فیض احمد فیض (شخصیت و فن)

Blogger Sajid Aman (Swat)

جدید ادبی اور سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات کا ایسا مقام ہوتا ہے، جو محض ادیب یا شاعر نہیں رہتیں، بل کہ ایک عہد کی فکری، نظریاتی اور اخلاقی علامت بن جاتی ہیں۔ اُردو شاعری میں فیض احمد فیضؔ اسی نوعیت کی شخصیت کا نام ہے۔ اُن کی شاعری میں محبت اور انقلاب ایک دوسرے سے جدا نہیں، بل کہ ایک ہی انسانی تجربے کے دو پہلو نظر آتے ہیں۔
فیضؔ کی زندگی کو اگر غور سے دیکھا جائے، تو اس میں صرف ایک شاعر کی داستان نہیں، بل کہ بیس ویں صدی کی سیاسی کش مہ کش، سماجی ناہم واریوں کے خلاف جد و جہد اور انسانی آزادی کے خواب کی پوری تاریخ منعکس ہوتی ہے۔
1911 میں سیالکوٹ کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں ’’کالا قادر‘‘ میں پیدا ہونے والے فیضؔ ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے، جہاں علم و ادب کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ اُن کے والد سلطان محمد خان، فارسی اور عربی کے عالم اور وسیع النظر انسان تھے۔ گھر میں علمی گفت گو اور ادبی ذوق کی فضا موجود تھی۔ یہی فیضؔ کی خوش قسمتی تھی، اور یہی وجہ تھی کہ کم عمری ہی میں اُنھیں فارسی شاعری اور کلاسیکی ادب سے گہرا شغف ہوگیا۔ سیالکوٹ کا یہی شہر اقبالؔ کی نسبت سے بھی علمی روایت کا مرکز سمجھا جاتا رہا، اور اسی فکری ماحول نے نوجوان فیضؔ کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔
اعلا تعلیم کے لیے جب فیضؔ لاہور آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے، تو اُن کے سامنے فکری دنیا کے نئے در وا ہوئے۔ یہاں اُنھوں نے انگریزی ادب اور عربی میں اعلا تعلیم حاصل کی، مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اُنھوں نے عالمی ادب، روسی ناول نگاروں اور یورپی فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا۔ اسی دوران میں اُن کے ذہن میں یہ سوالات جنم لینے لگے کہ معاشرے میں غربت، استحصال اور ناانصافی کیوں موجود ہیں؟
یہی وہ زمانہ تھا جب فیضؔ اُس ادبی تحریک کے قریب آئے جسے ’’انجمنِ ترقی پسند مصنفین‘‘ کہا جاتا ہے۔ جہاں پہلے ہی ہم خیال دانش ور موجود تھے۔ مذکورہ تحریک کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ادب کو سماجی زندگی سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔ ادیب کا کام صرف حسن و عشق کی باتیں کرنا نہیں، بل کہ ظلم، استحصال اور طبقاتی ناہم واری کے خلاف آواز اٹھانا بھی ہے۔ فیضؔ نے اس نظریے کو نہایت گہرائی سے محسوس کیا، مگر اُن کا انداز دوسرے ترقی پسند ادیبوں سے یک سر مختلف اور نرالا تھا۔ وہ انقلاب کو سخت نعروں میں نہیں، بل کہ نرم اور انسانی استعاروں میں بیان کرتے تھے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیضؔ نے تدریس کو اختیار کیا اور ’’ایم اے اُو کالج، امرتسر‘‘ میں انگریزی کے استاد مقرر ہوئے۔ تدریس کے دوران میں وہ طلبہ کو صرف ادب نہیں پڑھاتے تھے، بل کہ اُنھیں تنقیدی شعور اور سماجی آگہی کی طرف بھی متوجہ کرتے تھے۔ اسی عرصے میں اُن کی شاعری بھی ادبی حلقوں میں مقبول ہونے لگی۔
’’دوسری عالمی جنگ‘‘ کے دوران میں فیضؔ کی زندگی میں ایک غیر متوقع موڑ آیا اور اُنھوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی۔ وہ فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔ فوجی زندگی نے اُنھیں طاقت، ریاست اور جنگ کی حقیقتوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ اس تجربے نے اُن کے اندر یہ احساس مزید گہرا کر دیا کہ جنگ اور طاقت کی سیاست دراصل عام انسان کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
