پر والی چیونٹی، فطرت کا خاموش معجزہ

Blogger Comrade Sajid Aman

بارش کی پہلی بوندیں زمین کو چھوتی ہیں، فضا میں نمی بڑھتی ہے اور شام ڈھلتے ہی گھروں، بازاروں اور گلیوں کی روشنیوں کے گرد ہزاروں پروں والے ننھے حشرات منڈلانے لگتے ہیں۔ اکثر لوگ انھیں دیکھ کر یہی کہتے ہیں کہ ’’آج چیونٹیوں کے پر نکل آئے ہیں۔ یقیناً بارش ہونے والی ہے۔‘‘ یہ بات نسل در نسل ہمارے معاشرے میں دہرائی جاتی رہی ہے، لیکن سائنس اس منظر کی ایک ایسی حیرت انگیز تشریح پیش کرتی ہے، جو نہ صرف ہماری اس عام غلط فہمی کو دور کرتی ہے، بل کہ ہمیں فطرت کے ایک نہایت پیچیدہ اور منظم نظام سے بھی روشناس کراتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عام چیونٹیوں کے کبھی پر نہیں نکلتے۔ جن چیونٹیوں کو ہم پروں کے ساتھ دیکھتے ہیں، وہ شروع ہی سے ایک خاص مقصد کے لیے پروں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کالونی کے عام مزدور نہیں، بل کہ مستقبل کی ملکہ بننے والی مادہ چیونٹیاں اور ان کے نر ساتھی ہوتے ہیں، جن کی پوری زندگی کا سب سے اہم اور آخری مشن صرف ایک ہوتا ہے۔نئی نسل اور نئی بستی کی بنیاد رکھنا۔
چیونٹیوں کی دنیا انسانی معاشروں سے کہیں زیادہ منظم ہے۔ ایک کالونی میں لاکھوں افراد ہو سکتے ہیں، مگر ہر ایک کا کردار پہلے سے طے ہوتا ہے۔ مزدور چیونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں، بچوں کی پرورش کرتی ہیں، کالونی کی صفائی اور حفاظت کا انتظام سنبھالتی ہیں، جب کہ ملکہ کی ذمے داری صرف نسل کو آگے بڑھانا ہوتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہی کالونیاں سال کے ایک مخصوص وقت میں اپنے چند منتخب نر اور مادہ افراد کو پروں کے ساتھ فضا میں بھیجتی ہیں۔ حیاتیات میں اس اجتماعی پرواز کو "Nuptial Flight” کہا جاتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس کے لیے ان پروں کی تخلیق ہوئی ہوتی ہے۔
یہ منظر بہ ظاہر چند گھنٹوں کا ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کروڑوں برس کا ارتقائی سفر پوشیدہ ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق چیونٹیاں تقریباً 14 کروڑ سال پہلے زمین پر نمودار ہوئیں اور ارتقا نے انھیں اس قدر کام یاب بنا دیا کہ آج دنیا میں ان کی 14 ہزار سے زیادہ اقسام دریافت ہوچکی ہیں، جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اس طویل ارتقائی سفر میں قدرت نے انھیں ایک ایسی حکمتِ عملی عطا کی جس نے ان کی بقا کو یقینی بنایا۔ اگر ہر نئی ملکہ اپنی پیدایشی کالونی کے قریب ہی رہ جاتی، تو خوراک، جگہ اور وسائل پر شدید مقابلہ پیدا ہوتا، قریبی رشتوں میں ملاپ بڑھتا اور نسل کم زور پڑ جاتی۔ پروں نے اس مسئلے کا حل پیش کیا۔ پر نئی ملکہ کو دور دراز علاقوں تک لے جاتے ہیں، جہاں وہ نئی کالونی قائم کرتی ہے، جب کہ مختلف کالونیوں کے نر اور مادہ کے ملاپ سے جینیاتی تنوع برقرار رہتا ہے، جو بیماریوں کے خلاف مزاحمت اور نسل کی مضبوطی کی بنیاد بنتا ہے۔
قدرت نے اس عمل کے لیے موسم کا انتخاب بھی نہایت دانش مندی سے کیا ہے۔ عام طور پر یہ اجتماعی پرواز اُس وقت ہوتی ہے، جب بارش کے بعد زمین نرم ہو، نمی مناسب ہو، درجۂ حرارت معتدل ہو اور ہوا نسبتاً کم چل رہی ہو۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں یہی وجہ ہے کہ مون سون کے مہینوں، خصوصاً جون سے ستمبر کے دوران میں پروں والی چیونٹیاں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ بارش کے بعد نرم مٹی نئی ملکہ کے لیے بل بنانے کو آسان بنا دیتی ہے اور نمی اس کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ گویا موسم بھی اس عظیم حیاتیاتی منصوبے کا ایک خاموش کردار بن جاتا ہے۔
