جنگ اب صرف ٹینکوں، لڑاکا طیاروں اور سرحدیں عبور کرتی فوجوں تک محدود نہیں رہی۔ جدید دنیا میں تنازع کی نوعیت بدل چکی ہے اور اب یہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور پہچاننے میں مشکل ہوگئی ہے۔ ریاستیں، غیر ریاستی عناصر، خفیہ ایجنسیاں، سائبر گروہ اور حتیٰ کہ بعض نجی تنظیمیں بھی اپنے مخالفین کو کم زور کرنے کے لیے فوجی اور غیر فوجی ذرائع کو ملا کر استعمال کرتی ہیں، بغیر اس کے کہ باقاعدہ جنگ کا اعلان کیا جائے۔ جدید دور کے اس اندازِ تصادم کو ’’ہائبرڈ وارفیئر‘‘ (Hybrid Warfare) کہا جاتا ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر سے مراد طاقت کے مختلف ذرائع کا مربوط استعمال ہے، جن میں فوجی طاقت، سائبر حملے، غلط معلومات کی مہمات، معاشی دباو، سیاسی مداخلت، پراکسی گروہوں کی مدد، دہشت گردی، سفارت کاری اور نفسیاتی کارروائیاں شامل ہیں۔ اس کا مقصد ہمیشہ دشمن کو فوجی طور پر تباہ کرنا نہیں ہوتا، بل کہ اکثر اصل ہدف یہ ہوتا ہے کہ معاشروں میں انتشار پیدا کیا جائے، اداروں کو کم زور کیا جائے، عوامی رائے کو متاثر کیا جائے اور ریاست کی موثر ردِعمل دینے کی صلاحیت کو بہ تدریج کم زور کر دیا جائے۔
لفظ ’’ہائبرڈ‘‘ خود ایک امتزاج یا ملاپ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تناظر میں اس کا مطلب روایتی جنگ کو غیر روایتی طریقوں کے ساتھ جوڑنا ہے۔ کوئی ریاست یا فریق بہ راہِ راست فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے اپنے مخالف کو سائبر اسپیس، میڈیا بیانیوں، معاشی پابندیوں، پروپیگنڈا مہمات یا باغی گروہوں کی حمایت کے ذریعے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ چوں کہ یہ اقدامات اکثر کھلی جنگ کی حد سے نیچے رہتے ہیں، اس لیے متاثرہ ریاست کے لیے جارح فریق کی شناخت اور موثر جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر کی ایک بنیادی خصوصیت ’’ابہام‘‘ ہے۔ روایتی جنگیں عموماً واضح ہوتی ہیں: فوجیں آمنے سامنے لڑتی ہیں، علاقے قبضے میں لیے جاتے ہیں اور محاذ نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس ہائبرڈ جنگ غیر یقینی صورتِ حال میں پنپتی ہے۔ کوئی حملہ حادثاتی، غیر سرکاری، یا ناقابلِ سراغ محسوس ہوسکتا ہے۔ سائبر حملے گم نام ہیکرز کی طرف سے ہوسکتے ہیں۔ غلط معلومات، سوشل میڈیا انفلوئنسرز یا جعلی ویب سائٹس کے ذریعے پھیلائی جاسکتی ہیں، جب کہ مسلح ملیشائیں بغیر سرکاری اعتراف کے سرگرم رہ سکتی ہیں۔ یہی ابہام جارح فریق کو ذمے داری سے انکار کا موقع فراہم کرتا ہے، جب کہ وہ اپنے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرتا رہتا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی رابطوں نے ہائبرڈ وارفیئر کے دائرۂ کار کو غیر معمولی حد تک وسیع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر ٹولز اب طاقت ور ہتھ یار بن چکے ہیں۔ عوامی سوچ اور تاثر اب خود ایک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ اب کسی تنازع میں کام یابی صرف فوجی برتری پر منحصر نہیں رہی، بل کہ اس بات پر بھی ہے کہ کون بیانیے پر کنٹرول حاصل کرتا ہے، جذبات کو متاثر کرتا ہے اور معلومات کے بہاو کو اپنے حق میں موڑتا ہے؟
