پاپین خیل میاں گان (دوسرا حصہ)

فتحِ باجوڑ کے بعد ظہیر الدین بابر، گبری سرداروں اور خواجہ کلاں کو اپنے ہم راہ ہندوستان لے گئے، جہاں انھوں نے ابراہیم لودی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ فتح کے بعد خواجہ کلاں کو باجوڑ سے کابل تک کا نگران حاکم مقرر کرکے واپس جانے کی اجازت دی گئی، جب کہ دیگر مَلَکان […]
سوات امن پاسون: مثبت اور منفی پہلو

نوٹ:۔ زیرِ نظر تحریر دراصل ڈاکٹر رفیع اللہ کی پشتو زبان میں تخلیق ہے، جسے صادق کاکڑ نے اُردو کے قالب میں ڈھالا۔ مَیں نے اب تک جلسے جلوسوں میں شاذ و نادر ہی شرکت کی ہے… اور یہی حال علمی و ادبی نشستوں کا بھی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں، تاریخ کے ایک طالب […]
دہشت گردی، قومی قیادت اور اجتماعی ذمے داری

پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو کسی بڑے بحران کا سامنا ہوا، تو قومی قیادت نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ چاہے جنگ کا خطرہ ہو، قدرتی آفات ہوں، معاشی بحران ہو یا دہشت گردی کی سنگین لہر، ایسے […]
ثور انقلاب کی تاریخ (پانچویں قسط)

افغانستان میں ثور انقلاب کو ابھی ڈیڑھ سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ اس کے معمار خود ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوچکے تھے۔ جس انقلاب کو خلق پارٹی کی قیادت نے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا تھا، وہ اب اپنے ہی راہ نماؤں کی باہمی کش مہ کش، عوامی مزاحمت […]
جمہوریت یا مجبوریت؟

کسی بھی ریاست کے قیام کا مقصد صرف جغرافیائی آزادی حاصل کرنا نہیں ہوتا، بل کہ ریاست کا وجود جمہوری اور سیاسی اقدار کی روشنی میں عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی اور جمہوری اقدار و روایات کبھی اُس معیار پر پورا نہیں […]
پاپین خیل میاں گان (پہلا حصہ)

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں، قبائل اور خاندان ہمیشہ سے انسانی معاشرے کا حصہ رہے ہیں۔ اسلام نے ان فطری تقسیمات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا مقصد صرف باہمی تعارف قرار دیا ہے، نہ کہ فضیلت، برتری یا تفاخر۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:’’اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد […]
ثور انقلاب کی تاریخ (چوتھی قسط)

ثور انقلاب کی کام یابی کے بعد کابل کی فضا میں فتح کے نعرے گونج رہے تھے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی سے ایک ایسی کش مہ کش جنم لے رہی تھی، جو آنے والے مہینوں میں خود انقلاب کے معماروں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دے گی۔ افغانستان کی تاریخ میں شاید […]
ویوز کی دوڑ اور سوشل میڈیا کا بحران

سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے، علم کی ترویج اور عوامی رابطوں کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ہر نعمت کی طرح اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ پاکستان میں فیس بُک کی مونیٹائزیشن کے بعد ایک نیا رجحان انتہائی تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ اب بہت سے لوگوں کا اصل مقصد علم، […]
پاکستانی معیشت کا دوراہا

معیشت کے لغوی معنی جینے کا سہارا، کھانے پینے اور گزر بسر کا سامان کے ہیں، جب کہ اصطلاحی طور پر اس سے مراد آمدنی کے ذرائع، کاروبار، تجارت، دولت کی پیداوار، اس کی تقسیم اور ملکی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا وہ مربوط نظام ہے، جس پر کسی بھی ریاست کی خوش حالی کا […]
سوشل میڈیا پر پختون کی نئی شناخت: موقع یا المیہ؟

پختونوں کو ہمیشہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ پاکستان کا مین اسٹریم میڈیا اُن کی درست نمایندگی نہیں کرتا۔ کبھی اُنھیں دہشت گردی کے استعارے کے طور پر پیش کیا گیا، کبھی جاہل، بے وقوف اور غیر مہذب کرداروں میں قید کر دیا گیا، جب کہ ڈراموں اور فلموں میں اکثر اُن کا کردار […]
نان کسٹم پیڈ گاڑیاں… نعمت یا مصیبت؟

ملاکنڈ ڈویژن میں ایک عرصے سے نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں کا استعمال جاری ہے۔ ابتدا میں یہ رجحان صرف موٹر کاروں تک محدود تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی گاڑیاں اور دیگر مشینری سمگل ہو کر ڈویژن کے تمام اضلاع تک پہنچ گئی۔ آج ایک بڑی تعداد میں یہ گاڑیاں، […]
ثور انقلاب کی تاریخ (دوسری قسط)

پچھلی قسط میں ہم نے انقلاب سے پہلے افغانستان کا جائزہ لیا تھا، جہاں بہ ظاہر بادشاہت قائم تھی، مگر اندر ہی اندر تبدیلی کی کئی لہریں جنم لے رہی تھیں۔ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ نوجوان سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہو رہے تھے، تو دوسری طرف مذہبی اور قوم پرست حلقے بھی اپنی اپنی […]
اصل نقصان کس کا…؟

’’جب آپ اپنے تعلقات کو بچانے کے لیے اپنے جذبات کو دباتے ہیں، تو آپ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ بہ ظاہر ذاتی تعلقات کے بارے میں محسوس ہوتا ہے، مگر اس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ سیاست، سماجی قیادت، تنظیمی وابستگی اور عوامی نمایندگی میں بھی […]
دنیا خواب خریدتی ہے!

ہر عظیم عمارت دو مرتبہ بنتی ہے۔ پہلی بار کسی انسان کے ذہن میں اور دوسری بار زمین پر۔ اگر پہلی تعمیر نہ ہو، تو دوسری کبھی وجود میں نہیں آتی۔ یہی اُصول قوموں، تہذیبوں، ایجادات، سلطنتوں اور معیشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اُن کی ابتدا […]
ریاست سوات: سنہرا ماضی، کھویا ہوا ورثہ

ریاست سوات کا ذکر آتے ہی دل بے اختیار اُس دور میں چلا جاتا ہے، جب یہ سرزمین صرف قدرتی حسن ہی نہیں، بل کہ اعلا تہذیب، امن، اُخوت اور بہترین انتظام کا بھی نمونہ تھی۔ اُس وقت کی فضا صاف، ہوا خالص، پہاڑ سرسبز اور ماحول قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ سڑکوں کے […]
ثور انقلاب کی تاریخ (پہلی قسط)

افغانستان اور خطے کی تاریخ میں 27 اپریل 1978 کا دن ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نہ صرف اس ملک کی تقدیر بدل دی، بل کہ پورے خطے کو کئی دہائیوں تک جنگ، نظریاتی کش مہ کش اور عالمی طاقتوں کی رقابتوں کی آماج گاہ بنا دیا۔ اُس دن رونما ہونے […]
جدید جنگیں، اور ہمارے لیے بڑھتے ہوئے خدشات

جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی، البتہ جنگیں اپنے پیچھے ناقابلِ تلافی نقصان، تباہی اور گہرے زخم چھوڑ جاتی ہیں، اور رہتی دنیا تک ان کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔جنگ میں بے گناہ لاکھوں شہریوں سمیت فوجی بھی مارے جاتے ہیں، ہزاروں افراد دیگر ممالک کی جانب نقلِ مکانی پر مجبور ہو جاتے […]
سوات و قبائلی اضلاع، پس ماندگی کی سزا؟

آئینی تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں, تو معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 1947 سے لے کر 2018 تک، سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو مملکتِ پاکستان کے دیگر حصوں کی نسبت ایک منفرد اور الگ آئینی حیثیت حاصل تھی۔ 1973 کے آئین کے تحت ان علاقوں کو ٹیکسوں کے نظام سے استثنا دیا گیا […]
غیر منظم سیاحت، ماحولیاتی تباہی اور انتظامی ناکامی

جب ہم سوات کی سیاحت کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے پاس کوئی ایسا پراڈکٹ ہونا چاہیے، جسے ہم بیچ کر پیسے کماسکیں۔ ہمارے پاس پہلے نمبر پر دریائے سوات ہے اور دوسرے نمبر پر ہماری آب و ہوا یا موسم۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاحتی وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں اور اس […]
بے ہنگم ٹریفک اور اس کا حل

کاںٔنات کے نظام پرغور کریں، تو ہر سیارہ اپنے مدار میں مقررہ وقت پر گردش کرتا نظر آتا ہے۔ زمین پر چھوٹی چھوٹی چیونٹیاں بھی قطار بنا کر چلتی ہیں، لیکن انسان عقل و شعور کے باوجود بار بار سمجھانے پر بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔کہیں واضح بورڈ پر لکھا ہوگا کہ سڑک […]
درویش منش شاعر محمد حنیف قیس

بعض لوگ صرف شعر نہیں کہتے، بل کہ اپنی پوری زندگی کو ایک ایسی نظم بنا دیتے ہیں، جس کی خوش بو نسلوں تک محسوس کی جاتی ہے۔ادب کسی بھی قوم کی روح، تہذیب کا آئینہ اور تاریخ کا زندہ حافظہ ہوتا ہے۔ یہی ادب قوموں کی فکری سمت متعین کرتا، احساسات کو زبان دیتا […]