کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتیس ویں قسط)

ایس ڈی اُو کا انحصار مکمل طور پر اس لڑکے پر تھا۔ دفتر کا سارا کام اس پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سرکاری خط و کتابت کرتا۔ اس کی غیر موجودگی میں ایس ڈی او کی طرف سے دستخط کرتا۔ آنے جانے والے خط و کتابت کا ریکارڈ رکھتا۔ مختصر یہ کہ وہ انجن تھا، […]
’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ اہلِ سوات سے اپیل

اے اہلِ سوات! ہم آپ کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ سرکاری کمپنی ’’پیڈو‘‘ بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے مدین سے کالام گبرال تک پورے دریائے سوات کو سرنگوں میں چھپانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خصوصاً ہم اہلِ بحرین، سوات کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ پیڈو نے بحرین کے […]
ڈاکٹر غلام یوسف کی یاد میں

لوگ تو آج کے جدید دور میں نہیں پڑھتے، تو 1969ء میں کتنے لوگ پڑھے لکھے ہوں گے اور اعلا تعلیم…… وہ تو گویا خواب تھی۔ اخبار پڑھ لینا ہی تعلیم یافتہ ہونے کی بڑی نشانی تھی۔مینگورہ اور اصل مینگورہ باچا صاحب چم میں مسافر حاجی صاحب کے بیٹے غلام یوسف صرف پڑھے لکھے نہیں […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتیس ویں قسط)

پشاور سے پہلی آڈٹ ٹیم 1970ء میں آئی اور ہمارے دفتر میں اپنا کام شروع کر دیا۔ مجھے ایکس ای این عبدالرحیم خان نے آڈٹ ٹیم کے ساتھ کام کے لیے کہا۔ انھوں نے آڈٹ کا آغاز ریاست کے آخری سال سے شروع کرنا چاہا۔ مَیں نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس والی […]
ریاستِ سوات: سیدو شریف میں بجلی کی پہلی بار فراہمی

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بجلی کی ترسیلی لائن کو سوات تک بڑھانے سے پہلے، سیدو شریف کے گھروں میں لائٹ دست یاب نہیں تھی۔ یہاں تک کہ سرکاری رہایش گاہیں بھی بجلی سے محروم تھیں۔ تاہم، پونے روپے فی لیٹر […]
برٹش سامراجیت، سرتور فقیر اور سواتیوں کی بغاوت

٭ پس منظر:۔ اَخوند صاحب کی وفات ( 1877-78ء) کے بعد، سوات میں مختلف دعوے داروں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لیے کئی سالوں تک اندرونی جھگڑے اور سازشیں جاری رہیں۔ (Hay, The Yousafzai State of Swat, 513)برطانوی حکومت کے لیے بڑے خطرات میں امیر افغانستان (امیر عبدالرحمان) کا سوات پر دعوا اور سوویت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھتیس ویں قسط)

سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ امور بی/ آر ڈویژن کے قیام کے بعد، ہمارے پہلے ایگزیکٹو انجینئر جناب عبدالرحیم خان نے چارج سنبھالا۔ سیدو شریف کو نو تشکیل شدہ ملاکنڈ ڈویژن کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بھی قرار دیا گیا تھا۔ کیوں کہ سوات کے عظیم حکم ران کی طرف سے تعمیر کیے […]
سوات: انفلوئنزا وائرس کی وبا، علامات اور علاج

انفلوئنزا وائرس (Influenza Virus) سانس کی ایک متعدی بیماری ہے۔ اسے عام طور پر فلو (Flu) کے نام سے جانا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ دراصل پھیپھڑوں کا انفیکشن ہے جو وائرس کے ذریعے ہوتا ہے۔ لوگوں کو سال میں کسی بھی وقت فلو ہوسکتا ہے، لیکن […]
اخوند عبد الغفور (سیدو بابا): ’’پوپ آف سوات‘‘

٭ تعارف:۔ سوات کے مذہبی اور سیاسی اُفق پر اخوند آف سوات کا کردار انتہائی نمایاں اور موثر رہا ہے۔ اُن کے روحانی اثر و رسوخ نے نہ صرف سوات، بل کہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزوں نے اُنھیں ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اثرات کی بنا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پینتیس ویں قسط)

17 اگست 1969ء کو جناب ہمایون جو اُس وقت پی اے ملاکنڈ ایجنسی تھے، سوات پہنچ گئے اور مقبوضہ ریاست کا چارج سنبھال لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انضمام کا اعلان عجلت میں کیا گیا تھا۔ بغیر اس منصوبہ بندی کے، کہ نیا نظام کیسے متعارف کرایا جائے اور عوام کو تبدیلی کو قبول کرنے […]
شہزادہ اسفندیار: ہیرو، جسے بھلا دیا گیا

جب بھی میں سوات جاتا ہوں اور چکدرہ ملاکنڈ میں دریا کے پار ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع چرچل پیکٹ کو دیکھتا ہوں، تو یہ مجھے گہرے خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ برطانوی سلطنت میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس کی دھوپ کبھی غروب نہ ہوئی۔ ان […]
سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]
اخوند عبد الغفور اور سوات میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام

٭ بیک گراؤنڈ:۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں میں ایک نئی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی بالاکوٹ میں شہادت کے بعد، سوات اور گردونواح میں ایک نئی لیکن مختلف اسلامی مذہبی اتحاد تشکیل پایا، جس میں طریقت اور شریعت کے درمیان ایک منفرد […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بتیس ویں قسط)

میری زندگی اتنی آسان نہیں تھی، کوئی ہنسی، خوشی کا معاملہ نہیں تھا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ مَیں اپنی کھوپڑی کو اُڑانا چاہتا تھا…… لیکن ’’پروویڈنس‘‘ نے مداخلت کی اور مَیں تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندہ رہا۔ جیسا کہ مَیں نے کہیں ذکر کیا ہے کہ جب پرانے افسر آباد کا زوال […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتیس ویں قسط)

عمومی خیال یہ ہے کہ والیِ سوات ریاستی ملازمین کو، جب وہ ان کی کارکردگی سے ناخوش ہوتے، جسمانی طور پر سزا دیتے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے، لیکن ایسا فرعونیت یا بدمزاجی کی وجہ سے نہیں تھا، بل کہ اپنی رعایا کو فرائض میں غفلت برتنے پر ایک باپ کی طرح یاد […]
گوبند رام باپو

محترم گوبند رام باپو مینگورہ شہر کی سماجی شخصیت اور روایتوں کے امین تھے۔باپو ایک زبردست قوم پرست مینگروال، ایک دانش مند مشر، ایک رحم دل، صلح جو اور ایمان دار تاجر اور مصالحتی کمیٹی کے ممبر تھے۔ غیر مسلم سواتی شہری، سوات پر اپنا حق محبت اور عقیدت کے ساتھ جتاتے ہیں۔باپو (یعنی ابا […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]
سید خدا بخش پاچا

گلشن چوک سے نشاط چوک کی طرف جائیں، تو آپ کے بائیں طرف دُکانیں اور اُن کے پیچھے محلے مینگورہ شہر کی ایک بھرپور تاریخ جو ہر گلی، نکڑ، دروازے، گھر سے چیخ چیخ کر شہر کے ماضی کو بیان کرتی ہے، مگر اس کے سننے کے لیے وہ کان چاہئیں، جو شہر کی محبت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (ستائیس ویں قسط)

چکیسر میں قیام کے دوران میں ایک اور چیز، جس نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کی تعلیم کے ساتھ محبت تھی۔ ودودیہ سکول سیدو شریف کے بعد بادشاہ صاحب کے دور میں پہلا سکول چکیسر میں بنا تھا۔ ہائی سکول چکیسر موجودہ ضلع شانگلہ کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ 1950ء کی دہائی کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھبیس ویں قسط)

چکیسر سے میرا تبادلہ تحصیل بلڈنگ کی چھت کے سلیب سے مشروط تھا۔ ٹھیکہ دار کی الم ناک موت کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ کیوں کہ اس کا خاندان شدید صدمے میں تھا۔ نومبر کے آخر میں، ٹھیکہ دار کے بیٹے نے، جو ابھی کالج کا طالب علم تھا، نے بقیہ کام کا چارج […]