(نوٹ:۔ یہ تحریر موقع کی مناسبت سے ڈاکٹر رفیع اللہ نے 19 اپریل 2026 کو ارسال کی تھی۔ ادارہ اسے بروقت شائع نہیں کرپایا، اس غفلت کے لیے ادارہ ڈاکٹر رفیع اللہ کے ساتھ ساتھ معزز قارئین سے بھی معذرت خواہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
آج (19 اپریل) عالمی سطح پر ہیریٹیج، یعنی تاریخی و ثقافتی ورثے، کا دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ضروری ہے کہ ہم روایتی انداز سے ہٹ کر ایک طرح سے تجدیدی زاویے سے غور و فکر کریں۔
میرے خیال میں آج کے دور میں ورثے کی وضاحت کرنا ایک مشکل کام بن چکا ہے، تاہم ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ یہ ماضی سے ملنے والی وہ مادی اور غیر مادی چیزیں ہیں، جن کے ساتھ ہمارا ایک جاری تعلق، واضح شناخت اور عملی مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ ایک جامد اسم کے بہ جائے ایک متحرک اور ہمہ جہت فعل کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس طرح ہم ورثے کو اپنے قریب اور موجود تصور کرتے ہیں، جب کہ تاریخ کے ساتھ اس نوعیت کا تعلق قائم کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔
جب ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ورثے کو اسم کے بہ جائے فعل کے طور پر سمجھنا چاہیے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ورثہ ایک مسلسل بدلتا ہوا عمل ہے۔ اس میں نئی نئی معنویت پیدا کی جاسکتی ہے، نئے پہلو سامنے آتے ہیں، تعلقات قائم اور منقطع ہوتے ہیں… اور اسی لیے ورثہ خود تشکیل، تحفظ اور انہدام کے ایک جاری عمل سے گزرتا ہے۔ سماجی شناختیں اور تنازعات بھی اسی عمل کا لازمی حصہ اور نتیجہ ہوتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں بھی ہم یہ سب کچھ شدت اور تیزی کے ساتھ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ جیسا کہ بھارت میں بابری مسجد کا انہدام اور مسلم دور کے دیگر آثار کا غیر محفوظ ہونا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اسی طرح افغانستان میں 2001 میں بامیان کے مجسموں کی تباہی اور 2007 میں سوات میں جہان آباد بدھ کا نقصان بھی ورثے کی سیاست کی ایک شکل ہے۔ پورے مشرقِ وسطیٰ، بہ شمول ایران، میں گذشتہ چند دہائیوں سے جنگوں اور تشدد کے باعث ورثے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اب بھی پہنچ رہا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ انسانی ورثے کے خلاف ریاستی جبر اور تسلط کی سیاست کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔ تاہم انسانی ورثہ صرف اُن چیزوں تک محدود نہیں، جو ریاستیں ہمیں بتاتی ہیں اور جن کے تحفظ کی وہ دعوے دار ہوتی ہیں۔
انسانی ورثہ، ریاستی اور اشرافی توجہ سے ہٹ کر معاشرے کے ’’مارجنز‘‘ یعنی حاشیوں پر زیادہ اور زیادہ موثر انداز میں موجود ہے۔ بدقمتی سے یہ بامعنی ورثہ اس قدر نظر انداز کیا گیا ہے کہ کسی پالیسی یا پروگرام کا حصہ نہیں بنتا۔ ایسا کیوں ہے…؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عوامی، سماجی اور سبالٹرن (Subaltern) نوعیت کا حامل ہے۔ یہ اشرافی شناختوں سے ہٹ کر عام معاشرے کی وہ دنیا، تعلق اور رواداری اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جو نفرت اور انتشار کے بہ جائے اجتماعیت، باہمی برداشت اور ہم دردی کی بنیادیں فراہم کرتا ہے اور ان کا درس دیتا ہے۔ یہی وہ ورثہ ہے، جو ہم تیزی سے مذہبی تجدید ٬ پیؤریٹنزم (Puritanism) اور بے قابو جدیدیت کے عمل کے باعث کھو رہے ہیں۔ مزارات ختم ہوگئے، میلے ختم ہوگئے، خیرات کے طریقے بدل گئے، وغیرہ۔ اس کے نتیجے میں سماجی فاصلے بڑھتے ہیں، بے جا چپقلشیں جنم لیتی ہیں اور پورے پختونخوا میں قبائلی اور تنگ نظری پر مبنی شناختی سیاست یا بحران شدت سے پھیل رہا ہے، جس کی ایک حالیہ مثال ’’یوسفزئی جشنِ پختونخوا‘‘ ہے۔
یہ جشنِ پختونخوا شناختی سیاست کے جاری بحران میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اس کے باعث سماجی انتشار میں اضافہ ہوسکتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیسے…؟
جب ہم شناختی سیاست کی بات کرتے ہیں، تو ضروری ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ شناختی سیاست دراصل مابعد جدید دور کا وہ رجحان ہے، جس میں نسل، علاقہ، جنس وغیرہ کی بنیاد پر ایک مخصوص نوعیت کی سیاست کی جاتی ہے۔ یہ دراصل اپنے وجود کے دفاع کی ایک صورت ہے، جس میں بنیادی نکتہ ’’احساسِ مظلومیت‘‘ ہوتا ہے۔ ایسے گروہ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناقابلِ تلافی زیادتی ہوئی ہے اور یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کس کے ظلم کا شکار ہیں۔ یہ ایک نہایت نازک صورتِ حال ہوتی ہے، جو اکثر سماجی بحرانوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ جشنِ پختونخوا کے ساتھ یہ شناختی سیاست ایک نئی شکل اختیار کرسکتی ہے، چاہے یہ عمل فوری طور پر نمایاں نہ بھی ہو۔
کون کس سے خطرے میں ہے…؟ مَیں یہ نہیں سمجھتا کہ عوام، عوام ہی سے اس قدر سنگین خطرے میں ہیں۔ تاہم سماجی اور معاشی تبدیلیاں انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں اور انھیں روکا نہیں جاسکتا۔ ہمیں قبلِ جدید دور سے جدید دور کی طرف منتقلی کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا، اور یہ سفر ہمارے کنٹرول میں ہے بھی نہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ثقافتی اور تاریخی شعور کی روشنی میں ایک دوسرے کے وجود، انسانی حرمت اور سماجی آزادی کا احترام کریں… اور یہی ہمیں اس ورثے کے تصور میں ملتا ہے، جس کی وضاحت اوپر کی سطور میں کی گئی ہے۔
آخر میں، مَیں یہ کہنا چاہوں گا کہ جدید دور میں ’’ٹرائب‘‘ یعنی قبیلہ ایک خطرناک تصور بن چکا ہے۔ سوشل سائنسز، خصوصاً ’’بشریات‘‘ میں اس پر کافی تحقیق ہوئی ہے… اور ریاستی پالیسیوں میں اس تصور کا استعمال معاشروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ لہٰذا آج کے عالمی یومِ ورثہ پر ہمیں اشرافیہ یا نسلی و مذہبی شناختوں کے بہ جائے انسانی رواداری، اتحاد اور مظلوم طبقات کے احترام اور وقار کو فروغ دینے کا عہد کرنا چاہیے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات کی وضاحت:
1) بابری مسجد کا انہدام (Babri Masjid demolition):۔ 6 دسمبر 1992 کو بھارت کے شہر ایودھیا میں کٹر ہندوؤں کے ایک بڑے ہجوم نے 16ویں صدی کی بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ ان کا دعوا اور عقیدہ تھا کہ یہ مسجد بھگوان رام کی جائے پیدایش پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد جنوبی ایشیا کے بہت سے ممالک میں شدید مذہبی فسادات پھوٹ پڑے، جن میں بے شمار افراد ہلاک ہوئے، اور ہندو مسلم تعلقات میں گہری کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
2) بامیان کے مجسموں کی تباہی (Destruction of the Bamiyan Buddhas):۔ فروری 2001 کے اختتام سے لے کر مارچ تک افغانستان میں طالبان حکومت نے بامیان وادی میں واقع صدیوں پرانے بدھ مت کے عظیم مجسموں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا۔ یہ مجسمے تقریباً سات ویں صدی عیسوی کے تھے اور عالمی ثقافتی ورثے کا اہم حصہ سمجھے جاتے تھے۔ طالبان نے انھیں غیر اسلامی قرار دیا، جب کہ دنیا بھر میں اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی اور اسے انسانی ورثے کے خلاف بڑا نقصان قرار دیا گیا۔
3) جہان آباد بدھ (Jehanabad Buddha Swat):۔ یہ سوات کا عظیم تاریخی ورثہ ہے، جسے سات ویں صدی میں گندھارا تہذیب کے دور میں چٹان پر تراشا گیا۔ یہ تقریباً 23 فٹ بلند مجسمہ ہے، جس میں بدھ کو مراقبے کی حالت میں دکھاتا ہے اور اس کے چہرے پر سکون و روحانیت جھلکتی ہے۔ 2007 میں شدت پسندوں نے اس کے چہرے کو نقصان پہنچایا، مگر اطالوی آثارِ قدیمہ مشن نے جدید ٹیکنالوجی سے اس کی بہ حالی کی اور 2012 میں اسے اصل حالت کے قریب واپس لایا۔
4) سبالٹرن (Subaltern):۔ اس اصطلاح سے مراد وہ محروم اور کم زور طبقات ہیں، جو اقتدار، دولت اور سماجی اثر سے دور رکھے گئے ہوں۔ اسے اطالوی مفکر گرامچی نے استعمال کیا۔ بعد میں یہی اصطلاح برصغیر میں رنجیت گوہا اور بہت سارے اور مشہور مؤرخین نے عوامی تاریخ نویسی کے لیے ایک تھیوری کے طور پر اپنائی۔ ’’سبالٹرن اسٹڈیز‘‘ عام اور بے آواز لوگوں کی جد و جہد اور نظر انداز شدہ آوازوں کو نمایاں کرتی ہیں۔
5) پیؤریٹنزم (Puritanism):۔ یہ وہ نظریہ ہے جس کے تحت مذہب کو مذہبی کتابوں کے لغوی معنوں کی روشنی میں ثقافتی پس منظر کے محرکات٬ رسم و رواج اور اثرت سے پاک رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔
6) مابعد جدید دور (Postmodern Era):۔ یہ ایک فکری و ثقافتی مرحلہ ہے، جو بیس ویں صدی کے وسط میں ابھرا۔ یہ دور روایت، حقیقت اور مطلق سچائی کے انکار پر مبنی ہے۔ اس میں کثرتِ آرا، تنوع اور فرد کی آزادی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ فن، ادب اور فلسفہ میں یہ دور غیر یقینی، تنقید اور نئے زاویوں کو اجاگر کرتا ہے۔
7) قبلِ جدید دور (Pre-modern Era):۔ وہ تاریخی مرحلہ، جو صنعتی انقلاب اور جدیدیت سے پہلے کا زمانہ ہے۔ اُس دور میں معاشرت زیادہ تر زرعی اور دیہی بنیادوں پر قائم تھی، علوم و فنون مذہب اور روایت کے زیرِ اثر تھے اور سیاسی نظام بادشاہت یا جاگیرداری پر مبنی تھا۔ فرد کی آزادی محدود، جب کہ اجتماعی اقدار غالب تھیں۔
8) سوشل سائنسز (Social Sciences):۔ یہ وہ علمی شعبہ ہے، جو انسان، معاشرہ اور سماجی رویوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس میں تاریخ، عمرانیات، سیاسیات، معاشیات، نفسیات اور بشریات شامل ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ انسانی تعلقات، اداروں اور سماجی ڈھانچوں کو سمجھا اور بہتر بنایا جاسکے۔
9) بشریات (Anthropology):۔ یہ انسان اور انسانی معاشرت کا مطالعہ ہے۔ یہ علم، انسان کی جسمانی ساخت، ثقافت، زبان، رسوم و رواج اور ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مختلف معاشروں اور تہذیبوں کے تنوع کو جانا اور انسانی زندگی کے بنیادی پہلوؤں کو واضح کیا جائے۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، جن پر ڈاکٹر رفیع اللہ بھی نظرِ ثانی کرچکے ہیں، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










