کبھی خواب نہ دیکھنا (اُننچاس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

یہ غالباً ستمبر 2011ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ مجھے جناب فضل ربی راہی کا فون آیا، جس میں انھوں نے مینگورہ میں ان کے دفتر اور کتابوں کی دکان میں ملنے کو کہا۔ وہ میرے لیے اجنبی نہیں تھے۔ ان کے پبلشنگ ہاؤس نے جولائی 2007ء میں میری اور ڈاکٹر امیر فیاض پیر خیل کی […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

میری سروس کے آخری تین سال تمام تر مشکلات کے خلاف زندہ رہنے کی میری جد و جہد کا تسلسل تھے۔ مینگورہ کے ایک پرانے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شخص کی سربراہی میں کنٹریکٹر مافیا نے ہر ممکن طریقے سے میری مخالفت کی۔ چوں کہ وہ مجھ سے بے جا مفادات […]

ریاستِ سوات میں بین الاداراتی تعیناتیاں

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)گذشتہ تقریباً 40 سالوں میں، ایک رجحان بڑھا ہے، جہاں بہت سے ڈاکٹر، انجینئر اور مسلح افواج کے افسران نے ’’سی ایس ایس‘‘ کے امتحانات پاس کرنے کے بعد سول اور پولیس سروسز میں شمولیت اختیار […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتالیس ویں قسط)

Blogger RIaz Masood

نومبر 1993ء سے شروع ہونے والا بونیر میں میرا دوسرا سپیل پہلے کی طرح رنگین نہیں تھا۔ مَیں اب 50 سال کا ہوچکا تھا اور ایک متحرک نوجوان کی دل کشی اور رنگین مزاجی کھوچکا تھا۔ کلاس ون رہایش گاہ میں رہنے کا عیش و آرام قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ اب اگلے پانچ یا […]

کیا مرغی/ بکرا پالنے پر صدر مقام میں پابندی تھی؟

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے یاد نہیں کہ عوام میں یہ مغالطہ کیسے پروان چڑھا کہ اُس وقت کی ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں بکریوں اور مرغوں کی گھروں میں پالنے کی اجازت نہیں تھی۔ مَیں نے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چھیالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ایک دن جب میں ڈویژنل آفس آیا، تو چترال کے سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن میں میرا ٹرانسفر آرڈر میرے حوالے کر دیا گیا۔ مجھے سرفراز کی جگہ ٹرانسفر کیا گیا تھا، جب کہ اس کا کسی اور سٹیشن پر ٹرانسفر ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے مسٹر ایکس نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور اصرار […]

سوات میں خواتین کے اولین تعلیمی ادارے

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جہاں تک مجھے یاد ہے ، ہمارے سکول میں کسی حد تک مخلوط طرزِ تعلیم تھی۔ جب ہم شگئی، سیدو شریف میں ایک سکول میں داخل ہوئے، تو تقریباً ہر کلاس میں لڑکیاں پڑھ رہی تھیں۔ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (پنتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ابھی شانگلہ کو ضلع قرار نہیں دیا گیا تھا اور وہ اب بھی سوات کا ایک سب ڈویژن تھا۔ چناں چہ 1989/90ء میں ہمارے بلڈنگ پروجیکٹ ڈویژن سیدو شریف کو الپورئی منتقل کرنے اور وہاں ہائی وے سب ڈویژن قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ چناں چہ ایس ڈی اُو شیر شاہ خان، سب انجینئرز […]

ریاست سوات میں غبن کا ایک واقعہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے علاقے بنجوٹ میں ’’اپنی مدد آپ‘‘ کی بنیاد پر ایک پرائمری سکول کی تعمیر جاری تھی۔ مقامی افراد نے تعمیراتی مواد جیسے پتھر، لکڑی کے تختے اور کڑیاں وغیرہ فراہم کیے تھے، جب […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چوالیس ویں قسط)

مَیں ابھی ہائی وے سب ڈویژن سیدو شریف میں مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوا تھا کہ مجھے بونیر جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی ٹھیکہ داروں نے ضوابط پر میری سخت عمل درآمد کے خلاف کڑھنا اور خفگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک افسر، اکرام اللہ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (تریالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

بہ حیثیت مجموعی میں اپنے افسر، ساتھیوں اور ماتحت عملے سمیت، سب کے ساتھ ’’کمفرٹ ایبل‘‘ تھا۔ 14 ستمبر 1987ء کو ایک بڑا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ مَیں نے اُس دن دفتر سے چھٹی لی تھی۔ اچانک مَیں نے سڑک پر دفتر کی جیپ کا ہارن سنا۔ میرے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ […]

پختو دور کی کچھ اور خصوصیات

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میرے مضمون بہ عنوان ’’پختو دور اور اس کی کچھ خصوصیات‘‘ کے ضمیمہ کے طور پر قارئین کی عمومی رائے کے لیے درجِ ذیل گزارشات شامل کرنا چاہتا ہوں۔اگرچہ یہ دور معاشرے کے پسے ہوئے […]

پختو دور اور اس کی خصوصیات

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سنہ 1858ء میں سید مبارک شاہ (سوات کے اولین بادشاہ سید اکبر شاہ کے بیٹے) سوات سے رخصت ہوئے اور 1915ء میں عبدالجبّار شاہ کو نیک پی خیل اور سبوجنی کے جرگے نے بادشاہ مقرر […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (بیالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

1985ء میں دریائے سوات میں شدید سیلاب آیا۔ سیلاب کے نقصانات کے خلاف یہ میرا پہلا مقابلہ تھا۔ میرا سیکشن خاص طور پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ ایوب پل کو بچانے والے پشتے بہہ گئے اور آدھی رات کو سیلابی پانی پولیس لائنز میں داخل ہوگیا۔ پولیس والے ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کی چھتوں […]

ریاستِ سوات کی افواج کا ارتقا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) فوج ریاست کی قوت کا بنیادی ذریعہ اور طاقت کی علامت ہوتی ہے۔ بادشاہ صاحب (میانگل عبدالودود) بھی مستقل اور باقاعدہ فوج کے قیام میں خصوصی دل چسپی رکھتے تھے، لیکن انھیں عبد الجبار […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

میرے گھر سے دور پوسٹنگ نے میرے لیے بہت سے مسائل پیدا کر دیے تھے۔ ایک تو میری خاندانی زندگی تقریباً بکھر گئی تھی۔ مَیں اپنے بچوں (دو پیارے بیٹے اور ایک بیٹی) کے ساتھ وقت گزارنے سے محروم تھا۔ مَیں ’’ویک اینڈ‘‘ پر آتا، تو سواڑئی سے مینگورہ تک کے سفر سے میرا سر […]

ریاستِ سوات میں اجتماعی ذمے داری کا تصور

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے دور میں جرائم اور کمیونٹی کی اجتماعی ذمے داری کے بارے میں واضح تصویر پیش کرنا میرے لیے ممکن نہیں، مگر چند بنیادی باتیں ضرور چاہوں گا کہ آپ سے شیئر کروں۔ زیادہ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چالیس ویں قسط)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سابق ریاستِ سوات کے حکم ران نے سواڑئی میں کالج کے لیے ایک اراضی حاصل کی تھی۔ اسی اراضی پر سواڑئی کالج، ہاسٹل اور ڈگر کالج کے عملے کے لیے دس عدد رہایشی بنگلے تقریباً 1000 کنال اراضی پر بنائے گئے تھے۔ کالج کی زمین کی قیمت 86000 روپے اہلِ بونیر نے ’’دوتر‘‘ کے حساب […]

ریاستِ سوات میں شراب نوشی

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں سمجھتا ہوں کہ ریاستِ سوات کے قبل از انضمام دور کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمیں معاشرتی اقدار اور کچھ اعلا طبقے کے خاندانوں کی طرزِ زندگی میں منفی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کرنا […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ہمارے سواڑئی، بونیر منتقل ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے، کہ ہمارے ایس ڈی اُو خورشید علی خان کا تبادلہ سیدو شریف ہوگیا اور سبز علی خان نامی ایک صاحب نے چترال سے ڈگر آکر چارج سنبھال لیا۔ وہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ چترال سے ایک 14 سال کا […]

ریاستِ سوات کے محکموں کا ارتقا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے فوری بعد، حکومت کے مختلف اداروں کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود ریاستی اتھارٹی کی مضبوطی اور عدالتوں، محصولات، دفاع، صحت، تعلیم اور بنیادی […]