موجودہ دور میں روس اور یوکرین کے درمیان تنازع ہائبرڈ وارفیئر کی ایک نمایاں مثال ہے۔ 2022 میں مکمل روسی حملے سے پہلے بھی روس پر کئی برسوں تک یوکرین کے خلاف ہائبرڈ حربے استعمال کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ ان میں یوکرینی انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، یوکرینی معاشرے کو متاثر کرنے والی غلط معلومات کی مہمات، مشرقی یوکرین میں علاحدگی پسند گروہوں کی حمایت، اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔ 2014 میں کریمیا کا الحاق ہائبرڈ وارفیئر کی سب سے زیادہ زیرِ مطالعہ مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس میں فوجی موجودگی، مقامی پراکسی عناصر، میڈیا اثر و رسوخ اور سیاسی حکمتِ عملی کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا۔
سائبر وارفیئر، ہائبرڈ تنازعات کا ایک مرکزی ستون بن چکی ہے۔ جدید معاشرے بینکنگ سسٹمز، بجلی کے نیٹ ورکس، مواصلاتی نظام، ہوائی اڈوں اور صحت کے اداروں جیسے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر انحصار کرتے ہیں۔ ان نظاموں پر سائبر حملہ کسی ملک کو بغیر ایک بھی گولی چلائے مفلوج کرسکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومتوں، کمپنیوں اور اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل کی جنگیں میزائل حملوں کے بہ جائے ڈیجیٹل نظاموں پر حملوں سے شروع ہوں گی۔
غلط معلومات یا ’’ڈس انفارمیشن‘‘ بھی ہائبرڈ وارفیئر کا ایک طاقت ور ہتھ یار ہے۔ جھوٹی یا تبدیل شدہ معلومات دانستہ طور پر اس مقصد کے لیے پھیلائی جاتی ہیں کہ معاشرے میں بے اعتمادی، انتشار، خوف اور تقسیم پیدا ہو۔ سوشل میڈیا نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ کیوں کہ معلومات فوری طور پر، اور اکثر بغیر تصدیق کے، پھیل جاتی ہیں۔ مختلف ممالک کے انتخابات کے دوران میں غیر ملکی مداخلت، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بوٹس اور پروپیگنڈا مہمات کے الزامات نے یہ واضح کیا کہ معلومات خود ایک ہتھ یار بن چکی ہیں۔
ہائبرڈ وارفیئر معاشروں کے اندر موجود سیاسی، نسلی، سماجی، یا مذہبی اختلافات سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ اکثر جارح عناصر نئے تنازعات پیدا کرنے کے بہ جائے پہلے سے موجود اختلافات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اس طرح قومی اتحاد اور ریاستی اداروں پر اعتماد کم زور ہوتا ہے، جس سے معاشرہ بحران کے وقت زیادہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
معاشی دباو بھی ہائبرڈ جنگ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ معاشی پابندیاں، تجارتی رکاوٹیں، توانائی کی فراہمی میں ہیرا پھیری، کرنسی کو کم زور کرنا، اور اسٹریٹجک وسائل پر کنٹرول… یہ سب دباو ڈالنے کے موثر ذرائع بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر توانائی پر انحصار بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اسٹریٹجک مسئلہ بن چکا ہے، خصوصاً روس اور یورپی ممالک کے تعلقات میں۔
غیر ریاستی عناصر بھی ہائبرڈ وارفیئر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عسکری تنظیمیں، نجی فوجی کمپنیاں، جرائم پیشہ نیٹ ورکس، انتہا پسند گروہ اور پراکسی ملیشائیں بعض اوقات ریاستوں کی جانب سے یا اپنے مفادات کے لیے کام کرتی ہیں، لیکن مجموعی اسٹریٹجک تنازعات میں ان کا کردار اہم ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے کئی علاقائی تنازعات میں یہ رجحان نمایاں طور پر دیکھا گیا ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر صرف بڑی طاقتوں تک محدود نہیں۔ چھوٹے ممالک اور غیر ریاستی گروہ بھی ہائبرڈ حربے استعمال کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ اُن میں سے کئی ذرائع، خصوصاً سائبر ٹیکنالوجی اور معلوماتی مہمات، روایتی فوجی قوت کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت رکھتے ہیں۔ اس نے عالمی طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کیا ہے۔
