فقیر ایپی، تاریخ اور وطن دشمن بیانیہ

Blogger Fazal Manan Bazda, Thana

میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی شمالی وزیرستان کے ایک بڑے قبیلے اتمان زئی کی ذیلی شاخ بنگالی خیل میں پیدا ہوئے۔ میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی نہ کوئی سیاسی شخصیت تھے اور نہ اُن کا کوئی عسکری پس منظر ہی تھا، بل کہ وہ ایک سادہ مذہبی شخصیت تھے، جو اُس زمانے کی روایت کے مطابق دینی تعلیم کے حصول کے بعد بنوں اور رَزک کے درمیان ’’ایپی‘‘ کے مقام پر ایک مسجد کے پیش امام رہے۔
عاقل عبید خیلوی کی تصنیف ’’تاریخِ بنوں‘‘ کے مطابق 1936ء میں جب ’’میوہ رام‘‘ نامی ایک ہندو کی بیٹی ’’رام گوری‘‘، جس کا اسلامی نام اسلام بی بی رکھا گیا تھا، نے اسلام قبول کرکے علاقہ جھبڈو خیل کے رہنے والے امیر نور علی شاہ کے ساتھ نکاح کرلیا، تو معاملہ تھانہ کچہری تک جا پہنچا۔ عدالت نے نومسلم لڑکی کو ورثا کے حوالے کیا اور یہ واقعہ قبائلی علاقوں کی تاریخ میں ایک قسم کی بغاوت کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی کا خیال تھا کہ اس مقدمے میں انگریز انتظامیہ اور عدالت نے انصاف کے تقاضوں کا خیال رکھنے کے بہ جائے ہندو اقلیت کا ساتھ دیا۔ قبائلیوں نے انگریز سرکار کو خبردار کیا کہ اگر نومسلم خاتون کو اُس کے شوہر کے حوالے نہ کیا گیا، تو اُن کے خلاف مسلح جد و جہد کی جائے گی۔ انتظامیہ کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر فقیر ایپی نے گرویک نامی مقام کو مرکز بنا کر مسلح تحریک شروع کر دی اور یوں فقیر ایپی کی شخصیت اُبھر کر سامنے آئی۔
تاریخ میں جائز مقام ملنے یا نہ ملنے کی بحث اپنی جگہ اہم اور دل چسپ ہونے کے ساتھ ایک وسیع پس منظر رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود تاریخ اپنے سنجیدہ فکر قاری کو یہ بھی بتاتی ہے کہ 20ویں صدی کے نصف اول میں، جب برصغیر کا گوشہ گوشہ آزادی کے نعروں سے گونج رہا تھا، تو فقیر ایپی اُسی زمانے میں کچھ ایسے غیر معروف بھی نہیں تھے۔ برصغیر کے غیر ملکی حکم ران اُن سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کر رہے تھے۔ چیک مصنف ’’میلان ہانیر‘‘، جس نے ایڈولف ہٹلر کی سوانح عمری سے شہرت پائی تھی، لکھتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں جو لوگ سلطنتِ برطانیہ کے دشمن کی حیثیت سے اُبھرے، فقیر ایپی اُن میں بے مثال تھے۔
مصنف نے فقیر ایپی کو سلطنت کا ’’تنہا دشمن‘‘ قرار دے کر اُن کی حربی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
قارئین! اتنی طویل تمہید کے بعد میرے آج کے بلاگ کا مقصد قارئین اور مقتدر حلقوں کی توجہ پاکستان دشمن عناصر کی ریشہ دوانیوں کی طرف مبذول کرانا ہے۔ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ یا گروہ موجود ہے، جو مملکتِ خداداد پاکستان کے خلاف مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ کچھ عرصہ قبل حکومتِ پنجاب نے ضلع جہلم، تحصیل دینہ کے ایک چوک میں نصب شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹوا کر وہاں سلطان سارنگ گکھڑ کا مجسمہ نصب کیا، تو فیس بک پر بعض پاکستان دشمن عناصر نے پٹھانوں کے خلاف زہر اُگلنا شروع کر دیا۔ کسی نے پٹھانوں کو بوٹ پالش کے طعنے دیے، کسی نے مٹی ڈھونے کی پَبتی لگائی، تو کسی نے ڈاکو اور لٹیرا کہا۔
شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹانے پر جب اعتراضات سامنے آئے، تو پنجاب حکومت نے شیر شاہ سوری کا مجسمہ کسی اور مقام پر نصب کر دیا۔ یہ تو معلوم نہ ہوسکا کہ پنجاب حکومت نے شیر شاہ سوری کا مجسمہ کیوں ہٹوایا تھا؟ اگرچہ سلطان سارنگ گکھڑ کا مجسمہ جہلم کے کسی اور چوک میں بھی نصب کیا جاسکتا تھا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایچ الیون سے سری نگر ہائی وے کو راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع آئی جے پی روڈ سے ملانے والی اُداس سی رابطہ سڑک کے آغاز پر ایک بورڈ نصب ہے، جس کے ذریعے اطلاع دی گئی ہے کہ اس سڑک کا نام ’’فقیر ایپی روڈ‘‘ ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ بورڈ کب سے لگا ہوا ہے اور آیا سرکاری طور پر یہ سڑک فقیر ایپی کے نام سے منسوب بھی ہے یا نہیں؟ جس طرح شیر شاہ سوری کے مجسمے پر ملک دشمن عناصر نے فیس بک پر پٹھانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی، اب ایک بار پھر وہی عناصر سرگرمِ عمل ہیں۔
رانا شفیق پنجابی نے اپنے فیس بک آئی ڈی (جو جعلی بھی ہوسکتی ہے) پر تحریر کیا ہے کہ ’’پنجاب کے غداروں کو ہیرو بنانا بند کرو، کب تک ہم بیرونی حملہ آوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے ناموں پر میزائلوں اور شہروں کے نام رکھ کر اپنی پنجابیت اور اپنے اجداد کی توہین کرتے رہیں گے؟ ہمارے اصلی ہیرو تو راجہ جے پال، چندر گپت موریہ، چانکیہ، رنجیت سنگھ، دُلا بھٹی اور رائے احمد نواز کھرل ہیں اور میزائلوں کے نام اُن کے نام پر رکھے جائیں۔‘‘
کل کو مذکورہ صاحب یہ بھی کَہ سکتے ہیں کہ اسلام حملہ آوروں کا مذہب یا دین ہے، اس لیے پنجاب سے اسلام کا نام و نشان مٹا دیا جائے!
جیسا کہ ہندوستان میں ’’ہندوتوا‘‘ کا پرچار کرنے والوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ ہندوتوا والوں کا بھی یہی مؤقف ہے کہ اگر کسی نے یہاں رہنا ہے، تو ہندو بن کر رہنا ہوگا، ورنہ ملک چھوڑ دیا جائے۔
اسی طرح مذکورہ صاحب اور ملک دشمن عناصر بھی وقت آنے پر مسلمانوں کو یہی دھمکیاں دے سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس قسم کی مہم چلانے والے ہندوتوا کے آلۂ کار تو ہوسکتے ہیں، مگر پنجاب اور پاکستان کے خیرخواہ نہیں۔ حکومت اور مقتدر حلقے صحافیوں اور سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف بیان دینے یا ٹویٹ کرنے پر مقدمات قائم کرکے سزائیں دیتے نظر آرہے ہیں، سیاسی کارکنوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی سے کیوں کترا رہے ہیں؟
ملک دشمن عناصر سے تو ایسی توقع کی جاسکتی ہے، لیکن جب حکومتی وزیر محمود غزنوی، شیر شاہ سوری اور محمد بن قاسم کو ڈاکو اور لٹیرا کہیں گے، تو ایسے میں ملک دشمن عناصر کے حوصلے ضرور بڑھیں گے۔ حکومت اور ریاستی مقتدر حلقے ملک دشمن عناصر کے خلاف فوری اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’میلان ہانیر‘‘ Milan Hauner:۔ چیک ریپبلک کے معروف مؤرخ، مصنف اور سیاسی تجزیہ نگار تھے، جنھوں نے یورپ اور ایشیا کی جدید تاریخ پر گہرا کام کیا۔ وہ 4 مارچ 1940 کو جرمنی میں پیدا ہوئے اور 26 ستمبر 2022 کو امریکہ کے شہر میڈیسن میں انتقال کرگئے۔
2) ’’شیر شاہ سوری‘‘ (Sher Shah Suri):۔ شیر شاہ سوری (1486–1545) ایک افغان سپہ سالار اور حکم ران تھے، جنھوں نے مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر سوری سلطنت قائم کی اور صرف پانچ سال (1540–1545) میں شمالی ہندوستان کو منظم اور مضبوط بنایا۔ وہ اپنی انتظامی اصلاحات، عدل اور فوجی حکمتِ عملی کے باعث تاریخ کے عظیم حکم رانوں میں شمار ہوتے ہیں۔
3) ’’سلطان سارنگ گھکڑ‘‘ (Sarang Khan Gakhar):۔ پوٹھوہار کے علاقے کے ایک بہادر اور خودمختار مسلم سردار تھے، جنھوں نے مغل بادشاہ بابر کے دور میں گکھڑ قبیلے کی قیادت کی۔ 1541 میں شیر شاہ سوری کے خلاف جنگ میں راوت قلعے انتقال کرگئے۔
4) ’’ہندوتوا‘‘ (Hindutva):۔ یہ ایک سیاسی نظریہ ہے جو بھارت کو ہندو شناخت اور بالادستی کے ساتھ ایک قومی ریاست بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مذہب نہیں، بل کہ ایک قوم پرست نظریہ ہے، جسے وینائک دامودر ساورکر نے 1923 میں متعارف کرایا۔ مخالفین اسے انتہا پسند قوم پرستی اور بعض اوقات فاشزم سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے