غیر منظم سیاحت، ماحولیاتی تباہی اور انتظامی ناکامی

Blogger Afzal Shah Bacha

جب ہم سوات کی سیاحت کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے پاس کوئی ایسا پراڈکٹ ہونا چاہیے، جسے ہم بیچ کر پیسے کماسکیں۔ ہمارے پاس پہلے نمبر پر دریائے سوات ہے اور دوسرے نمبر پر ہماری آب و ہوا یا موسم۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاحتی وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں اور اس سے سوات کی سیاحت کس طرح متاثر ہو رہی ہے؟
قارئین! سیاحت کی کئی اقسام ہیں، جو مذہبی سیاحت سے لے کر طبی، کھیلوں، تاریخی اور زرعی سیاحت کے ساتھ ساتھ بہتر موسم کی سیاحت قابلِ ذکر ہے۔
سوات کو قدرت نے معتدل موسم کے ساتھ ساتھ بہترین دریا سے بھی نوازا ہے۔ ایک عرصے سے ہمارے سیاحتی اور دیگر ادارے ریکارڈ سیاحت کے دعوے کرتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سوات کی سیاحت کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ ’’غیر منظم سیاحت‘‘ سے سوات کی سیاحت اور ماحولیات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ مَیں خود مختلف علاقوں کا ایک ہفتے کا دورہ کرکے آیا ہوں۔ دورے کے بعد تباہی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ سوات کے لوگوں اور سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو پتا ہی نہیں کہ ہم کتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں!
زیریں سوات سے لے کر اَپر سوات کے تمام سیاحتی مقامات پر مسلسل کچرا پھینکا جا رہا ہے۔ دریا کے کنارے جا بہ جا پلاسٹک کی بوتلیں، شاپر اور دیگر گندگی کے ڈھیر لگے ہیں۔ یہ گندگی سوات لنڈاکے سے لے کر دریا کے کنارے اور سڑک کے دونوں طرف جگہ جگہ بکھری دکھائی دیتی ہے۔ سوات کے کالام کے جنگل سے لے کر مہوڈنڈ سیف اللہ جھیل اور ڈونچار آبشار جو سیف اللہ جھیل سے چھے کلومیٹر دور ہے، کوڑا جا بہ جا بکھرا پڑا ہے۔
ایک مہمان، جو ہم سے آگے جا رہا تھا، نے سٹنگ کی بوتل پھینکی۔ مَیں نے پیچھے سے آواز دی: ’’محترم، آپ نے کوئی چیز گرائی ہے!‘‘ وہ بالکل شرمندہ نہیں ہوا، بل کہ اُس کے ساتھیوں نے کہا: ’’ہم نے اس کو بتایا تھا کہ بے جا کچرا نہیں ڈالیں گے۔‘‘
سوال یہ ہے کہ کس طرح ہم اس تباہی کو روک سکتے ہیں، ماحولیاتی تبدیلی کے جن کو ہم کیسے قابو کرسکتے ہیں؟ ہر گزرتے سال کےس اتھ سیلاب کے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔ پچھلے سالوں کا سیلاب اور تباہی سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔
مَیں نے خود سارا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگ کوڑا ڈالتے وقت ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ سٹنگ کی بوتل اور لیز کے چپس ہاتھ میں پکڑ کر پانی اور موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن وہی کچرا دریائے سوات میں ڈال کر بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوتے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس غیر منظم سیاحت کو کیسے منظم کیا جائے؟
پہلے تو ہم سب کو احساس ہونا چاہیے کہ پانی کو آلودہ کرنا اور جنگلات کو ختم کرنا ہمارے مستقبل کے لیے ایک بہت ہی خطرناک عمل ہے۔ اپنے گھر سے شروع کرکے اپنے بچوں کو ماحولیات کے بارے میں تعلیم دینا نہایت ضروری ہے۔ گندگی کو پھیلنے سے کیسے روکنا ہے اور صفائی کس طرح کرنی ہے؟ یہ بچوں کو سمجھانا ہماری ذمے داری ہے۔
اس طرح حکومت کی تھوڑی سی کوشش سے بہت کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ مثلاً
تمام سیاحتی مقامات پر معلومات کے ساتھ ساتھ صفائی کی تاکید کی جائے۔ 
اسلحے کی نمایش پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں فوری اور بھاری جرمانہ لگایا جائے۔
ہوٹلوں اور دکان داروں کے ساتھ ساتھ عام عوام کو بھی جرمانہ کیا جائے، اگر وہ ایسی مکروہ حرکات کرتے ہوئے پائے جائیں، تو!
سب سے اہم اور ضروری بات، بلدیات کے اہل کاروں کو خصوصی اختیارات دینے چاہییں۔ جس طرح ٹریفک پولیس موقع پر جرمانہ کرتی ہے، اسی طرح ٹی ایم اے یا دیگر اہل کاروں کی ڈیوٹی لگائی جائے۔
سختی کرنے سے حالات کنٹرول ہوں گے۔
ایک اور ضروری بات، موٹر کار میں دروازوں کے شیشے نیچے کرکے، دروازوں ہی میں نکل کر بیٹھتے ہوئے سفر کرنا کس مہذب قوم کا شیوہ ہے؟ ٹریفک پولیس کو گاڑی کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کو بھی حوالات میں بند کرنا چاہیے۔ بھئی، یہ کون سی سیاحت ہے… یا یہ کیسی آزادی ہے؟
مٹلتان اور اتروڑ جاتے ہوئے جگہ جگہ ہر قدم پر مسجد کے چندے کے لیے سپیڈ بریکر بنائے گئے ہیں۔ انتہائی غیر مہذب انداز میں چندے کے نام پر سیاحوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے انتظامیہ کیا کر رہی ہے؟ اجازت کے بغیر سپیڈ بریکر بنانا غیر قانونی ہے۔
دوسری طرف موٹر سائیکلوں پر تین تین افراد سوار ہو کر ایک طرف شور کا باعث بنتے ہیں، جب کہ دوسری طرف ان کا اخلاقی معیار بہت پست ہوتا ہے۔ سوزوکیوں میں ہمارے نوجوان بڑے بڑے سپیکروں میں بے ہودہ قسم کی موسیقی لگا کر عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں۔ عید کے دوران میں یا دیگر مواقع پر شریف لوگوں کا گھر سے نکلنا یا سیر کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔
بڑی عجیب قسم کی سیاحت ہے۔ پتا نہیں لوگوں میں شرافت اور حیا کا کون سا معیار ہے؟ مَیں نے تو کسی غیر پختون کو اس طرح بے ہودہ ڈانس کرتے نہیں دیکھا۔ عجیب قسم کے لباس اور حرکات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے ماحول میں تو مجھے اپنے پختون ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
سوات کی انتظامیہ کو چاہیے کہ لنڈاکی چیک پوسٹ پر اس طرح کے لوگوں کو روکا جائے اور ان سے موسیقی کے ڈیک وغیرہ ضبط کیے جائیں، یا کم از کم یہ چیزیں اُن سے اپنی تحویل میں لے کر واپسی کے وقت انھیں دوبارہ حوالہ کیا جائے۔
دفعہ 144 کے تحت سوات میں داخل ہونے والے غیر سواتی ڈرائیوروں کی ڈبل ٹرپل سواری پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔ اس طرح غیر منظم سیاحت روکی جاسکتی ہے۔
سیاحت کے لیے ضابطۂ اخلاق بنانا ضروری ہے اور اس پر مکمل عمل در آمد ہی سوات کی سیاحت اور ماحولیات کو بچانے کا واحد راستہ ہے۔
اس کے علاوہ امن و امان کی صورتِ حال پر بھی توجہ کی ضرورت ہے۔ ڈونچار آبشار جاتے ہوئے راستے میں کئی نوجوانوں کو فائرنگ کرتے ہوئے خود مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ واپسی پر تو ایک پورے گروپ کو فائرنگ کرتے دیکھا۔ اس عمل کا بھی بروقت بندوبست کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی کے پاس اسلحے کا لائسنس ہو، تو وہ اسلحہ ہر جگہ لے جاسکتا ہے، لیکن قانون ہوائی فائرنگ کے متعلق کیا کہتا ہے؟ لوگوں کو خوف زدہ کرنے والوں کے ساتھ نمٹنے میں پولیس کی پوزیشن کیا ہے؟ مانتے ہیں کہ پولیس کی نفری کم ہوگی، لیکن وہ سیاحتی پولیس کہاں ہے؟ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ سوات کے سیزن کے دوران میں خیبر پختونخوا کے دوسرے اضلاع سے عارضی طور پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی جائے۔
مَیں نے اُتروڑ میں لوگوں کی دریا میں کچرا پھینکتے ہوئے ویڈیو بنائی، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اُس کے نتیجے میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ آسان سا سوال یہ ہے کہ اتروڑ اور دیگر علاقے جیسے مٹلتان اور مہوڈنڈ میں جو کچرا روزانہ کی بنیاد پر پھینکا جا رہا ہے، وہ کہاں جاتا ہے؟ ٹی ایم اے والے اسے کہاں ٹھکانے لگاتے ہیں؟ سیدھا سادھا جواب ہے: ’’دریا میں ڈالتے ہیں۔‘‘
حکومت کو فوری طور پر، باقاعدہ جنگی بنیادوں پر صفائی کا ایک منظم نظام بنانا چاہیے، تاکہ مزید گندگی نہ پھیلے، ورنہ وہ دن دور نہیں کہ دریا میں مچھلی ہوگی اور نہ دیگر جان دار۔ سوات کا دریا اور جنگلات ہمارا سرمایہ ہیں، انھیں بچانا ہمارا فرضِ اولین ہے۔ ورنہ قدرت کے خلاف جنگ جیتنا خام خیالی ہے۔ ایسا کرنے سے تباہی ہمارا ہی مقدر ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے