غیرت کے نام پر بکھرتا پختون معاشرہ

Blogger Izhar Amin

کیا سنتا ہوں کہ باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا، افسوس کے علاوہ ہمارے پاس اور کیا چارہ ہے؟ واٹس ایپ پر سٹیٹس لگا دیتے ہیں… لیکن پھر اُسی دن یہی خبر ایک اور انداز میں سامنے آ جاتی ہے کہ بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اپنا لگایا ہوا سٹیٹس ہٹا دیتے ہیں اور ایک اور انداز میں پوسٹ کرتے ہیں کہ یہ بہت بُرا ہوا، اور ہم بھی دیگر لوگوں کی طرح اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔
پھر ایک دو دن بعد سننے میں آتا ہے کہ شوہر نے بیوی کو قتل کر دیا… اُسی روز یہ خبر بھی اُڑتی اُڑتی آجاتی ہے کہ بیوی نے شوہر کو مار ڈالا۔ سب کی طرح ہم بھی افسوس کے سوا کیا کرسکتے ہیں؟
مَیں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتا کہ ایسا صرف ہمارے معاشرے میں نہیں ہوتا، ہر جگہ ہوتا ہے… لیکن جس مسلسل اور واضح انداز میں ہمارے پختون معاشرے میں کبھی باپ بیٹے کو، کبھی بیٹا باپ کو، کبھی شوہر بیوی کو، اور کبھی بیوی شوہر کو قتل کرتی ہے، اس کی بہت زیادہ مثالیں آپ کے سامنے موجود ہیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ہم خود اپنے نام و نشان مٹانے کے لیے کافی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اب سب سے قریبی رشتے بھی ناقابلِ برداشت بنتے جا رہے ہیں۔ آج کی زبان میں نوجوان نسل اسے ’’غیرت‘‘ کہتی ہے، جس پر انھیں اپنی تاریخ پر بڑا فخر ہے، اور ہونا بھی چاہیے… لیکن اگر ہمارے پاس صرف فخر کرنے کے لیے تاریخ ہی رہ جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج ہم زوال کا شکار ہیں۔ اس لیے تاریخ پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے آج کے کرتوتوں پر بھی سوچنا چاہیے۔ اور یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس غیرت پرہم فخر کرتے ہیں، اسے ہم کیسے متعین کرتے ہیں؟ کیوں کہ یہ غیرت الٹا ہماری اپنی ہی نسل کے قتلِ عام کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں غیرت کو قتل اور انتقام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ شاید ہم نے اپنی تاریخ کو صحیح طرح پڑھا نہیں، یا ہمیں درست طریقے سے پڑھایا نہیں گیا۔ کیوں کہ غیرت کا مطلب ہوتا ہے برداشت، انصاف اور ذمے داری… نہ کہ غصہ، انتقام اور خوں ریزی…!
لیکن جب ہم غیرت کی بات کرتے ہیں کہ ہم پختون غیرت مند قوم ہیں، تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں غصے اور انتقام کی کیفیت ابھرتی ہے۔ آج کے نوجوان اس غیرت کو ٹک ٹاک پر ’’باوو‘‘ اور عجیب حرکات کے ذریعے دکھاتے ہیں۔ گویا یہی ہماری تاریخ اور غیرت ہے۔ دیگر اقوام ہمارے اسی جذباتی رویے کا فائدہ اٹھا کر ہمیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں، اور ہمیں اس بات پر بھی بڑا فخر ہوتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ پختون ہمیشہ دوسروں کی جنگوں میں استعمال ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ ہمیں کبھی کوئی حقیقی فائدہ نہیں ملا، صرف اپنی انا کو تسلی ملی کہ لوگ ہمیں غیرت مند کہتے ہیں۔ کبھی کوئی فائدہ نہیں ملا، اُلٹا ہمارا یہ خطہ بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعد میں ہم اپنی حفاظت کا رونا روتے ہیں اور دوسروں سے امن کی بھیک مانگتے ہیں۔
جب بھی مَیں یہ نعرہ سنتا ہوں: ’’مونگ پہ خپلہ خاوره امن غواڑو!‘‘ تو حیرت ہوتی ہے۔ زمین بھی ہماری ہے، اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمے ہے، اس کا امن اور خوش حالی بھی ہماری ذمے داری ہے، تو ایسے میں ہم کس سے امن کی بھیک مانگیں؟
لیکن ہمارے سوا سب کو معلوم ہے کہ ہم جذباتی قوم ہیں، ہم اپنے فائدے اور نقصان کا نہیں سوچتے۔ اس لیے ہمارے نفاق سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی سوچ کا دھارا بدلنا ہوگا۔ جدید دور کے سانچے میں خود کو ڈھالنا ہوگا۔ جس تاریخ پر ہم فخر کرتے ہیں، آج ہمارے اعمال اُسی فخر کو شرمندگی میں بدل رہے ہیں۔ ہماری منزل واضح نہیں۔ ہماری زندگی کا مقصد معلوم نہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ پاور شفٹنگ میں ہمارے خطے کی اہمیت کیا ہے؟ کیا ہم ایک بار پھر پرائی جنگ کا ایندھن بننے جا رہے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں اس غیرت کو صحیح معنوں میں معاشرے میں متعین کرنا ہوگا۔ کیوں کہ غیرت یہ نہیں کہ ہم جا کر کسی کو قتل کردیں، بل کہ غیرت یہ ہے کہ ہم کسی ظالم کو ظلم سے روکیں، مظلوم پر رحم کریں، اور جہاں جھگڑا ہو… وہاں مصلحت سے کام لے کر صلح صفائی کریں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے