاً تھکن کم کرنے اور فوجیوں کو زیادہ دیر بیدار رکھنے کے لیے۔ دوسری جنگِ عظیم میں بعض ممالک کے فوجیوں کو ’’میتھ ایمفیٹامین‘‘ دی جاتی تھی، تاکہ وہ مسلسل لڑسکیں… مگر جلد ہی اس کے تباہ کن اثرات سامنے آنے لگے۔ بعد ازاں مجرمانہ گروہوں نے اس کی غیر قانونی تیاری شروع کر دی اور یہ دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی۔ آج اس کی مختلف اقسام دنیا کی خطرناک ترین مصنوعی منشیات میں شمار ہوتی ہیں۔
آئس کی کئی اقسام اور شکلیں موجود ہیں۔ کچھ ’’وائٹ کرسٹل‘‘ کی شکل میں ہوتی ہے، کچھ پاؤڈر کی صورت میں، جب کہ اکثر اوقات اسے گولیوں کی شکل میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ اسے سگریٹ کی طرح پیا جاتا ہے، انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے، ناک سے سونگھا جاتا ہے، یا بعض لوگ اسے کھانے پینے کی چیزوں میں ملا کر استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی نوجوان ابتدا میں یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ وہ ایک مہلک نشے کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں… یا پھر ان کو دھوکے سے عادی بناکر ان کا کنڑول حاصل کیا جاتا ہے اور وہ محض ایک روبوٹ بن کر استعمال ہوتے ہیں۔ پھر اُن سے چوری، ڈاکے، قتل اور کئی قسم کے جرائم کروائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں آئس کا پھیلاو گذشتہ ایک دہائی میں تیزی سے بڑھا ہے۔ ابتدا میں یہ بڑے شہروں اور امیر طبقے تک محدود تھی۔ کیوں کہ یہ مہنگا نشہ سمجھا جاتا تھا… اور ایلیٹ کلاس اسے ڈانس پارٹیوں، یا جنسی طاقت میں اضافے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس طرح یہ خیال بھی عام تھا کہ اس کا خالص نشہ متوازن غذا کے ساتھ کوئی نقصان نہیں دیتا… اور یہ اس نشے کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، جس پر اس کا عادی ہی اعتبار کرتا ہے اور خود کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بعد ازاں اسمگلنگ، غیر قانونی لیبارٹریوں اور منشیات فروش نیٹ ورکس نے اسے عام نوجوانوں تک پہنچا دیا۔ تعلیمی ادارے، ہاسٹل، پارٹیاں، شیشہ کیفے اور بعض سوشل حلقے اس کے پھیلاو کے مراکز بنتے گئے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں تک میں آئس پہنچ چکی ہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ نوجوان نسل اس کی طرف کیوں مائل ہو رہی ہے؟
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ بے روزگاری، ذہنی دباو، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، تعلیمی مقابلہ، احساسِ محرومی، سوشل میڈیا پر مصنوعی کام یابیوں کا دباو اور دوستوں کا اثر اہم عوامل ہیں۔ بعض نوجوان محض ’’ایڈونچر‘‘ یا ’’اسٹیٹس سمبل‘‘ سمجھ کر اس کا آغاز کرتے ہیں۔ کئی طلبہ امتحانات میں جاگنے اور زیادہ پڑھنے کے لیے اس کا استعمال شروع کرتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ اس کے عادی بن جاتے ہیں۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی ذہنی تنہائی، ڈپریشن اور سماجی دباو بھی بعض اوقات انھیں اس طرف دھکیل دیتا ہے۔
منشیات فروش گروہ انتہائی منظم انداز میں اس نشے کو پھیلاتے ہیں۔ ابتدا میں مفت یا کم قیمت پر نشہ دیا جاتا ہے، تاکہ نوجوان عادی ہو جائیں۔ بعد میں وہی لوگ مستقل گاہک بن جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا، خفیہ گروپس، پارٹی کلچر اور دوستوں کے حلقے اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعض اوقات تعلیمی اداروں کے آس پاس موجود چھوٹے نیٹ ورکس نئی نسل کو اس جال میں پھنساتے ہیں۔
آئس چھوڑنا آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ سب سے پہلے مریض کو یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ وہ ایک بیماری میں مبتلا ہے۔ علاج کے لیے طبی ماہرین، نفسیاتی معالجین اور بہ حالی مراکز کی مدد ضروری ہوتی ہے۔ ابتدائی دنوں میں شدید بے چینی، ڈپریشن، غصہ، جسمانی کم زوری اور نیند کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اس لیے پیشہ ورانہ نگرانی بہت اہم ہے۔ خاندان کا تعاون، مثبت ماحول، دینی و اخلاقی تربیت، جسمانی سرگرمیاں اور نفسیاتی بہ حالی علاج میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ کئی ممالک میں ’’ری ہیبلیٹیشن پروگرامز‘‘ نے ہزاروں افراد کو دوبارہ نارمل زندگی کی طرف لوٹایا ہے۔
اس خطرناک وبا کو روکنے کے لیے صرف قانون نافذ کرنا کافی نہیں۔ معاشرے کو اجتماعی سطح پر بیدار ہونا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں منشیات آگاہی مہم چلائے، والدین کو تربیت دی جائے کہ وہ بچوں کی نفسیاتی کیفیت پر نظر رکھیں۔ کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ سرحدی نگرانی، غیر قانونی لیبارٹریوں کی تباہی اور آن لائن منشیات فروشی کے خلاف جدید سائبر مانیٹرنگ بھی ناگزیر ہے۔
والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ بچوں کے دوست بنیں۔ اکثر نوجوان محبت، توجہ اور اعتماد کی کمی کے باعث غلط صحبت کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں مکالمہ، اعتماد اور جذباتی تحفظ موجود ہو، تو نوجوان منشیات کے جال سے کافی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
آئس محض ایک منشیات نہیں، بل کہ مستقبل کو نگلنے والی خاموش آگ ہے۔ اگر آج بھی معاشرہ، حکومت، تعلیمی ادارے، میڈیا اور خاندان اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیں، تو آنے والے برسوں میں ایک ذہنی، اخلاقی اور سماجی بحران ہمارے سامنے ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف نشے کے عادی افراد کو مجرم نہ سمجھیں، بل کہ انھیں مریض تصور کرتے ہوئے بہ حالی کا راستہ دیں، جب کہ اس زہر کے کاروبار سے وابستہ عناصر کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کیا جائے۔ کیوں کہ قوموں کا مستقبل ان کے نوجوان ہوتے ہیں، اور جب نوجوان ہی نشے کی دلدل میں اتر جائیں، تو پھر معاشرے صرف اقتصادی نہیں، تہذیبی زوال کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










