پاکستان کا وقار سب سے بلند ہے۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں، ایک حقیقت ہے… ایک ایمان ہے، ایک ذمے داری ہے۔ یہ ملک ہماری پہچان ہے، ہماری شناخت ہے، ہماری اجتماعی روح کا مظہر ہے۔ جو قوم اپنی پہچان کھو دیتی ہے، وہ تاریخ کے اوراق سے مٹ جاتی ہے، اس کا وجود صرف کتابوں کی سطروں میں ایک عبرت بن کر رہ جاتا ہے۔
آج ہمیں رُک کر خود سے ایک سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم اپنی پہچان کو محفوظ رکھ رہے ہیں؟
بدقسمتی سے، ہم نے قومی معاملات کو اکثر سیاسی عینک سے دیکھنے کی عادت بنالی ہے۔ ہم ہر پالیسی، ہر فیصلے اور ہر قدم کو اپنی جماعت، اپنے لیڈر اور اپنی پسند و ناپسند کے پیمانے پر پرکھتے ہیں… مگر حقیقت یہ ہے کہ قومیں اس طرح نہیں بنتیں، نہ اس طرح زندہ ہی رہتی ہیں۔
ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر سوچنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست بعد میں آتی ہے، ملک پہلے آتا ہے۔ اگر ملک نہیں ہوگا، تو سیاست ہوگی، نہ جماعتیں ہوں گی، نہ اقتدار کی کش مہ کش ہی باقی رہے گی۔ یہی وہ بنیادی سچ ہے، جسے ہمیں دل و دماغ میں بٹھانا ہوگا۔
پاکستان کا وقار ہی ہماری اصل طاقت ہے۔ دنیا میں عزت انھی قوموں کو ملتی ہے، جو خود اپنی عزت کرتی ہیں، جو اپنے فیصلے اپنے مفاد میں کرتی ہیں اور جو اپنے قومی مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتیں۔ اگر ہم خود اپنے ملک کو کم زور دکھائیں گے، اگر ہم خود اپنے بیانیے کو متنازع بنائیں گے، تو دنیا ہمیں کیسے سنجیدہ لے گی؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر اپنی پالیسیوں کو دوسروں کے ردِعمل سے جانچنے لگتے ہیں۔ کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ بھارتی میڈیا کیا کَہ رہا ہے؟ کبھی ہم مغربی دنیا کی رائے کو حتمی سچ سمجھ لیتے ہیں… اور کبھی ہم علاقائی طاقتوں کے بیانیے میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ ایک خودمختار قوم کے شایانِ شان نہیں۔
ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ بھارت اپنے مفاد میں سوچتا ہے، امریکہ اور مغربی دنیا اپنے اسٹریٹیجک اہداف کے تحت فیصلے کرتی ہے، خلیجی ممالک اپنے معاشی اور سیاسی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہیں۔ تو پھر پاکستان کیوں اپنے لیے نہ سوچے؟
بہ طور قوم، ہمیں ایک واضح اصول اپنانا ہوگا: ہر پالیسی کو اس بنیاد پر جانچا جائے کہ اس سے پاکستان اور اس کے عوام کو طویل المدتی فائدہ کیا ہوگا؟ یہی وہ معیار ہے، جو ہمیں مضبوط بنائے گا، یہی وہ سوچ ہے، جو ہمیں باوقار بنائے گی۔
آج جب دنیا ایک غیر یقینی صورتِ حال سے گزر رہی ہے، جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور جنگ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، پاکستان کے پاس ایک سنہری موقع ہے؛ یہ موقع ہے امن کا علم بردار بننے کا، یہ موقع ہے دنیا کو یہ دکھانے کا کہ ہم ایک ذمے دار، سنجیدہ اور باوقار قوم ہیں۔
لیکن یاد رہے، امن کی کوششیں کم زوری نہیں ہوتیں۔ امن کی کوششیں دراصل طاقت کی علامت ہوتی ہیں۔ وہ قومیں جو جنگ کے بہ جائے امن کو ترجیح دیتی ہیں، وہی اصل میں تاریخ کا رُخ موڑتی ہیں۔
ہمیں اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی ترجیحات درست کرنی ہوں گی۔ ہمیں اپنی بحثوں کا رُخ بدلنا ہوگا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم نے صرف تنقید کرنی ہے، یا تعمیر بھی کرنی ہے؟
اگر ہم نے اپنی توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بہ جائے ملک کے لیے استعمال کرنا شروع کردیں، اگر ہم نے اپنی شناخت کو اپنی سیاست سے اوپر رکھ لیا، تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان ترقی کی راہ پر تیزی سے گام زن نہ ہو۔ ملک ہے، تو سیاست ہے۔ ملک کا وقار ہے، تو ہی دنیا آپ کو وقار اور عزت سے دیکھتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے ملک کی عزت کو مقدم نہ رکھا، تو دنیا بھی ہمیں وہ مقام نہیں دے گی، جس کے ہم حق دار ہیں۔
پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں… یہ ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے، ایک امید ہے۔ اور اس امید کو زندہ رکھنا، ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










