نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے اور شعور کی اُن شمعوں کو روشن کرتی ہے، جو معاشرے میں اندھیروں کا خاتمہ کرتی ہیں۔ درس گاہیں وہ مقدس مقامات ہیں، جہاں سے نکلنے والا ہر فرد قوم کا معمار کہلاتا ہے۔ ماضی میں تعلیمی اداروں سے وابستہ یادیں نہایت پُروقار اور شایستہ ہوا کرتی تھیں، جہاں […]
نشہ، جرم اور خاموش ریاست

ایک نوجوان عورت روتے ہوئے کَہ رہی تھی کہ ’’خدا کا واسطہ ہے، میرے بچے کو یہاں مت آنے دو… مَیں بیوہ ہوں، نشئی بچے کو نہیں سنبھال سکتی۔‘‘وہ عورت یہ واویلا اُس جھونپڑی کے سامنے کر رہی تھی، جہاں کھلے عام آئس، چرس اور دیگر منشیات کا کاروبار ہوتا ہے۔ وہاں دن رات یہ […]
جدائی، جو روح کو زخمی کرگئی

بلاگر: نرگس رؤف قاسمی نصرت فتح علی خان جب ’’دھڑکن‘‘ گا رہے تھے، تو جیسے ہی اس مصرعے تک پہنچتے’’میں تیری بانہوں کی جھولی میں پلی بابل…‘‘ اُن پر گریہ طاری ہوجاتا۔ بار بار وہ اسی مقام تک پہنچتے اور جی بھر کر رو لیتے۔ یہاں تک کہ روتے روتے اُن کی ہچکی بندھ جاتی، […]