رواں ماہ دنیا کی تین بڑی مسلم ریاستوں (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے درمیان ’’مکہ‘‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنم لیا ہے۔ معاہدے کے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں دست خط کنندگان میں سے اگر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو ممالک کے معاہدے کے آرٹیکل 5 سے ملتی جلتی شق لگتی ہے۔
دفاعی ماہرین کی رائے کے مطابق جنوبی ایشیا میں کسی بھی جنگ کی صورت میں سعودی عرب اور ترکی، پاکستان کے دفاع کے لیے مدد فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ شام یا مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان تصادم ہوتا ہے، تو پاکستانی اور سعودی عرب کی افواج بھی اس جنگ میں شامل ہوں گی۔
دفاعی ماہرین یہ خیال بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی بھی ملک پر حملہ ہوتا ہے، تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دیگر دونوں ممالک بہ راہِ راست جنگ میں شامل نہ ہوں، بل کہ متاثرہ فریق یا ملک کی مدد اسلحہ، انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی، مالی تعاون اور سفارتی سطح پر کریں۔
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ’’سٹیو اے کک‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’مکہ معاہدہ‘‘ دراصل مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی نظام میں ایک نئی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے؛ ایک ایسی تبدیلی جس سے امریکہ کے کئی دہائیوں پر محیط قائدانہ کردار میں کمی آ رہی ہے۔ مکہ معاہدے کی عالمی اہمیت یہ ہے کہ اس معاہدے میں پاکستان کی جوہری طاقت، سعودی عرب کی توانائی کی دولت اور ترکیہ کی دفاعی صنعت شامل ہے۔
معاہدے میں شامل تینوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج کا تقابلی جائزہ کچھ اس طرح سے ہے کہ اِس وقت پاکستان کی مسلح افواج کی تعداد 6 لاکھ 60 ہزار، ترکی کی 4 لاکھ 81 ہزار اور سعودی عرب کی افواج 2 لاکھ 47 ہزار اہل کاروں پر مشتمل ہے۔
سویڈن کے ’’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے ڈیٹا کے مطابق سعودی عرب کا 2025 میں دفاعی بجٹ 83 ارب ڈالر، پاکستان کا دفاعی بجٹ 11.9 ارب ڈالر، جب کہ ترکی کا دفاعی بجٹ 30 ارب ڈالر ہے۔ دفاعی بجٹ کے حساب سے بڑے دفاعی بجٹ رکھنے والے ممالک کی فہرست میں سعودی عرب 8ویں، ترکی 18ویں اور پاکستان اس فہرست میں 31ویں نمبر پر ہے۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کی ملٹری بیلنس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 2750 لڑنے والے ٹینک اور 4600 سے زیادہ توپ خانہ نظام موجود ہیں، جن کی بنیاد الخالد، الخالد-ون، الضرار اور T-80UD ٹینک ہیں۔ اس طرح پاکستان کی افواج روایتی جنگی صلاحیت کے ساتھ ساتھ میکانائزڈ اور آرمرڈ فارمیشنز کی بڑی تعداد بھی رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے پاس مضبوط میزائل، ڈرون اور دیگر جنگی نظام بھی ہیں۔
گلوبل فائر پاؤر انڈیکس کے مطابق پاکستان کی فضائیہ میں 331 جنگی طیارے ہیں، جب کہ ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان کے پاس کامبیٹ کیپیبل طیاروں کی تعداد 465 ہے۔ پاکستان کے ان اہم جنگی طیاروں میں ایف سِکس ٹین، جے ایف سیون ٹین، جے ٹین سی، میراج تھری اور میراج فائیو شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس طیاروں کی دیکھ بھال اور مرمت کی سہولت بھی موجود ہے۔
ملٹری بیلنس کے مطابق ترکی کے پاس 2300 سے زیادہ لڑنے والے ٹینکوں کے ساتھ ساتھ 2700 سے زیادہ توپ خانہ نظام بھی ہیں، جس میں جرمنی ساختہ لیپرڈ ٹو اے فور (Leopard 2A 4) اور جدید ایم سکسٹی سابرہ (M60T Sabra)، جب کہ مقامی طور پر تیار کیا جانے والا Altay (مین بیٹل ٹینک) ترکی کی دفاعی صنعت کے اہم منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
ترکی کی فضائیہ میں جنگی طیاروں کی تعداد 200 سے 293 تک بتائی جاتی ہے، جس کی بنیادی قوت ایف سِکس ٹین فائٹنگ فالکن پر مشتمل ہے، جب کہ محدود تعداد میں ایف فور ای ٹرمینیٹر (F-4E Terminator) بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور KAAN مقامی طور پر تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
اس طرح ترکی کی نمایاں فضائی طاقت اس کا جدید ڈرون نظام ہے۔
ملٹری بیلنس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے پاس بیٹل ٹینکس کی تعداد 800 سے 1100 تک ہے، جس میں امریکہ کا جدید ترین ٹینک ایم ون اے ٹو ابرامز (M1A2 Abrams) ہے، جب کہ بکتر بند گاڑیوں اور جدید خودکار توپ خانہ نظام بھی موجود ہے۔
اس طرح سعودی عرب کے فضائی بیڑے میں 283 جنگی طیارے ہیں، جن میں ٹائفون (Typhoon)، ایف ففٹین سی/ ڈی (F15C/D)، ایف ففٹین ایس اے (F-15SA) اور ٹورنیڈو آئی ڈی ایس (Tornado IDS) شامل ہیں۔
گلوبل فائر پاؤر انڈیکس کے مطابق ترکی کے بحری اثاثوں کی تعداد 192 ہے، جب کہ بحری اہل کاروں کی تعداد ایک لاکھ ہے۔ ترکی کے پاس 17 فریگیٹس، 9 کورویٹس، پیٹرولنگ طیارے اور 13 آبدوزیں بھی ہیں۔
پاکستان کے بحری اثاثوں کی تعداد 120 اور اہل کاروں کی تعداد 57,500 ہے، جب کہ 8 آبدوزیں اور 12 فریگیٹس بھی ہیں۔
سعودی عرب کے بحری اثاثوں کی تعداد 32، جب کہ بحری اہل کاروں کی تعداد 13,500 کے لگ بھگ ہے، جب کہ 12 جدید فریگیٹس بھی ہیں۔
معلوم نہیں، اتنے بڑے جنگی دفاعی ساز و سامان کے ہوتے ہوئے تینوں ایک دوسرے کی مدد کرسکیں گے یا نہیں… اور مدد کرنے کی صورت کیا ہوگی؟ یہ ابھی تک واضح نہیں۔
معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کا کہنا ہے کہ پاکستان، عراق اور ترکی کے دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس معاہدے سے ترکی کی عسکری نوعیت اور صلاحیتیں بڑھ جائیں گی، جسے اسرائیلی حکام اپنے لیے اسٹریٹیجک خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ معاہدہ اسرائیل اور ایران کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بن سکتا ہے، جب کہ سمندری حدود میں ترکی کی بڑھتی ہوئی طاقت بھی اسرائیل کی پریشانی کا سبب ہے۔
اگر اسرائیل اس معاہدے کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے، تو وہ بھی اپنے لیے اتحادی ڈھونڈے گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










