کبھی خواب نہ دیکھنا (اُننچاس ویں قسط)

یہ غالباً ستمبر 2011ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ مجھے جناب فضل ربی راہی کا فون آیا، جس میں انھوں نے مینگورہ میں ان کے دفتر اور کتابوں کی دکان میں ملنے کو کہا۔ وہ میرے لیے اجنبی نہیں تھے۔ ان کے پبلشنگ ہاؤس نے جولائی 2007ء میں میری اور ڈاکٹر امیر فیاض پیر خیل کی […]
سوات اور چنار کا درخت

جب کبھی سوات کی تاریخ کے سنہرے دور کا ذکر ہوتا ہے، تو والیِ سوات میاں گل عبد الحق جہانزیب کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اُن کے دورِ حکم رانی میں نہ صرف ریاست نے ترقی کی، بل کہ قدرتی ماحول کی حفاظت بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھی۔ انھی […]
توروال میں طبعی، ثقافتی، آبادیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اے کاش! یہ حیوانِ ناطق واپس اُسی غار اور شکار کے دور میں چلا جائے، سب طبعی لحاظ سے مساوی نہ سہی پر سماجی و معاشی لحاظ سے یک ساں ہوکر ایک فطری زندگی گزار سکیں۔پھر اگلی فکر گلے سے پکڑ لیتی ہے کہ انسان کے اندر ہی اسی فطرت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتالیس ویں قسط)

میری سروس کے آخری تین سال تمام تر مشکلات کے خلاف زندہ رہنے کی میری جد و جہد کا تسلسل تھے۔ مینگورہ کے ایک پرانے جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شخص کی سربراہی میں کنٹریکٹر مافیا نے ہر ممکن طریقے سے میری مخالفت کی۔ چوں کہ وہ مجھ سے بے جا مفادات […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتالیس ویں قسط)

نومبر 1993ء سے شروع ہونے والا بونیر میں میرا دوسرا سپیل پہلے کی طرح رنگین نہیں تھا۔ مَیں اب 50 سال کا ہوچکا تھا اور ایک متحرک نوجوان کی دل کشی اور رنگین مزاجی کھوچکا تھا۔ کلاس ون رہایش گاہ میں رہنے کا عیش و آرام قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ اب اگلے پانچ یا […]
کیا مرغی/ بکرا پالنے پر صدر مقام میں پابندی تھی؟

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے یاد نہیں کہ عوام میں یہ مغالطہ کیسے پروان چڑھا کہ اُس وقت کی ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں بکریوں اور مرغوں کی گھروں میں پالنے کی اجازت نہیں تھی۔ مَیں نے […]
لنڈے کا جوتا اور ہمارا بچپن

90ء کی دہائی میں، جب کہ ابھی میرے والدِ بزرگوار حیات تھے، ایک دفعہ مجھے اُنگلی پکڑاتے ہوئے شاہ روان پلازہ (مینگورہ شہر کا مشہور لنڈا پلازہ) لے گئے۔ سردی کی آمد آمد تھی اور میرے پرانے جوتے گھِس گئے تھے، بل کہ داہنے پیر کا انگوٹھا جوتا پھاڑ کے ہوا خوری پر مامور تھا۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھیالیس ویں قسط)

ایک دن جب میں ڈویژنل آفس آیا، تو چترال کے سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن میں میرا ٹرانسفر آرڈر میرے حوالے کر دیا گیا۔ مجھے سرفراز کی جگہ ٹرانسفر کیا گیا تھا، جب کہ اس کا کسی اور سٹیشن پر ٹرانسفر ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے مسٹر ایکس نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور اصرار […]
سوات میں خواتین کے اولین تعلیمی ادارے

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جہاں تک مجھے یاد ہے ، ہمارے سکول میں کسی حد تک مخلوط طرزِ تعلیم تھی۔ جب ہم شگئی، سیدو شریف میں ایک سکول میں داخل ہوئے، تو تقریباً ہر کلاس میں لڑکیاں پڑھ رہی تھیں۔ […]
ضلعی انتظامیہ اور برائب سنڈیکیٹ

قارئین پچھلی تحریر میں ہم نے رشوت ستانی اور اُن عناصر پر روشنی ڈالی تھی، جو اس بدعنوانی کے جمودی نظام کو تقویت دیتے ہیں۔ اس تحریر میں ہم اس بات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ کرپشن، خاص طور پر رشوت ستانی، کس طرح اس نظام کی بنیاد ہے اور یہ […]
دریائے سوات کی بدصورتی کا ذمے دار کون؟

سوات کو بہ جا طور پر ’’سویٹزرلینڈ آف ایشیا‘‘ کہا جاتا ہے، اور اس کی خوب صورتی کا سب سے بڑا مرکز دریائے سوات ہے۔ یہ دریا اپنی نیلگوں پانی، سرسبز کناروں اور فطری ماحول کی بہ دولت سیاحوں کے لیے کشش کا باعث رہا ہے…… مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پنتالیس ویں قسط)

ابھی شانگلہ کو ضلع قرار نہیں دیا گیا تھا اور وہ اب بھی سوات کا ایک سب ڈویژن تھا۔ چناں چہ 1989/90ء میں ہمارے بلڈنگ پروجیکٹ ڈویژن سیدو شریف کو الپورئی منتقل کرنے اور وہاں ہائی وے سب ڈویژن قائم کرنے کا حکم دیا گیا۔ چناں چہ ایس ڈی اُو شیر شاہ خان، سب انجینئرز […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوالیس ویں قسط)

مَیں ابھی ہائی وے سب ڈویژن سیدو شریف میں مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوا تھا کہ مجھے بونیر جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی ٹھیکہ داروں نے ضوابط پر میری سخت عمل درآمد کے خلاف کڑھنا اور خفگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک افسر، اکرام اللہ […]
پختو دور کی کچھ اور خصوصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میرے مضمون بہ عنوان ’’پختو دور اور اس کی کچھ خصوصیات‘‘ کے ضمیمہ کے طور پر قارئین کی عمومی رائے کے لیے درجِ ذیل گزارشات شامل کرنا چاہتا ہوں۔اگرچہ یہ دور معاشرے کے پسے ہوئے […]
پختو دور اور اس کی خصوصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سنہ 1858ء میں سید مبارک شاہ (سوات کے اولین بادشاہ سید اکبر شاہ کے بیٹے) سوات سے رخصت ہوئے اور 1915ء میں عبدالجبّار شاہ کو نیک پی خیل اور سبوجنی کے جرگے نے بادشاہ مقرر […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتالیس ویں قسط)

میرے گھر سے دور پوسٹنگ نے میرے لیے بہت سے مسائل پیدا کر دیے تھے۔ ایک تو میری خاندانی زندگی تقریباً بکھر گئی تھی۔ مَیں اپنے بچوں (دو پیارے بیٹے اور ایک بیٹی) کے ساتھ وقت گزارنے سے محروم تھا۔ مَیں ’’ویک اینڈ‘‘ پر آتا، تو سواڑئی سے مینگورہ تک کے سفر سے میرا سر […]
سوات کا آبی ورثہ

گودر، گُوتُھور، چشمے، اوسو، چینے، پہیم، نہر، ڈھان/ ڈنڈ، جھیل، دریا، ندی، نالہ صرف پانی کے ذخائر ہی نہیں، بل کہ یہ آبی ورثے (Hydro-heritage) کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان سے ثقافت، جذبات، ادب، موسیقی اور عشق و محبت کی داستانیں وابستہ ہوتی ہیں۔سوات کا نام ہی دریا کی وجہ سے ہے۔ سوات کسی شہر، […]
ریاستِ سوات میں اجتماعی ذمے داری کا تصور

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے دور میں جرائم اور کمیونٹی کی اجتماعی ذمے داری کے بارے میں واضح تصویر پیش کرنا میرے لیے ممکن نہیں، مگر چند بنیادی باتیں ضرور چاہوں گا کہ آپ سے شیئر کروں۔ زیادہ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چالیس ویں قسط)

سابق ریاستِ سوات کے حکم ران نے سواڑئی میں کالج کے لیے ایک اراضی حاصل کی تھی۔ اسی اراضی پر سواڑئی کالج، ہاسٹل اور ڈگر کالج کے عملے کے لیے دس عدد رہایشی بنگلے تقریباً 1000 کنال اراضی پر بنائے گئے تھے۔ کالج کی زمین کی قیمت 86000 روپے اہلِ بونیر نے ’’دوتر‘‘ کے حساب […]
ریاستِ سوات میں شراب نوشی

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں سمجھتا ہوں کہ ریاستِ سوات کے قبل از انضمام دور کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمیں معاشرتی اقدار اور کچھ اعلا طبقے کے خاندانوں کی طرزِ زندگی میں منفی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کرنا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتالیس ویں قسط)

ہمارے سواڑئی، بونیر منتقل ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے، کہ ہمارے ایس ڈی اُو خورشید علی خان کا تبادلہ سیدو شریف ہوگیا اور سبز علی خان نامی ایک صاحب نے چترال سے ڈگر آکر چارج سنبھال لیا۔ وہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ چترال سے ایک 14 سال کا […]