پروفیسر احمد حسن دانی، لیگسی کا سوال

پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان کے نام ور دانش ور مانے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی ’’اکیڈیمک لیگسی‘‘ کے حوالے سے ایک غیر ضروری بحث شروع کی گئی ہے۔ اس ضمن میں، مَیں اپنی تاریخ شناسی کی تحقیق کی روشنی میں اپنا ہی نکتۂ نظر پیش کرنے جا رہا ہوں۔لیگسی (Legacy) ایک […]
یہ شور ہے یا چیخ…؟

یومِ آزادی آتے ہی گلی کوچوں، بازاروں اور شاہ راہوں پر سبز ہلالی پرچم کے ساتھ ایک اور چیز بھی پوری آب و تاب سے نمودار ہوتی ہے: باجا! اور ایسا ویسا باجا بھی نہیں، بل کہ ایسے باجے جن کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ صبح ہو یا شام، […]
پاپین خیل میاں گان (آخری حصہ)

محمد طاہر بن دریخان کی اولاد:محمد طاہر کے چار بیٹے تھے: یار محمد، محمد فاضل، دوست محمد اور علی محمد۔ یار محمد پاپینی:۔ یار محمد پاپینی، پاپین میں مدفون ہیں۔ ان کی اولاد پاپین (دھبالا اولسوالی)، حصارک، رودات اولسوالی، کیلغو اور میاں کلے، خوگیانو اولسوالی میں آباد ہے، جب کہ ان کے دو بیٹوں، عبدالرحمان […]
ملم جبہ کے بعد کبل گراونڈ…؟

عوام کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تفریحی مقامات تک ہر خاص و عام کی رسائی کو یقینی بنانا کسی بھی فلاحی اور جمہوری ریاست کی اولین اور بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ مہذب دنیا کی اگر بات کی جائے، تو وہاں حکومتوں کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ […]
نظام نہیں، نیت اور کردار فیصلہ کن ہیں

کسی بھی نظام کی اصل روح اُس کی دفعات، قوانین یا ظاہری ڈھانچے میں نہیں، بل کہ اُن انسانوں کے ضمیروں میں ہوتی ہے، جو اُسے نافذ کرتے ہیں۔ آئینی ڈھانچے، قوانین اور ادارے اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، مگر اُن کی کام یابی کا انحصار اُن لوگوں کی نیت، کردار، امانت اور جواب دہی […]
بگاڑ کے خلاف بولیں اور امید قائم رکھیں

وطن سے محبت ایک ایسی محبت ہے، جس کا کوئی بدل نہیں۔ انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں چلا جائے، اپنے وطن کی مٹی، اپنے لوگوں، اپنی زبان اور اپنی پہچان کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ وطن کی محبت انسان کے دل میں خود بہ خود پیدا ہوتی ہے۔ اس محبت کے لیے […]
سانحۂ سیاہ ٹاپ: سوالات، جو جواب مانگتے ہیں

تحریر: جاوید خیال (پی ایچ ڈی سکالر ملاکنڈ یونیورسٹی)سیاہ حیدر ٹاپ میں 15 جولائی 2026 کو پولیس کا ایک آپریشن ہوا، جس میں لوئر دیر پولیس کے تین جوان، کانسٹیبل ریاض خان، ساکن میاں بٹھان ادینزئی، محیب اللہ، ساکن پیٹو درہ، ایلیٹ فورس کمانڈو اور حوال دار بخت بلند، ساکن لقمان بانڈہ خال، شہید ہوئے، […]
دہشت گردی اور ہماری ناکام پالیسیاں

7 اگست 2026ء کو کبل پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ پر ہونے والے دھماکے میں 7 پولیس اہل کاروں سمیت 10 عام شہری شہید، جب کہ دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکا اُس وقت ہوا جب کبل چوک میں امن کے لیے مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔ قارئین، پاکستان میں دہشت […]
سانحۂ کبل اور سیاسی موقع پرستی

کچھ سانحات صرف جانیں نہیں لیتے، بل کہ قوموں کے ضمیر کا امتحان بھی بن جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون عوام کے دکھ میں شریک ہے، کون صرف نعروں کا تاجر ہے… اور کون ہر حال میں اپنی سیاست چمکانے میں مصروف رہتا ہے؟ضلع سوات آج جن الم ناک […]
سوات امن پاسون: مثبت اور منفی پہلو

نوٹ:۔ زیرِ نظر تحریر دراصل ڈاکٹر رفیع اللہ کی پشتو زبان میں تخلیق ہے، جسے صادق کاکڑ نے اُردو کے قالب میں ڈھالا۔ مَیں نے اب تک جلسے جلوسوں میں شاذ و نادر ہی شرکت کی ہے… اور یہی حال علمی و ادبی نشستوں کا بھی ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں، تاریخ کے ایک طالب […]
جمہوریت یا مجبوریت؟

کسی بھی ریاست کے قیام کا مقصد صرف جغرافیائی آزادی حاصل کرنا نہیں ہوتا، بل کہ ریاست کا وجود جمہوری اور سیاسی اقدار کی روشنی میں عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے عمل میں آتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی اور جمہوری اقدار و روایات کبھی اُس معیار پر پورا نہیں […]
ویوز کی دوڑ اور سوشل میڈیا کا بحران

سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے، علم کی ترویج اور عوامی رابطوں کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ہر نعمت کی طرح اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں۔ پاکستان میں فیس بُک کی مونیٹائزیشن کے بعد ایک نیا رجحان انتہائی تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ اب بہت سے لوگوں کا اصل مقصد علم، […]
پاکستانی معیشت کا دوراہا

معیشت کے لغوی معنی جینے کا سہارا، کھانے پینے اور گزر بسر کا سامان کے ہیں، جب کہ اصطلاحی طور پر اس سے مراد آمدنی کے ذرائع، کاروبار، تجارت، دولت کی پیداوار، اس کی تقسیم اور ملکی سطح پر معاشی سرگرمیوں کا وہ مربوط نظام ہے، جس پر کسی بھی ریاست کی خوش حالی کا […]
نان کسٹم پیڈ گاڑیاں… نعمت یا مصیبت؟

ملاکنڈ ڈویژن میں ایک عرصے سے نان کسٹم پیڈ (NCP) گاڑیوں کا استعمال جاری ہے۔ ابتدا میں یہ رجحان صرف موٹر کاروں تک محدود تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی گاڑیاں اور دیگر مشینری سمگل ہو کر ڈویژن کے تمام اضلاع تک پہنچ گئی۔ آج ایک بڑی تعداد میں یہ گاڑیاں، […]
اصل نقصان کس کا…؟

’’جب آپ اپنے تعلقات کو بچانے کے لیے اپنے جذبات کو دباتے ہیں، تو آپ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘ یہ جملہ بہ ظاہر ذاتی تعلقات کے بارے میں محسوس ہوتا ہے، مگر اس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ سیاست، سماجی قیادت، تنظیمی وابستگی اور عوامی نمایندگی میں بھی […]
جدید جنگیں، اور ہمارے لیے بڑھتے ہوئے خدشات

جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی، البتہ جنگیں اپنے پیچھے ناقابلِ تلافی نقصان، تباہی اور گہرے زخم چھوڑ جاتی ہیں، اور رہتی دنیا تک ان کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں۔جنگ میں بے گناہ لاکھوں شہریوں سمیت فوجی بھی مارے جاتے ہیں، ہزاروں افراد دیگر ممالک کی جانب نقلِ مکانی پر مجبور ہو جاتے […]
سوات و قبائلی اضلاع، پس ماندگی کی سزا؟

آئینی تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں, تو معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 1947 سے لے کر 2018 تک، سابقہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو مملکتِ پاکستان کے دیگر حصوں کی نسبت ایک منفرد اور الگ آئینی حیثیت حاصل تھی۔ 1973 کے آئین کے تحت ان علاقوں کو ٹیکسوں کے نظام سے استثنا دیا گیا […]
غیر منظم سیاحت، ماحولیاتی تباہی اور انتظامی ناکامی

جب ہم سوات کی سیاحت کی بات کرتے ہیں، تو ہمارے پاس کوئی ایسا پراڈکٹ ہونا چاہیے، جسے ہم بیچ کر پیسے کماسکیں۔ ہمارے پاس پہلے نمبر پر دریائے سوات ہے اور دوسرے نمبر پر ہماری آب و ہوا یا موسم۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ ہمارے سیاحتی وسائل کیسے استعمال ہو رہے ہیں اور اس […]
بے ہنگم ٹریفک اور اس کا حل

کاںٔنات کے نظام پرغور کریں، تو ہر سیارہ اپنے مدار میں مقررہ وقت پر گردش کرتا نظر آتا ہے۔ زمین پر چھوٹی چھوٹی چیونٹیاں بھی قطار بنا کر چلتی ہیں، لیکن انسان عقل و شعور کے باوجود بار بار سمجھانے پر بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔کہیں واضح بورڈ پر لکھا ہوگا کہ سڑک […]
ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کا معاملہ

ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کا معاملہ محض ایک مالیاتی مسئلہ نہیں، بل کہ ایک اہم آئینی اور سیاسی بحث ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 2018ء میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ سے متعلق قانون منظور کیا، جسے ایوان میں موجود اکثر سیاسی جماعتوں کی حمایت […]
گرمی کی وجہ صرف درختوں کی کمی نہیں

جون اور جولائی کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان سمیت دنیا کے بیش تر خطے سورج کی بے رحم تمازت کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ درجۂ حرارت کی نئی حدیں قائم ہوتی ہیں، بجلی کا نظام دباو کا شکار ہو جاتا ہے، پانی کی قلت شدت اختیار کرلیتی ہے اور عوام گرمی کی لہر […]