پھر جب 1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا، تو فیضؔ نے صحافت کو اپنا میدان بنایا۔ وہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے مدیر بنے اور ساتھ ہی اُردو اخبار ’’امروز‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ اُس دور میں اُن کے اداریے ’’جمہوریت‘‘، ’’مزدور حقوق‘‘ اور ’’سماجی انصاف‘‘ کے حق میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا، جب فیضؔ کے سیاسی نظریات پوری طرح نمایاں ہوکر سامنے آئے۔
فیضؔ بنیادی طور پر ایک ترقی پسند اور انسان دوست فکر کے حامل تھے۔ اُن کے نظریات پر ’’مارکسی فکر‘‘ کا اثر ضرور تھا، مگر وہ کسی سخت نظریاتی سانچے کے بہ جائے رومانوی اور انسانی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ فیضؔ کے نزدیک اصل مقصد انسان کو استحصال اور ناانصافی سے آزاد کرنا تھا۔ اسی لیے اُن کے روابط ’’بائیں بازو‘‘ کے حلقوں اور ’’کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان‘‘ کے بعض راہ نماؤں سے بھی رہے۔ فیضؔ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اُنھوں نے نظریات کو انسانی جذبات کے ساتھ جوڑ دیا۔
1951 میں جب پاکستان کی تاریخ کا مشہور مقدمہ ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ سامنے آیا، تو فیض کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ یہ اُن کی زندگی کا سب سے کٹھن اور ڈرامائی دور تھا۔ اُنھیں کئی برس قید میں رہنا پڑا… مگر قید نے اُن کی امید کو ختم نہیں کیا، بل کہ اُن کی شاعری کو ایک نئی گہرائی عطا کی۔
جیل کے دنوں میں فیضؔ نے جو نظمیں لکھیں، وہ اُردو ادب کا لازوال سرمایہ بن گئیں۔ اُن نظموں میں ایک عجیب سی کیفیت ہے؛ درد ہے، تنہائی بھی ہے… مگر اس کے ساتھ ایک روشن امید بھی موجود ہے۔ یہی نظمیں بعد میں اُن کے مجموعۂ کلام ’’زِنداں نامہ‘‘ میں شامل ہوئیں۔
فیضؔ کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محبت اور انقلاب ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اُن کے ہاں محبوب صرف ایک فرد نہیں، بل کہ پوری انسانیت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے مجموعے ’’نقشِ فریادی‘‘، ’’دستِ صبا‘‘ اور ’’دستِ تہِ سنگ‘‘ اُردو شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
فیضؔ صرف شاعری میں محبت اور وفاداری کی بات نہیں کرتے تھے، بل کہ اُن کی ذاتی زندگی میں بھی تعلق، دوستی اور خلوص کا گہرا رنگ موجود تھا۔ اُن کی شادی برطانوی نژاد سماجی کارکن ’’ایلس فیض‘‘ سے ہوئی۔ ایلس نے فیضؔ کے جیل کے دنوں میں بھی اُن کا حوصلہ بلند رکھا۔ اُن کی دو بیٹیاں، سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی، بعد میں پاکستان کے ثقافتی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرنے لگیں۔
فیضؔ نے جیل سے ایلس کے نام جو خطوط لکھے، وہ یقین اور بے یقینی کے درمیان ایک خود کلامی کی صورت رکھتے ہیں، جو بعد میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئے اور ادبی سرمایہ بن گئے۔
پاکستان میں جب آمریت کے ادوار آئے، تو فیضؔ کی شاعری ایک مزاحمتی آواز بن گئی۔ خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اُن کی نظم
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے…!
جمہوریت پسند تحریکوں کی علامت بن گئی۔ مذکورہ نظم میں فیضؔ کا وہ یقین جھلکتا ہے کہ ظلم کا نظام ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا اور ایک دن انصاف کی روشنی ضرور طلوع ہوگی۔
فیضؔ کی شہرت پاکستان تک محدود نہ رہی۔ اُنھیں عالمی امن کے لیے خدمات کے اعتراف میں ’’لینن امن ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ وہ بیروت میں افرو ایشیائی ادیبوں کے رسالے ’’لوٹس‘‘ کے مدیر بھی رہے، جو ایک بڑا اعزاز تھا۔ اس طرح وہ مسلسل دنیا کے مختلف ممالک میں ادبی تقریبات میں شرکت کرتے رہے۔
1984 میں جب فیض احمد فیضؔ اس دنیا سے رخصت ہوئے، تو وہ صرف ایک شاعر نہیں، بل کہ ایک نظریے کا استعارہ بن چکے تھے۔ اُن کی شاعری میں محبت، امید، انقلاب اور انسانی وقار کا ایسا حسین امتزاج ہے، جو اُردو ادب میں کم ہی نظر آتا ہے۔ فیضؔ کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ اُنھوں نے شاعری کو محض جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رکھا، بل کہ اسے انسانی آزادی اور سماجی انصاف کی جد و جہد کا مؤثر وسیلہ بنا دیا۔ اسی لیے آج بھی جب ظلم کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے، تو فیضؔ کے اشعار گونجنے لگتے ہیں۔ اُن کی شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کا خواب کبھی ختم نہیں ہوتا اور شاعر اس خواب کا سب سے وفادار نگہ باں ہوتا ہے۔ اسی لیے تو بہ جا طور پر کہتے ہیں کہ جس نے فیضؔ کو نہیں پڑھا، اُس نے کچھ نہیں پڑھا… اور جس نے فیضؔ کو پڑھ کر اُنھیں اپنے اندر محسوس نہیں کیا، وہ گویا زندہ ہی نہیں۔
فیض کی اس نظم کے ساتھ اجازت کا خواست گار ہوں کہ
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں تڑپ لیں رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم
آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد
اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار
چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد
دل کی بے سود تڑپ جسم کی مایوس پکار
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’انجمنِ ترقی پسند مصنفین‘‘ (Progressive Writers’ Association):۔ یہ دراصل ایک ادبی تحریک تھی، جو 1930 کی دہائی میں برصغیر میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد ادب کے ذریعے سماجی انصاف، مساوات اور استعماری نظام کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ 1935 میں لندن میں، سجاد ظہیر اور ساتھی ادیبوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔
2) ’’ایم اے اُو کالج، امرتسر‘‘ (M.A.O. College at Amritsar):۔ یہ ادارہ ’’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جو علی گڑھ تحریک کے زیرِ اثر قائم ہوا اور تعلیمِ جدید کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔
3) ’’دوسری عالمی جنگ‘‘ (World War II):۔ 1939 سے 1945 تک جاری رہنے والی ایک عظیم جنگ، جس میں دنیا کی بڑی طاقتیں شامل ہوئیں اور نتیجے میں عالمی سیاست، معیشت اور نقشہ بدل گیا۔
4) ’’پاکستان ٹائمز‘‘ (The Pakistan Times):۔ 1947 میں لاہور سے شائع ہونے والا ایک معروف اُردو-انگریزی اخبار، جسے فیض احمد فیض اور اُن کے ساتھیوں نے قائم کیا۔ یہ اخبار ترقی پسند فکر، سماجی انصاف اور عوامی مسائل کی ترجمانی کے لیے مشہور رہا۔
5) ’’امروز‘‘ (Imroz):۔ لاہور سے شائع ہونے والا ایک معروف اُردو روزنامہ، جسے 1947 میں شروع کیا گیا۔ یہ اخبار فیض احمد فیضؔ اور ترقی پسند فکر سے وابستہ صحافیوں اور ادیبوں کے زیرِ اثر نکلا تھا۔ اپنی ادبی و فکری معیار کے باعث اس نے نمایاں مقام پیدا کیا تھا۔
6) ’’مارکسی فکر‘‘ (Marxist Ideology):۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے نظریات پر مبنی ایک فکری و سیاسی فلسفہ، جو معاشرتی مساوات، طبقاتی جد و جہد اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔
7) ’’کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان‘‘ (Communist Party of Pakistan):۔ یہ پارٹی 6 مارچ 1948 کو قائم ہوئی، جس کے بانی سجاد ظہیر تھے۔ یہ پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے الگ ہوکر وجود میں آئی اور اس کا نظریہ مارکسزم–لیننزم کا فروغ تھا۔
8) ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ (Rawalpindi Conspiracy Case):۔ 1951 میں پاکستان میں ایک مبینہ بغاوت کا منصوبہ سامنے آیا، جس میں فوجی افسران اور ترقی پسند ادیب شامل تھے۔ اس مقدمے میں فیض احمد فیضؔ اور سجاد ظہیر جیسے بڑے نام گرفتار ہوئے۔ حکومت نے اسے ریاست کے خلاف سازش قرار دیا اور سخت کارروائی کی گئی۔
9) ’’لینن امن ایوارڈ‘‘ (Lenin Peace Prize):۔ سوویت یونین کی جانب سے دیا جانے والا ایک بین الاقوامی اعزاز تھا، جو امن، آزادی اور سامراج مخالف جدوجہد میں نمایاں خدمات پر دیا جاتا تھا۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے