ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا معاملہ

Blogger Suhail Sohrab

ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کا معاملہ محض ایک مالیاتی مسئلہ نہیں، بل کہ ایک اہم آئینی اور سیاسی بحث ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 2018ء میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق قانون منظور کیا، جسے ایوان میں موجود اکثر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ اس قانون کے حق میں پاکستان تحریکِ انصاف، جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان نے ووٹ دیا، جب کہ ریکارڈ کے مطابق جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے صرف دس ارکان نے اس کی مخالفت کی۔
اس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹیکسوں سے عارضی استثنا یا رعایت کا مطالبہ کیا جاتا رہا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہی جماعتیں اس قانون کو عوام کے لیے نقصان دہ سمجھتی تھیں، تو پھر اس کی منظوری کے وقت اس کی حمایت کیوں کی گئی؟ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے منتخب نمایندوں سے اس تضاد کی وضاحت طلب کریں۔
بعد ازاں وفاقی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے 2026ء تک برقرار رکھا، لیکن اس اقدام سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اصل مطالبہ یہ ہے کہ اگر یہ قانون واقعی عوامی مفاد کے خلاف ہے، تو اس میں مستقل قانونی اور آئینی ترمیم کی جائے، نہ کہ صرف وقتی ریلیف دے کر معاملہ مؤخر کیا جائے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس معاملے پر مختلف جماعتوں کے مؤقف ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اگر اسمبلی کارروائی کے مطابق بعض جماعتوں یا ارکان نے اس قانون کی مخالفت کی، جب کہ اکثریت خاموش رہی یا حمایت کرتی رہی، تو اس ریکارڈ کو عوام کے سامنے لانا ایک سیاسی حقیقت ہے، نہ کہ الزام۔
آج اگر وہی سیاسی جماعتیں جو ماضی میں اس قانون کی حامی تھیں، عوامی احتجاج میں پیش پیش نظر آتی ہیں، تو یہ ایک جائز سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اپنے سابقہ فیصلے سے دست بردار ہوچکی ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو پھر اس کا عملی ثبوت اسمبلیوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔
اگر خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان واقعی ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، تو انھیں ایک واضح ترمیمی بل پیش کرنا چاہیے، جس کے ذریعے 2018ء سے پہلے حاصل آئینی اور قانونی مراعات کو مکمل طور پر بہ حال کیا جائے۔ اسی طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اس ترمیم کی منظوری کے لیے مشترکہ کوشش کی جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ احتجاج، ہڑتالیں اور مظاہرے وقتی دباو تو پیدا کرسکتے ہیں، مگر کسی قانون کو مستقل طور پر ختم یا تبدیل کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ اور متعلقہ قانون ساز اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ اس لیے اگر تمام سیاسی جماعتیں واقعی ٹیکسوں کی مخالف ہیں، تو انھیں سڑکوں کے بہ جائے قانون سازی کے ذریعے اپنا مؤقف ثابت کرنا چاہیے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے نمایندوں سے صرف بیانات نہیں، بل کہ عملی اقدامات کا مطالبہ کریں۔ جو ارکان ماضی میں اس قانون کی حمایت کرچکے ہیں، اگر وہ اب اپنے مؤقف میں تبدیلی کا دعوا کرتے ہیں، تو اُنھیں اسمبلی کے اندر اس کی تلافی بھی کرنی چاہیے۔
اگر ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب نمایندے واقعی اپنے عوام کے مفادات کے محافظ ہیں، تو وہ اُس وقت تک مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کریں، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر اسمبلی کارروائی کے بائیکاٹ جیسے آئینی اور جمہوری راستوں پر بھی غور کریں، جب تک ملاکنڈ ڈویژن کو انضمامِ ریاستِ سوات اور دیر کے وقت کیے گئے معاہدوں کے تحت حاصل آئینی اور قانونی مراعات مکمل طور پر بہ حال نہیں کی جاتیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے