درویش منش شاعر محمد حنیف قیس

Blogger Hilal Danish

بعض لوگ صرف شعر نہیں کہتے، بل کہ اپنی پوری زندگی کو ایک ایسی نظم بنا دیتے ہیں، جس کی خوش بو نسلوں تک محسوس کی جاتی ہے۔
ادب کسی بھی قوم کی روح، تہذیب کا آئینہ اور تاریخ کا زندہ حافظہ ہوتا ہے۔ یہی ادب قوموں کی فکری سمت متعین کرتا، احساسات کو زبان دیتا اور آنے والی نسلوں کے لیے شناخت کا سرمایہ چھوڑ جاتا ہے۔ ہر عہد میں چند ایسی شخصیات جنم لیتی ہیں، جو صرف اپنے فن کی وجہ سے نہیں، بل کہ اپنے کردار، اخلاق، علم اور طرزِ زندگی کے باعث بھی ایک دبستان کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ پشتو زبان و ادب میں محمد حنیف قیسؔ انھی درخشاں شخصیات میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی تخلیقی بصیرت، فکری گہرائی، اخلاقی وقار اور ادبی خدمات کے ذریعے ایک ایسا مقام حاصل کیا، جس تک پہنچنا ہر شاعر کے نصیب میں نہیں آتا۔
محمد حنیف قیسؔ اُس دور کے شاعر ہیں، جب سوشل میڈیا کی برق رفتاری تھی، نہ نجی ٹیلی وِژن چینلوں کی چکاچوند، اور نہ شہرت حاصل کرنے کے مصنوعی ذرائع ہی تھے۔ اُس زمانے میں ریڈیو ہی ادب و ثقافت کی ترویج کا سب سے معتبر وسیلہ تھا۔ ریڈیو پشاور سے نشر ہونے والی اُن کی نعتوں، غزلوں اور ادبی تخلیقات نے اُنھیں گھر گھر متعارف کرایا۔ یہ وہ شہرت تھی، جو قابلیت، مطالعے، محنت اور فن کے بل بوتے پر حاصل ہوئی، نہ کہ وقتی مقبولیت کے سہارے۔
محمد حنیف قیسؔ کی شخصیت کا سب سے خوب صورت پہلو اُن کی سادگی، انکسار اور خوش اخلاقی ہے۔ وہ ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کے ساتھ اس محبت اور خلوص سے ملتے ہیں کہ ہر شخص انھیں اپنا محسوس کرتا ہے۔ بزرگوں کے سامنے ادب و احترام کا پیکر، نوجوانوں کے لیے مشفق راہ نما، علما کی مجلس میں علم و استدلال کا نمونہ اور عام لوگوں کے درمیان بے تکلف انسان بن جانا اُن کی شخصیت کی انفرادیت ہے۔
قدرت سے قیسؔ کی محبت بھی غیر معمولی ہے۔ سوات کی وادیاں، سرسبز پہاڑ، جنگلات، بہتے چشمے، پھول، درخت اور موسموں کی رنگا رنگی اُن کی شاعری میں محض منظر کشی نہیں، بل کہ ایک زندہ احساس بن کر سامنے آتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار پڑھتے ہوئے قاری صرف الفاظ نہیں پڑھتا، بل کہ سوات کی فضاؤں کو محسوس بھی کرتا ہے۔ اسی احساس کی ترجمانی اُن کے یہ خوب صورت اشعار کرتے ہیں:
د ملاکنډ سر له چې راشې جامې ښې څنډوهه
د ښار پۀ دوړو چې د سوات ناوې خيرنه نۀ کړې
(کتاب: مرغزار)
محمد حنیف قیسؔ کی شاعری صرف حسنِ فطرت تک محدود نہیں، بل کہ اس میں عصرِ حاضر کے فکری بحران، معاشرتی تبدیلیوں اور اخلاقی زوال پر بھی گہری نظر ملتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید اور اپنی تہذیبی شناخت سے دوری پر اُن کے یہ اشعار آج بھی اتنے ہی بامعنی محسوس ہوتے ہیں:
خلې مغرب ته مو کږې شوې ژوند له لارې ترېنه غواړو
مونږ رڼا لۀ هغه غواړو چې پراتۀ دي پۀ تيارۀ کښې
(کتاب: زاره چاودې مزلونه)
یہی فکری گہرائی قیسؔ کی شاعری کو وقتی نہیں، بل کہ دائمی ادب کا درجہ عطا کرتی ہے۔
