بے ہنگم ٹریفک اور اس کا حل

Blogger Ubaid Ahmad

کاںٔنات کے نظام پرغور کریں، تو ہر سیارہ اپنے مدار میں مقررہ وقت پر گردش کرتا نظر آتا ہے۔ زمین پر چھوٹی چھوٹی چیونٹیاں بھی قطار بنا کر چلتی ہیں، لیکن انسان عقل و شعور کے باوجود بار بار سمجھانے پر بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔کہیں واضح بورڈ پر لکھا ہوگا کہ سڑک یک طرفہ ٹریفک کے لیے ہے، لیکن آپ دیکھیں گے کہ دونوں طرف سے گاڑیاں رواں دواں نظر آئیں گی۔
دکان دار حضرات بھی اپنی دکانوں سے 5 فٹ تک آگے سامان رکھنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔سڑک کے دونوں طرف آپ کو اتنی ریڑھیاں نظر آئیں گی کہ گویا یہ کوئی سڑک یا چوک نہیں، بل کہ جمعہ بازار لگا ہوا ہو۔
ان سطور کی وجہ سے شاید مجھے تنقید کا سامنا کرنا پڑجاۓ، لیکن در حقیقت غیر قانونی اور بغیر لائسنس رکشوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے ایمبولنس کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دن میں ٹرک اور اس قبیل کی دیگر بڑی بڑی گاڑیاں نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے روڈ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے۔
ہمارے ہاں قانون کی پاس داری نہ ہونے کی وجہ سے ہر عمر کے افراد اور خاص کر بچے گاڑی میں ڈراںٔیونگ سیٹ پر براجماں نظر آتے ہیں، ناتجربہ کاری اور کم عمری کی وجہ سے حادثات سامنے آرہے ہیں۔
اس طرح بعض رئیس زادے تیز گاڑی چلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ اکثر مصروف روڈ پر گاڑیاں دوڑاتے نظر آتے ہیں، اور یہی عمل حادثات کا سبب بنتا ہے۔ مذکورہ رںٔیس زادے گاڑیوں سے ساںٔلنسر نکال کر انھیں دوڑاتے ہیں۔موٹر ساںٔیکلوں ون وہیلنگ کی کوشش میں خود بھی حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان کی وجہ سے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مَیں بہ ذاتِ خود تیز گاڑی کی ٹکر سے کئی بار بال بال بچا ہوں۔
بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے اب ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ کشادہ سڑکوں کا نہ ہونا ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ایسے میں ڈرایٔوروں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور اپنی لاںٔن میں رہ کر سڑک کھولنے کا انتظار کرنا چاہیے۔
میرے ناقص علم کے مطابق ٹریفک کے مذکورہ مساںٔل اور حادثات کا حل یہ ہے کہ حکومت اس کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ مثلاً سب سے پہلے سڑکوں کو کشادہ کرنا ہوگا۔ اس طرح راستوں سے ہر قسم کے تجاوزات ہٹانا ہوں گے۔ ایمان داری سے کام کرنے والے ٹریفک اہل کار تعینات کرنا ہوگا، تاکہ رشوت کی حوصلہ شکنی ہو اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔ ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں میں امیر اور غریب کی کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے، جو بھی قانون ہاتھوں میں لیتا ہو، اسے سزا دینی چاہیے۔
ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ کویئی گاڑی پر پریس لکھ کر طرم خان بنتا ہے، کوئی ایم پی اے یا ایم این اے کا بورڈ لگا کر قانون سے بالاتر ہونے کی کوشش کرتا ہے، تو کوئی ایڈوکیٹ وغیرہ کا۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق ان سے نمٹنا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے