انسانی معاشرت کی بقا اور ترقی کا دار و مدار ہمیشہ سے اُن اداروں اور تنظیموں پر رہا ہے، جو اجتماعی مفاد کے حصول کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انفرادی کوششیں ایک محدود دائرے تک تو اثر انداز ہوسکتی ہیں، لیکن کسی بڑے انقلاب یا نظام کی تبدیلی کے لیے تنظیم سازی ناگزیر ہوتی ہے۔
تنظیم دراصل ایک ایسا ڈھانچا ہے، جو منتشر قوتوں کو ایک مرکز پر جمع کرکے انھیں ایک ایسی طاقت میں بدل دیتا ہے، جو پہاڑوں کو چیرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں تنظیموں کا وجود اس لیے بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جب قانون کی بالادستی کی بات کی جائے، تو تنظیمیں ہی وہ فورم فراہم کرتی ہیں، جہاں کم زور کی آواز کو توانا کیا جاتا ہے اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کی جاتی ہے۔ جمہوری اقدار کا حسن ہی یہی ہے کہ وہاں رائے عامہ کا احترام کیا جائے اور یہ احترام صرف اسی صورت ممکن ہے جب لوگ منظم شکل میں اپنے مطالبات پیش کریں۔
ہمارے ملک میں سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں میں لاکھوں افراد ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ یہ وہ افرادی قوت ہے، جو ریاست کے پہیے کو رواں دواں رکھتی ہے… لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں انسانی گروہ کام کرتے ہیں، وہاں مسائل کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ملازمت کے دوران میں پیش آنے والی مشکلات، انتظامی مسائل، مراعات کی کمی یا پیشہ ورانہ حقوق کی پامالی وہ مسائل ہیں، جن کا سامنا ایک عام ملازم کو اکثر و بیش تر کرنا پڑتا ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر ملازم کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر روزانہ دفاتر کے چکر لگائے؟ کیا ایک عام کلرک یا اُستاد کی رسائی سیکرٹریٹ کے بند کمروں میں بیٹھے افسرانِ بالا تک اتنی آسان ہوتی ہے؟ جواب یقیناً نفی میں ہے۔ انفرادی طور پر کوئی بھی ملازم اتنا طاقت ور نہیں ہوتا کہ وہ پورے نظام سے ٹکرا سکے، یا اپنے حق کے لیے تنہا جنگ لڑسکے۔ ایسی ہی سنگین صورتِ حال میں نمایندہ تنظیموں کی اہمیت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ایک فعال تنظیم ملازمین کے دکھوں کا مداوا بنتی ہے اور ان کی محرومیوں کو زبان دیتی ہے۔
اگر ہم محکمۂ تعلیم کی بات کریں، تو یہ محض ایک محکمہ نہیں، بل کہ قوموں کی تقدیر بدلنے والا کارخانہ ہے۔ یہ افرادی قوت کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا شعبہ ہے، جس کے پھیلاو کا اندازہ اس کے وسیع و عریض انفراسٹرکچر سے لگایا جاسکتا ہے، جو دور افتادہ دیہاتوں سے لے کر بڑے شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس محکمے سے لاکھوں اساتذہ وابستہ ہیں، جنھیں ہم معمارِ قوم کہتے ہیں… لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ معمار خود کئی طرح کے مسائل کی زد میں رہتے ہیں۔ کہیں سروس سٹرکچر کا مسئلہ ہے، کہیں اَپ گریڈیشن کی رکاوٹیں ہیں اور کہیں تبادلوں اور تعیناتیوں میں سیاسی مداخلت کا سامنا ہے۔ ان تمام گھمبیر مسائل کے حل کے لیے اساتذہ کی کئی تنظیمیں میدانِ عمل میں موجود ہیں جو اپنی اپنی بساط کے مطابق اساتذہ برادری کی خدمت کر رہی ہیں… لیکن ان سب میں جو نام سب سے زیادہ معتبر، توانا اور فعال بن کر ابھرا ہے، وہ ’’ملگری استاذان‘‘ ہے۔ یہ صرف ایک تنظیم نہیں، بل کہ ایک نظریہ اور ایک تحریک کا نام ہے، جس نے ہمیشہ اساتذہ کے حقوق کی پاس بانی کی ہے۔