ایک دل چسپ سوال یہ بھی ہے کہ یہ پروں والی چیونٹیاں زیادہ تر رات کو ہی کیوں نظر آتی ہیں؟ اس کا جواب بھی فطرت کی باریک بینی میں پوشیدہ ہے۔ اگرچہ تمام اقسام رات کو پرواز نہیں کرتیں، لیکن بہت سی اقسام شام یا رات کے وقت نکلتی ہیں۔ کیوں کہ اس وقت درجۂ حرارت نسبتاً کم ہوتا ہے، ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے اور بعض شکاری پرندے کم متحرک ہوتے ہیں۔ البتہ جدید شہروں کی مصنوعی روشنیاں ان کے فطری نظام میں مداخلت کرتی ہیں۔ روشنی انھیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے، جس کی وجہ سے وہ بلبوں اور اسٹریٹ لائٹس کے گرد جمع ہو جاتی ہیں اور بہت سی اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسی مثال ہے کہ کس طرح انسانی ترقی بعض اوقات غیر محسوس انداز میں فطرت کے نہایت نازک نظاموں کو متاثر کرتی ہے۔
ملاپ کے بعد نر چیونٹی کا کردار ختم ہو جاتا ہے اور وہ جلد مر جاتی ہے، جب کہ مادہ چیونٹی زمین پر اُتر کر اپنے پر خود ہی گرا دیتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے، جب ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ملکہ ایک ہی ملاپ سے حاصل ہونے والے نطفے کو کئی برس، بل کہ بعض اقسام میں 20 سے 30 سال تک محفوظ رکھ سکتی ہے اور پوری زندگی انڈے دیتی رہتی ہے۔ دنیا کی چند مخلوقات ہی ایسی ہیں، جن میں تولید کا یہ نظام اس قدر مؤثر اور طویل المدت ہے۔
اگر ہم چیونٹی کو صرف ایک معمولی حشرہ سمجھتے ہیں، تو شاید ہم فطرت کی ایک بڑی حقیقت سے غافل ہیں۔ چیونٹیاں زمین کے ماحولیاتی نظام کی معماروں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ مٹی کو نرم اور زرخیز بناتی ہیں، نامیاتی مادے کو دوبارہ زمین میں شامل کرتی ہیں، بے شمار پودوں کے بیج ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں اور درجنوں پرندوں، مینڈکوں، چھپکلیوں، مکڑیوں اور دوسرے جانوروں کے لیے غذا فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ ماحولیات انھیں ماحولیاتی توازن کے اہم ترین ستونوں میں شمار کرتے ہیں۔ اگر کسی علاقے سے چیونٹیوں کی آبادی اچانک ختم ہو جائے، تو اس کے اثرات صرف ایک حشرے تک محدود نہیں رہتے، بل کہ پورا حیاتیاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔
آج موسمیاتی تبدیلی نے اس خاموش دنیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ درجۂ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے بدلتے ہوئے نظام اور نمی کے غیر متوقع اتار چڑھاو نے چیونٹیوں کی اجتماعی پرواز کے اوقات اور ان کی کام یابی پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ بعض علاقوں میں یہ پرواز معمول سے پہلے ہونے لگی ہے، کہیں تاخیر سے ہوتی ہے اور کہیں اس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ صرف چیونٹیوں کا مسئلہ نہیں، بل کہ اس پورے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک انتباہ ہے، جس میں ہر جان دار دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
شاید اسی لیے فطرت ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی مخلوق غیر اہم نہیں ہوتی۔ جس چیونٹی کو ہم اپنے قدموں تلے روند دیتے ہیں، اس کے وجود میں بھی کروڑوں سال کی ارتقائی دانش پوشیدہ ہے۔ اس کے ننھے سے پر صرف پرواز کا ذریعہ نہیں، بل کہ بقا، تنوع، ماحول کے توازن اور زندگی کے تسلسل کی ایک غیر معمولی حکمتِ عملی کی علامت ہیں۔ اگلی بار جب بارش کے بعد روشنی کے گرد پروں والی چیونٹیاں دکھائی دیں، تو انھیں محض ایک موسمی تماشا نہ سمجھیے، بل کہ فطرت کے اس خاموش معجزے کو دیکھیے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی حکمتیں اکثر سب سے چھوٹی مخلوقات کے اندر پوشیدہ ہوتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے