کرسی کا غرور

Blogger Ikram Ullah Arif, District Dir

صاحب نے میز پر لگے بٹن پر انگلی رکھی اور فوراً ہی دفتر کا دروازہ کھلا تو ایک نوجوان نمودار ہوا۔ لمبے قد، پھرتیلے جسم اور گھنے سیاہ لمبے بالوں والا یہ نوجوان دست بستہ اور ہمہ تن گوش کھڑا ہوگیا۔ افسرِ بالا نے اس کو نام لے کر مخاطب کیا: ’’یہ کون سا اسٹائل ہے بال رکھنے کا؟‘‘ نوجوان نے کچھ کہنے کی کوشش ضرور کی، مگر صاحب اپنے ہی ترنگ میں تھے، لہٰذا حکم جاری کیا: ’’کل سے یہ بال نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ دفتر ہے، کوئی سنیما نہیں…! اچھا اب جاؤ، بازار سے یہ یہ چیزیں لاؤ! اور ہاں، کل آنے سے پہلے بال ضرور کٹنے چاہییں۔‘‘
نوجوان نائب قاصد نے کہا: ’’یس سر…!‘‘ اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہی ملازم چائے اور دیگر لوازمات لے آیا۔ میزیں سیدھی کی گئیں۔ صاحب مع دوستوں کے چائے کی پیالی میں طوفان بپا کرنے کو تیار ہوئے۔ یہ منظر دیکھ کر بہت عجیب لگا اور آخرِکار صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹتے ہوئے ’’صاحب‘‘ کی شان میں یہ گستاخی کرنے کا مرتکب ہوا کہ: ’’آپ کا نائب قاصد دفتری ڈیوٹی میں کیسا ہے؟‘‘
افسر نے جواباً کہا: ’’اچھا ہے، بس موبائل دیکھنے کا بڑا شوقین ہے، باقی کوئی مسئلہ نہیں!‘‘
عرض کیا: ’’اگر اُس کو مسئلہ نہیں، تو یقیناً آپ کو بھی نہیں ہونا چاہیے… مگر جس کرسی پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں، اُس کو ضرور مسئلہ ہے۔‘‘
صاحب کے لیے یہ جملہ غیر متوقع تھا، اس لیے پوچھا: ’’کیا مسئلہ ہے کرسی کے ساتھ؟‘‘
جواباً عرض کیا کہ: ’’اتنے لوگوں کے سامنے اپنے نائب قاصد کو لمبے بالوں پر لتاڑنا یقیناً آپ کا مسئلہ نہیں، مگر اس کم بخت کرسی کا ہے، جس پر بیٹھنے والا نہ جانے خود کو کیا سمجھنے لگتا ہے!‘‘
افسر چوں کہ پڑھا لکھا تھا، اس لیے فوراً نکتے پر پہنچ گیا اور کہا: ’’شکریہ کہ آپ نے توجہ دلا دی، مجھے لوگوں کے سامنے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
یوں معاملہ بہ ظاہر رفع دفع ہوا۔ ہم باہر نکلے، تو وہی پُرجوش نائب قاصد ایسا افسردہ بیٹھا تھا، جیسے بھری بہار میں درختوں پر لہلہاتے سبز پتوں میں سے ایک پژمردہ ہوکر زمین پر گرنے ہی والا ہو۔
قارئین! اپنے ماتحتوں کے ساتھ افسرانِ بالا کا توہین اور حقارت کا مذکورہ معاملہ کسی ایک دفتر یا کسی ایک افسر تک محدود نہیں، بل کہ یہ ایک مکمل سماجی اور نفسیاتی مسئلہ ہے، جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ چلیے، موقع کی مناسبت سے ایک اور واقعہ سنیے: ایک اور دفتر میں نائب قاصد اجازت لے کر داخل ہوا، تو صاحب نے کچھ کہنے سے قبل حکمِ شاہی جاری کیا: ’’یہ کون سی ٹوپی پہنی ہوئی ہے… دفتر میں کوئی اس طرح آتا ہے؟‘‘ صاحب یہ بھول گیا تھا کہ ابھی صبح صبح ہے اور دفتر میں کچھ مہمان بھی موجود ہیں، مگر افسری کی شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ لہٰذا اگلا حکم یہ صادر ہوا: ’’فوراً یہ ٹوپی ہٹاؤ اور جاؤ، واش روم میں منھ ہاتھ دھو کر بال سنوارو اور پھر آجاؤ!‘‘ نائب قاصد بے چارے کا چہرہ دیدنی تھا، مگر حکم تو ماننا ہی تھا، لہٰذا فوراً ٹوپی ہٹائی، واش روم جاکر بال سنوارے اور واپس آگیا… مگر اگلا حکم سن کر پھر نکل گیا۔
مذکورہ افسر میرے لیے بھی اَن جان تھا، مگر ہم عمر یا کم عمر تھا… لہٰذا حفظِ مراتب، گریڈ اور سب کچھ بالائے طاق رکھ کر عرض کیا: ’’حضور! کیا نائب قاصد کے لیے ٹوپی پہننا منع ہے، کیا یہ کسی سیاسی پارٹی کی ٹوپی تھی، کیا نوکری دیتے وقت ایسی کوئی شرط رکھی گئی تھی کہ کس رنگ کی ٹوپی پہننی ہے، کس قسم کے بال رکھنے ہیں اور کنگھی کرنی ہے کہ نہیں؟‘‘
صاحب کے لیے یہ سوالات غیر متوقع تھے۔ کچھ کہنے کی ہمت کی، مگر کم از کم مجھے مطمئن نہ کرپائے۔ پھر اُسی نائب قاصد سے ایک اور دن ملاقات ہوئی، تو کہنے لگا: ’’سر! جو لوگ افسر بن جاتے ہیں، وہ ماتحتوں کے لیے فرعون کیوں بن جاتے ہیں؟‘‘
مَیں نے اُس کے سوال کے جواب میں سوال ہی پوچھا: ’’کیوں، کیا ہوا؟‘‘
کہنے لگا: ’’سر، آپ کو یاد نہیں؟ مجھے اپنے ’صاب‘ نے ٹوپی پہننے پر کتنا بے عزت کیا تھا؟‘‘
میرے پاس اُس نائب قاصد کو اس کے سوا کچھ کہنے کو نہیں تھا کہ: ’’سبھی ایسے نہیں ہوتے، کچھ اچھے افسر بھی ہوتے ہیں۔‘‘
قارئین! یہ معاملہ صرف ان دو مثالوں تک محدود نہیں، بل کہ عموماً تمام دفاتر اور خاص کر سرکاری دفاتر میں ماتحتوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ ہم چوں کہ انگریزوں کے غلام رہ چکے ہیں… اور انگریز یہاں ہماری خدمت نہیں، بل کہ حکم رانی کے لیے آئے تھے۔ اب انگریز کو گئے پچھتر سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر یہاں کے افسران کو ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ وہ حکم ران نہیں، بل کہ ’’سول سرونٹ‘‘ یعنی عوامی خادم ہیں۔ اب جو افسر اپنے ماتحت کے لیے قہر بن کر رہتا ہو، وہ کس طرح عوامی خادم ہوسکتا ہے؟
یہ معلوم کرنا چنداں مشکل نہیں کہ افسران کا یہ طبقہ ابھی تک ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ کے ساتھ جی رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق یہ لوگ ’’احساسِ برتری‘‘ کی بیماری میں مبتلا رہتے ہیں۔ نتیجتاً یہ ہمہ وقت اپنی طاقت کو آزمانا پسند کرتے ہیں۔ کیوں کہ طاقت کا نشہ ’’پاور ڈائنامکس‘‘ بھی ایک ذہنی کیفیت ہے، جس سے یہ لوگ مغلوب رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ ’’عدم احتساب‘‘ سے یہ طبقہ فیض یاب رہتا ہے۔ اس معاملے میں چوں کہ احتساب ہوتا نہیں، یا عموماً اس حوالے سے نہایت کم زور طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، لہٰذا افسران اپنی من مانی ماتحت، خاص کر نائب قاصد، کے ساتھ روا رکھنا اپنا حق سمجھتا ہے۔
اس ضمن میں لازم ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر استعدادِ کار بڑھانے کے لیے مختلف تربیتی پروگراموں کا اہتمام کیا جائے۔ اخلاقیات کو بنیادی نصاب کا حصہ بنایا جائے اور احترامِ آدمیت کو یقینی بنانے کے لیے افسرانِ بالا پر خصوصی نگرانی کا مؤثر طریقۂ کار وضع کیا جائے، تاکہ کسی کی غربت، کسی کے گریڈ اور کسی کی شخصیت کا استحصال نہ ہو۔ کیوں کہ افسر کی افسری، نائب قاصد کی وفاداری اور چابُک دستی ہی کی مرہونِ منت قائم رہتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے