جون اور جولائی کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان سمیت دنیا کے بیش تر خطے سورج کی بے رحم تمازت کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ درجۂ حرارت کی نئی حدیں قائم ہوتی ہیں، بجلی کا نظام دباو کا شکار ہو جاتا ہے، پانی کی قلت شدت اختیار کرلیتی ہے اور عوام گرمی کی لہر کو اپنی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا امتحان سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے ہی موسم میں سوشل میڈیا پر ایک جملہ ہر سال لاکھوں مرتبہ دہرایا جاتا ہے: ’’درخت کاٹو گے، تو گرمی بڑھے گی!‘‘
یہ بات اپنی جگہ درست ہے، مگر مکمل حقیقت نہیں۔ بدقسمتی سے ہم اکثر پیچیدہ مسائل کو ایک سادہ جملے میں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، حال آں کہ قدرت کے نظام اتنے سادہ نہیں ہوتے۔ اگر گرمی کی واحد وجہ درختوں کی کمی ہوتی، تو یورپ آج شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں نہ ہوتا۔ اسپین، اٹلی، فرانس، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک میں جنگلات بھی ہیں، سرسبز پارک بھی اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی بھی… اس کے باوجود وہاں گذشتہ چند برسوں میں ایسی گرمی ریکارڈ کی گئی، جس نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ یہ حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ مسئلہ صرف درختوں کا نہیں، بل کہ پوری زمین کے بدلتے ہوئے موسمی نظام کا ہے۔
صنعتی انقلاب کے بعد انسان نے ترقی کی حیرت انگیز داستان تو رقم کی، لیکن اس ترقی کی قیمت بھی قدرت سے وصول کی گئی۔ کوئلہ، تیل اور گیس بے دریغ جلائے گئے، کارخانے قائم ہوئے، گاڑیوں کی تعداد کروڑوں میں جا پہنچی اور فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور دوسری گرین ہاؤس گیسوں کا تناسب مسلسل بڑھتا گیا۔ یہ گیسیں زمین کے گرد ایک ایسی تہہ بناتی ہیں، جو سورج کی حرارت کو واپس خلا میں جانے سے روک دیتی ہے۔ یوں زمین آہستہ آہستہ گرم ہوتی رہتی ہے۔ یہی عمل آج ’’گلوبل وارمنگ‘‘ کے نام سے پوری دنیا کے لیے سب سے بڑا ماحولیاتی چیلنج بن چکا ہے۔
اس عالمی بحران کے ساتھ ایک اور مظہر بھی سامنے آیا ہے، جسے ماہرین ’’ہیٹ ڈوم‘‘ (Heat Dome) کہتے ہیں۔ جب فضا میں بلند دباو کا ایک طاقت ور نظام کسی علاقے پر قائم ہو جاتا ہے، تو وہ گرم ہوا کو ایک ڈھکن کی طرح قید کر لیتا ہے۔ نہ ٹھنڈی ہوائیں اندر داخل ہو پاتی ہیں اور نہ گرم ہوا ہی باہر نکلتی ہے۔ سورج مسلسل اپنی حرارت زمین پر انڈیلتا رہتا ہے اور درجۂ حرارت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ گویا آسمان نے آگ سے بھری ایک دیگچی پر مضبوط ڈھکن رکھ دیا ہو۔
پھر ہم نے اپنے شہروں کو بھی گرمی پیدا کرنے والی مشینوں میں بدل دیا ہے۔ کنکریٹ، سیمنٹ، تارکول اور شیشے کی بلند عمارتیں دن بھر سورج کی حرارت جذب کرتی ہیں اور رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں میں رات گئے بھی گرمی کا احساس کم نہیں ہوتا۔ ماہرین اسے ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ‘‘ (Urban Heat Island) کا اثر قرار دیتے ہیں، جہاں شہری علاقے اپنے اردگرد کے دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ گرم ہو جاتے ہیں۔
اس ساری بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ درختوں کی اہمیت کم ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ درخت زمین کا حسن بھی ہیں اور اس کی سانس بھی۔ وہ سایہ فراہم کرتے ہیں، نمی میں اضافہ کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، آلودگی کم کرتے ہیں اور مقامی ماحول کو خوش گوار بناتے ہیں۔ کسی بھی شہر کی آب و ہوا کو بہتر بنانے میں درخت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں… لیکن یہ کہنا کہ صرف درخت لگا دینے سے گرمی ختم ہو جائے گی، حقیقت سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے ایک مریض کا بخار ایک سو پانچ ڈگری ہو اور ہم صرف اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹی رکھ کر مطمئن ہو جائیں، جب کہ اصل بیماری جسم کے اندر موجود ہو۔
پاکستان کا مسئلہ تو مزید پیچیدہ ہے۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں، جو عالمی حدت کے اثرات بھی جھیل رہا ہے اور اپنی ناقص منصوبہ بندی کی سزا بھی بھگت رہا ہے۔ بے ہنگم شہری آبادی، جنگلات کی کٹائی، دھواں چھوڑتی گاڑیاں، صنعتی آلودگی، پانی کی قلت، کم زور انفراسٹرکچر، غیر معیاری تعمیرات اور سبز علاقوں کی مسلسل کمی نے گرمی کے اثرات کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے دنیا نے آگ جلائی اور ہم نے اپنی غفلت سے اس پر مزید تیل چھڑک دیا۔
یہی وجہ ہے کہ یورپ میں درجۂ حرارت بڑھنے کی خبر ایک موسمی واقعہ بنتی ہے، جب کہ پاکستان میں یہی گرمی زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ ہمارے ہسپتال، بجلی کا نظام، پانی کی فراہمی اور شہری سہولتیں اس شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ اس لیے یہاں گرمی صرف موسم نہیں رہتی، بل کہ ایک سماجی، معاشی اور انسانی بحران میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
شجرکاری ضرور کریں، کیوں کہ یہ ہماری بقا کے لیے ناگزیر ہے… مگر اس کے ساتھ ساتھ ’’فوسل فیول‘‘ کے استعمال میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، صاف ٹرانسپورٹ، صنعتی آلودگی پر قابو، بہتر شہری منصوبہ بندی، بارش کے پانی کا ذخیرہ، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو بھی اپنی قومی ترجیحات بنانا ہوگا۔
قدرت کا نظام ایک زنجیر کی مانند ہے، جس کی ہر کڑی دوسری سے جڑی ہوئی ہے۔ موسم، سمندر، ہوائیں، بادل، فضائی دباو، گرین ہاؤس گیسیں، شہری تعمیرات، جنگلات اور انسانی سرگرمیاں سب مل کر زمین کا درجۂ حرارت متعین کرتی ہیں۔ اگر ان میں سے ایک عنصر بھی بگڑ جائے، تو پورا توازن متاثر ہوتا ہے… اور جب کئی عوامل بہ یک وقت بگڑ جائیں، تو پھر آج جیسی شدید گرمی جنم لیتی ہے۔
درخت ضرور لگائیے، کیوں کہ وہ زندگی کی علامت ہیں… لیکن اس کے ساتھ دھواں بھی کم کیجیے، توانائی بھی بچائیے، پانی کی حفاظت بھی کیجیے، آلودگی پر بھی قابو پائیے اور اپنے شہروں کو فطرت کے قریب بھی لائیے۔ یاد رکھیے، درخت علاج کا ایک اہم حصہ ضرور ہیں، مگر پورا نسخہ نہیں۔ زمین کو بچانے کے لیے ہمیں پورا علاج اپنانا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلیں صرف درختوں کے سائے ہی نہیں، بل کہ ٹھنڈے موسموں کی یادیں بھی کتابوں میں تلاش کرتی رہ جائیں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