ہائبرڈ جنگ کا سب سے بڑا چیلنج اس کے خلاف دفاع کرنا ہے۔ روایتی فوجی نظام واضح خطرات جیسے سرحدی حملوں یا فضائی کارروائیوں کے مقابلے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، جب کہ ہائبرڈ خطرات بہ یک وقت کئی محاذوں پر کام کرتے ہیں۔ اسی لیے اب حکومتوں کو نہ صرف اپنی سرحدوں، بل کہ سائبر اسپیس، میڈیا نظام، مالیاتی ڈھانچے، عوامی اعتماد اور جمہوری اداروں کا بھی تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں قومی سلامتی کی حکمتِ عملیاں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ممالک سائبر سیکیورٹی، اسٹریٹجک کمیونی کیشن، پروپیگنڈا کے انسداد کے پروگرام، انٹیلی جنس تعاون اور نفسیاتی حملوں کے خلاف مزاحمت پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ نیٹو بھی اب سائبر حملوں اور اطلاعاتی جنگ کو روایتی فوجی خطرات جتنا اہم سمجھتا ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر قانونی اور اخلاقی سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین زیادہ تر روایتی جنگوں کے گرد تشکیل دیے گئے تھے، جب کہ ہائبرڈ حربے جنگ اور امن، شہری اور جنگ جو، حقیقت اور فریب کے درمیان حدوں کو دھندلا دیتے ہیں۔ جب حملے پراکسی عناصر یا گم نام ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے ذریعے کیے جائیں، تو ذمے داری کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔
نفسیاتی اثرات بھی اس جنگ کا اہم پہلو ہیں۔ مقصد صرف جسمانی نقصان پہنچانا نہیں، بل کہ ذہنی تھکن، خوف اور سماجی عدم استحکام پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔ مسلسل غلط معلومات، غیر یقینی صورتِ حال اور خوف کے ماحول سے عوامی حوصلہ وقت کے ساتھ کمزور ہوسکتا ہے۔
جدید اطلاعاتی ماحول میں عام شہری بھی غیر محسوس انداز میں ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ بن سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر فرد نادانستہ طور پر جھوٹی معلومات یا پروپیگنڈا پھیلا سکتا ہے۔ اسی لیے میڈیا لٹریسی، تنقیدی سوچ اور عوامی شعور اب قومی سلامتی کے اہم عناصر بنتے جا رہے ہیں۔
ہائبرڈ وارفیئر 21ویں صدی میں طاقت کے استعمال کی بدلتی ہوئی شکل کی نمایندگی کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ٹیکنالوجی، معلومات، معیشت، نفسیات، اور فوجی طاقت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ جنگ اب صرف میدانوں تک محدود نہیں رہی، بل کہ موبائل فونز، ٹی وی اسکرینز، مالیاتی منڈیوں اور آن لائن پلیٹ فارمز تک پھیل چکی ہے۔
ہائبرڈ وارفیئر کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ جدید تنازعات کو صرف روایتی فوجی نقطۂ نظر سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ مستقبل کی عالمی سلامتی صرف فوجی طاقت پر نہیں، بل کہ ادارہ جاتی مضبوطی، عوامی اعتماد، تکنیکی صلاحیت اور معاشروں کی مزاحمت پر بھی منحصر ہوگی۔ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، خودکار سائبر ٹولز اور جدید نگرانی کے نظام ہائبرڈ وارفیئر کو مزید پیچیدہ بنا دیں گے۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجیز ترقی کریں گی، امن اور جنگ کے درمیان فرق مزید دھندلا ہوتا جائے گا اور ہائبرڈ وارفیئر جدید دور کے سب سے بڑے سلامتی کے چیلنجز میں سے ایک بن جائے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