ملگری استاذان کی سب سے بڑی انفرادیت اس کا غیر متزلزل جمہوری اسلوب ہے۔ بہت سی تنظیمیں ایسی ہوتی ہیں، جہاں قیادت پر چند مخصوص افراد قابض ہو جاتے ہیں، لیکن ملگری استاذان میں ایسا تصور بھی ناممکن ہے۔ یہاں تنظیمِ نو کا عمل ایک شفاف جمہوری روایت کے تحت مکمل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا آغاز یونٹ اور تحصیل سطح سے ہوتا ہے، جہاں عام اساتذہ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے بعد ضلعی سطح اور پھر صوبائی سطح پر انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف تنظیم میں نئی روح پھونکتا ہے، بل کہ اساتذہ کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ اُن کی قیادت اُن کے اپنے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئی ہے۔
امسال بھی اسی جمہوری تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے صوبائی سطح پر انتخابات کرائے گئے، جس کے نتیجے میں اساتذہ برادری نے اپنی بھرپور تائید سے نیاز علی خٹک جیسے نڈر اور بے باک راہ نما کو صوبائی صدر منتخب کیا۔ اُن کے ساتھ بابا خان خلیل کو جنرل سیکرٹری کی اہم ذمے داری سونپی گئی۔ یہ انتخاب اس بات کی دلیل ہیں کہ اساتذہ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں، جو ان کے مقدمے کو ہر فورم پر جرات کے ساتھ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اس نو منتخب کابینہ کی تقریبِ حلف برداری کا انعقاد پشاور کے تاریخی مرکز ’’باچا خان مرکز‘‘ میں کیا گیا۔ 24 اپریل اس حوالے سے ایک یادگار دن ثابت ہوا، جب صوبے بھر سے اساتذہ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس تقریب میں شریک ہوا۔ یہ محض ایک حلف برداری نہیں تھی، بل کہ اساتذہ کے اتحاد کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ دیگر اساتذہ تنظیموں کے نمایندوں کی شرکت اس بات کی غماز تھی کہ ملگری استاذان کو ہر مکتبۂ فکر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی راہ نما میاں افتخار حسین نے تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی اور اپنے خطاب میں اساتذہ کی عظمت کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ اساتذہ معاشرے کا وہ طبقہ ہیں، جن کی عزت و تکریم کے بغیر کوئی قوم ترقی کی شاہ راہ پر گام زن نہیں ہوسکتی۔ اُنھوں نے نو منتخب کابینہ کو مبارک باد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اساتذہ کے حقوق کی جنگ میں کسی بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔
تقریب کے دوران میں سابقہ کابینہ کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا، جنھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں انتہائی مشکل حالات کے باوجود اساتذہ کے مفادات کا تحفظ کیا۔ اُنھیں پروقار انداز میں الوداع کہنا اس تنظیم کی اعلا اخلاقی روایات کا حصہ ہے۔ نو منتخب صدر نیاز علی خٹک نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اُن کی کابینہ اساتذہ کے ہر جائز مطالبے کے لیے سڑکوں سے لے کر ایوانوں تک آواز اٹھائے گی۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ تعلیم کی بہتری اور اساتذہ کی خوش حالی ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں، اگر استاد ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہوگا، تو وہ بہتر طریقے سے نئی نسل کی آب یاری نہیں کرسکے گا۔
تقریب کے اختتام پر آنے والے تمام مہمانوں کے اعزاز میں ایک پُرتعیش ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا، جس نے شرکا کے درمیان محبت اور یگانگت کی فضا کو مزید مستحکم کیا۔ ملگری استاذان کی یہ نئی کابینہ اب ایک ایسے سفر پر روانہ ہوچکی ہے جہاں چیلنجز تو بہت ہیں، لیکن ان کے حوصلے چیلنجز سے کہیں زیادہ بلند ہیں۔ اساتذہ برادری کی نظریں اب اپنی اس نئی قیادت پر جمی ہیں کہ وہ کس طرح ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ یہ تنظیمِ نو یقیناً صوبے کے تعلیمی منظر نامے پر مُثبت اثرات مرتب کرے گی اور اساتذہ کے حقوق کی جد و جہد کو ایک نیا موڑ دے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










