درولئی پُل پر ’’سیاست‘‘ بھونڈی حرکت ہے

پتا نہیں ہر بات کو ہمارے ’’درولئی‘‘ (بحرین، سوات) کے بھائی کیوں پارٹی سیاست کا شکار بناتے ہیں؟دراصل مَیں نے درولئی کے بڑوں سے 23 نومبر کو جرگے میں وعدہ کیا تھا کہ مَیں اس پل کے بارے میں اُن کو ایک ہفتے میں بتادوں گا۔ کیوں کہ جب مجھے پتا چلا کہ ’’ورلڈ بنک‘‘ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پچیس ویں قسط)

کبھی کبھی، مَیں اپنے باس کے رویے سے پریشان ہوجاتا تھا۔ مجھے اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ وہ مجھے مخالف کیمپ میں سمجھا ہے یا اپنی طرف؟ ریاست کے بعض اعلا افسران نے بالواسطہ طور پر اس کا مذاق بھی اڑایا، لیکن مَیں نے ان سازشوں سے دور ہی رہنے کی کوشش کی۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]
ریاستِ سوات کا جھنڈا اور ترانہ

دوستو! آپ سب ریاستِ سوات کے جھنڈے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ اسے والئی سوات کی رہایش گاہ پر ہر صبح لہرایا جاتا اور غروبِ آفتاب کے بعد اُتار لیا جاتا۔ اس کے سکولوں میں 12 دسمبر اور 5 جون کو بھی ’’فلیگ ماسٹ‘‘ پر چڑھایا جاتا تھا۔ریاستِ سوات ایک شاہی ریاست تھی۔ یہ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیئس ویں قسط)

جب مَیں نے اپنی سوانح عمری لکھنی شروع کی، تو میرے اکثر قارئین نے اصرار کیا کہ مجھے کچھ نہیں چھپانا چاہیے، لیکن سوچتا ہوں کہ مَیں اپنی زندگی کے انتہائی تاریک گوشوں کے بارے میں، اپنی بری عادات اور اپنی ناکامیوں کی وجوہات کے بارے میں کیسے بات کروں، جب کہ میرے پاس بہترین […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بائیس ویں قسط)

عین وقت پر سفید جیپ اپنے بونٹ پر ریاستی پرچم لہراتی ہوئی گراؤنڈ میں داخل ہوئی۔ مَیں نے ان کے لیے دروازہ کھولا۔ والی صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا، پھر حاکم اور آفرین خان سے مصافحہ کیا۔ دونوں نے گارڈ آف آنر کے بعد والی صاحب سے جرگے سے ملاقات کی درخواست کی۔آکسٹرا نے […]
ڈاکٹر لوکا اور جانو جرمن

1964ء کی بات ہے، ہم مختلف سائٹس کا انسپکشن کرتے کرتے میاندم پہنچ گئے۔ وہاں کے ریاستی گیسٹ ہاؤسز میں جو بڑا اور وی آئی پی ریسٹ ہاؤس ہے، وہاں پر ہم نے پڑاو ڈالا۔ ایک درخت کی شاخ سے ذبح شدہ دُنبہ لٹکا کر کچھ ساتھی اس کا کوٹ اُتارنے لگے۔ کچھ مسالہ جات […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیس ویں قسط)

بعد میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا کہ مجھے ریاستی دارالحکومت سے چکیسر جیسے دور دراز علاقے میں کیوں بھیجا گیا تھا؟ اُسی وقت ایک اور انتہائی قابل ڈرافٹس مین کو بھی الپورئی میں تعینات کیا گیا۔ اُس کا نام عبدالرشید تھا۔ اُسے اگلے احکامات تک وہیں رہنے کی ہدایت دی گئی۔زیرِ […]
القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘

القموت خان المعروف ’’آکو خان‘‘، غورہ خیل یوسفزئی چکیسر سابق ریاستِ سوات کے رہایشی تھے۔ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے فلک بوس پہاڑوں کے عقب تک ریاستِ سوات کی حدود پہنچنے لگیں، تو وہاں کے بہادر سپوتوں نے سیدو بابا کے احترام کے آگے سرِ تسلیم خم کیا اور اپنی وفاداری پہلے باچا صاحب اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنیس ویں قسط)
غازی عظیم خان پاچہ گل (مرحوم)
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھارھویں قسط)
کچھ میاں سید بادشاہ کے بارے میں
کبھی خواب نہ دیکھنا (سولھویں قسط)
بنجاریانو محلہ (مینگورہ سوات)
گلِ نرگس سے جڑی یادیں

ایک وقت تھا (90ء کی دہائی) جب مینگورہ شہر کی ندی کا پانی صاف ہوا کرتا تھا، مجھے یاد ہے اس کے پانی سے اہلِ مینگورہ وضو کیا کرتے تھے۔ خواتین کپڑے دھونے جب کہ لڑکے بالے نہانے آیا کرتے۔ ندی کے دونوں طرف گلِ نرگس (جنھیں ہم پشتو میں اُس وقت گُلِ گنگس پکارا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پندرھویں قسط)
پتیسا

آج میرے تینوں جگر گوشے ’’برگر‘‘ پہچانتے ہیں، اُنھیں پتا ہے کہ ’’شوارما‘‘ اور ’’پیزا‘‘ کیا شے ہیں ، مگر وہ ہمارے بچپن کی سب سے بڑی عیاشی ’’پتیسا‘‘ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ آج اگر مَیں اپنے بڑے بیٹے سے کہوں کہ چلو، تمھیں اپنے بچپن کی مرغوب چیز (پتیسا) کھلاتا ہوں، تو […]
"پنجہ” (باقر خانی)

ہماری بچپن کی عیاشیوں میں سے ایک سہ پہر کی چائے کے ساتھ ’’پنجہ‘‘ یا ’’کریم رول‘‘ تناول فرمانا تھا۔ عموماً سہ پہر کی چائے کے ساتھ سوکھی روٹی کھانے کو ملتی تھی۔ چائے بھی صبح تیار کی گئی چائے سے بچ بچا کر ہمیں سہ پہر کو پلائی جاتی تھی، جس کا رنگ استعمال […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
وہاڑا: 1800 سال پرانی عمارت

وہاڑے کی یہ تصویر 5 جون 2022ء کو لی گئی ہے۔ 21 نومبر 2016ء کو ڈان اُردو سروس کے لیے مَیں نے ایک تحریر لکھی تھی وہاڑا: سوات میں فنِ تعمیر کا 18 صدی پرانا شاہکار کے عنوان سے، جس کے چیدہ چیدہ نکات ذیل میں دیے جاتے ہیں: بلو کلے (بریکوٹ، سوات) کے آثار […]