محمد حنیف قیسؔ کی علمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو قرآنِ مجید سے ان کی گہری وابستگی ہے۔ وہ مختلف تفاسیر کا مسلسل مطالعہ کرتے ہیں، عبادات کے پابند ہیں اور اپنی روحانی وابستگی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ یہی روحانیت اُن کے لہجے میں وقار، اُن کے کردار میں انکسار اور اُن کے کلام میں تاثیر پیدا کرتی ہے۔
قیسؔ کی تصانیف ’’چغجئی‘‘، ’’بلہ شونٹئی‘‘، ’’مرغزار‘‘، ’’ملاکنډ غرونہ‘‘ اور ’’زارہ چاودې مزلونہ‘‘ پشتو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اِن کتابوں میں محبت، فطرت، انسان، معاشرہ، اخلاق اور روحانیت کے بے شمار رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔
محمد حنیف قیسؔ صرف ایک کام یاب شاعر ہی نہیں، بل کہ عروض، بحر، قافیہ، ردیف اور قواعدِ شاعری کے ایسے ماہر استاد بھی ہیں، جن کی رائے کو اہلِ قلم سند کا درجہ دیتے ہیں۔ معروف شاعر اباسینؔ یوسف زئی کا یہ اعتراف اُن کے علمی مقام کا بہترین اظہار ہے: ’’مَیں تو خود اپنے کلام کی اصلاح قیسؔ صاحب سے کرواتا ہوں، پھر آپ میرے پاس کیوں آتے ہیں؟‘‘
یہ ایک جملہ محمد حنیف قیسؔ کی ادبی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی ہے… تاہم اُن کی سب سے بڑی ادبی خدمات میں سے ایک پشتو شاعری کو ایک نئی صنف عطا کرنا بھی ہے۔ اُنھوں نے ایک منفرد صنف تخلیق کی جسے پشتو ادب کے ممتاز اساتذہ پروفیسر عطاءالرحمان عطاؔ، لیکچرار احسان یوسف زئی اور ایڈوکیٹ عطاءاللہ جانؔ شہید نے متفقہ طور پر ’’پھہ‘‘ کا نام دیا۔ ڈھائی مصرعوں پر مشتمل یہ صنف اپنے اندر اختصار، معنویت اور شعری حسن کا ایسا امتزاج رکھتی ہے، جو پشتو شاعری میں ایک نئی جہت کا اضافہ ہے۔ اس کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
ووړی کے ناوی شی بلھا خکلے دے
جمے سپرلے خزان ئی لا خکلے دے
سوات پہ ریختیا خکلے دے
د نفرت زیلہ زیلہ خوری محبت
ازغی نہ ھم گل جوڑہ وی محبت
زړہ کے چی وی محبت
دنیا ستا ہر گل کہ د زړہ مرھم دے
خو د وخت نمر دیر تیز دے دغہ غم دے
ژوندون د واوری چم دے
یہ صنف اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پشتو ادب آج بھی زندہ، متحرک اور مسلسل ارتقا پذیر ہے، اور محمد حنیف قیسؔ اس ارتقائی سفر کے ایک اہم معمار ہیں۔ اُن کے اشعار زندگی کا فلسفہ بھی سکھاتے ہیں اور انسان کو اس کی اصل پہچان بھی یاد دلاتے ہیں۔
ډېر ښۀ والے هم ښۀ نۀ دے يو حد غواړي
پۀ کوم بوټي چې بار ډېر شي نو ماتېږي
(کتاب: بله شونټۍ)
اور ماں کے مقام کو اس سے زیادہ خوب صورت انداز میں شاید ہی بیان کیا جاسکے:
قېسه د مور پښو ته چې ښکته شومه پرېوتمه
عجيبه لاره وه يو دم اسمان ته اورسېدم
(کتاب: چغجئی)
محمد حنیف قیسؔ کا نام صرف ایک شاعر کا نام نہیں، بل کہ پشتو ادب کی ایک مکمل روایت، ایک فکری دبستان اور ایک تہذیبی شناخت کا استعارہ ہے۔ اُنھوں نے قلم کو شہرت کے لیے نہیں، بل کہ ادب کی خدمت، انسان کی اصلاح اور زبان کی بقا کے لیے استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تخلیقات وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر ہوتی جا رہی ہیں۔
بلاشبہ ایسے اہلِ قلم کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ محمد حنیف قیسؔ نے اپنی شاعری، اپنی شخصیت اور اپنی تخلیقی جدت سے پشتو ادب کو وہ سرمایہ عطا کیا ہے، جس پر آنے والی نسلیں بھی فخر کریں گی… اور ادب کی تاریخ اُن کا نام ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے