حکم رانوں کی کام یابی عوامی خوش حالی سے مشروط

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا بین الاقوامی تشخص پہلے کی نسبت بہتر ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمے دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے اور ثالثی کردار ادا کرنے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ یہ یقیناً ہر پاکستانی کے لیے باعثِ فخر ہے۔ کیوں کہ کسی بھی ملک کی عزت دراصل اس کے عوام کی عزت ہوتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنا کسی بھی حکومت کی ایک بڑی کام یابی تصور کی جاتی ہے۔ آج اگر دنیا پاکستان کے کردار کو مُثبت انداز میں دیکھ رہی ہے، تو یہ ایک خوش آیند پیش رفت ہے… مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کسی بھی حکومت کی اصل طاقت اور کام یابی کا معیار اس کے اپنے عوام ہوتے ہیں۔ عالمی راہ نما اگر تعریف کریں، لیکن ملک کے اندر عوام مشکلات، مہنگائی اور بے یقینی کا شکار ہوں، تو ایسی کام یابیاں ادھوری محسوس ہوتی ہیں۔
موجودہ حکومت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ عوام اپنی زندگی کے حالات کو دیکھتے ہیں۔ اُنھیں اس بات سے زیادہ غرض نہیں ہوتی کہ امریکہ، مشرقِ وسطیٰ یا دیگر عالمی قوتیں حکومت کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہیں؟ عوام تو یہ دیکھتے ہیں کہ حکومتی فیصلوں نے ان کی روزمرہ زندگی پر کیا اثر ڈالا ہے؟ اگر بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے خور و نوش کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، روزگار کے مواقع کم ہوں اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہو، تو پھر عالمی تعریفیں عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتیں۔
آج پاکستان میں مہنگائی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ متوسط طبقہ شدید دباو کا شکار ہے، جب کہ غریب آدمی کی زندگی مشکلات کی تصویر بن چکی ہے۔ بجلی اور گیس کے بل عوام کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ ٹرانسپورٹ سے لے کر روزمرہ اشیا تک ہر چیز کو مہنگا کر دیتا ہے۔ ایک عام مزدور، سرکاری ملازم یا چھوٹا دکان دار اپنی آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ دنیا اس وقت معاشی بحران اور جنگی حالات سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ روس یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاو نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے… لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کے عوام پر جتنا بوجھ ڈالا گیا ہے، اتنا ہی بوجھ بھارت، بنگلہ دیش یا خطے کے دیگر ممالک کے عوام پر بھی ڈالا گیا؟ اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔
ہمارے پڑوسی ممالک نے بھی عالمی بحرانوں کا سامنا کیا، مگر وہاں کی حکومتوں نے حتی الامکان عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی۔ کہیں سبسڈی دی گئی، کہیں ٹیکسوں میں کمی کی گئی اور کہیں عوامی فلاح کے منصوبے متعارف کروائے گئے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر بحران کا بوجھ بہ راہِ راست عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی بے چینی اور حکم رانوں کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام صرف وعدوں اور بیانات سے مطمئن نہیں ہوتے۔ انھیں عملی اقدامات چاہیے ہوتے ہیں۔ اگر ایک طرف حکم ران بیرونی دوروں، سفارتی کام یابیوں اور عالمی پذیرائی کا ذکر کریں، جب کہ دوسری طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی سے تنگ ہوں، تو یہ تضاد حکومت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی حکومتیں دیرپا اور مضبوط ہوتی ہیں، جو اپنے عوام کے دل جیتتی ہیں۔ ریاست کی اصل بنیاد عوام ہوتے ہیں۔ اگر عوام خوش حال ہوں، تو ملک مضبوط ہوتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور دنیا بھی احترام کرتی ہے… لیکن اگر عوام ہی مایوسی، غصے اور مشکلات کا شکار ہوں، تو بیرونی تعریفیں زیادہ دیر تک حکومت کو سہارا نہیں دے سکتیں۔
موجودہ حکومت کے لیے یہ وقت سنجیدگی سے غور و فکر کا ہے۔ عوامی مشکلات کو کم کرنا، مہنگائی پر قابو پانا اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف عالمی سفارت کاری پر توجہ دینے کے بہ جائے اندرونی استحکام اور عوامی فلاح کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ کیوں کہ آخرِکار حکومتوں کی اصل کام یابی عوام کے چہروں پر خوشی اور اطمینان دیکھنے میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف عالمی تعریفوں میں۔
پاکستان ایک عظیم ملک ہے اور اس کے عوام محبِ وطن ہیں۔ وہ اپنے ملک کی عزت اور وقار پر فخر کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اُن کی زندگی آسان ہو، اُن کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو اور انھیں بنیادی ضروریات کے لیے پریشان نہ ہونا پڑے۔ اگر حکومت اس حقیقت کو سمجھ لے، تو یقیناً نہ صرف عالمی سطح پر بل کہ ملکی سطح پر بھی اسے حقیقی کام یابی حاصل ہوسکتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے