میرا نام حرا ہے۔ مَیں جنتنظیر وادیوں میں پیدا ہوئی۔ بچپن میں مجھے دوستوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، کیوں کہ ہم چار بہنیں اور دو بھائی پورے تھے محفل بنانے کے لیے۔ ہم محدود سا خاندان، ایک دوسرے کے لیے لامحدود تھے۔ گرمیوں میں سوات کے موسم کا مزا لیتے، سردیوں میں زندہ دلانِ لاہور بن جاتے۔ ایک طرح سے ہم سوات کے بھی تھے اور لاہور کے بھی۔ زندگی میں خوشیاں تھیں، مسرتیں تھیں، کھیل تھے، تماشے تھے۔ بچپن تک خوشیاں تھیں، مگر غم سے نابلد تھے، یا بچپنا تھا، یا ناسمجھی تھی۔ میرا بچپن اور خوشیاں ایک ساتھ بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔ زندگی ایک خوب صورت احساس ہے، زندگی کے یہی معنی سمجھ میں تھے۔
ذرا بڑی ہوئی، تو لگا کہ پڑھنا چاہیے، پڑھنا ویسے ہی پسند آ گیا۔ والدین دونوں پڑھ نہیں سکے تھے اور نہ ان کو پڑھنے لکھنے سے کوئی شغف ہی تھا۔ والدین میں سے کسی نے مشورہ دیا، نہ دل چسپی ہی ظاہر کی کہ سکول جاؤ، مدرسے میں داخل ہو… مگر کمسنی میں ہی مَیں نے بڑے خواب دیکھنے شروع کیے اور تعلیم کو اس کی سیڑھی سمجھ لیا۔ ایک دن اتفاق سے سکول جانے والے بچوں کو دیکھا، تو دوڑ کر گھر آئی، امی سے لپٹ گئی: ’’امی، مجھے سکول میں داخل کروا دو!‘‘ امی نے سپاٹ چہرے سے دیکھا، کچھ نہ کہا۔ مگر شوخ و چنچل تھی، بلا کا اعتماد تھا، تو خود ہی سکول پہنچ گئی۔
بہنوں کی عمریں بارہ سال ہوتے ہی ان کی شادیاں کر دی جاتیں۔ کسی نے بھی پورا بچپن نہیں جیا۔ کھیلنے کے دنوں میں گھروں کو سنبھالنے پر لگا دی گئیں۔ مَیں نے بارہ سال کراس کیے، تیرہ سال کی ہوئی، اسی دباو کا مجھے بھی سامنا تھا… مگر میں حرا تھی، میں نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ ’’شادی نہیں کرنی، پڑھنا ہے۔‘‘ کمسنی پیچھے رہ گئی تھی اور مَیں نوخیز جوانی میں قدم رکھ چکی تھی… مگر شوخی، چنچلپن اور بڑھ گیا تھا، اعتماد تو گویا سارا کا سارا مجھ میں ہی تھا۔
جوانی نے مجھے خوب نوازا تھا۔ قد بہار میں بڑھتے ہوئے پودے کی طرح نکلتا چلا گیا، پانچ فٹ آٹھ انچ۔ روپ ایسا کہ آنکھیں ٹھہر جاتیں۔ کھل کھلا کر ہنس دیتی۔ ہنسی ایسی کہ لوگ کہتے گھنگھور گھٹائیں گرج رہی ہیں۔ لوگ میرے ناک نقشے کا ذکر کرکے کہتے: ’’گلابوں سے سرخی کشید کر گال پر نچوڑے گئ ہے، پنکھڑیوں سے ہونٹ بنائے گئے ہیں، غزال سے آنکھیں مستعار لے کر مجھے بخشی گئی ہیں، دودھ سے جلد کو دھویا گیا ہے!‘‘ اور مَیں یہ باتیں سن کر ہنس دیتی، قہقہہ لگا دیتی۔ بہنوں نے کوک کا بوتل نام رکھا تھا۔
رشتے تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے اور گھر والوں کا شادی کے لیے دباو بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ رشتے لینے والے کہتے: ’’ہمارا لڑکا مر جائے گا۔‘‘ اور میں کہتی: ’’میرے عاشق ہیں، پھرتے ہیں گلیوں میں مارے مارے۔‘‘ تو بہنیں ہنس دیتیں۔ مَیں سمجھتی رہی کہ وقت میرے ہاتھوں میں ہے۔ مَیں انکار پر انکار کرتی چلی گئی۔ کوئی اچھا نہیں لگا، تو کسی کو اچھا لگنے نہ دیا۔
مَیں نے بڑے بڑے خواب دیکھے تھے، اس کے لیے پڑھنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سلائی سیکھ لی، لیکن پڑھائی جاری رکھی۔ سوچتی کہ پڑھ کر پائلٹ بنوں گی۔ رات بھر جاگ کر لوگوں کے کپڑے سیتی۔ اس دوران میں انٹر کرلیا، تو پرائیویٹ سکول میں ٹیچنگ شروع کرنی پڑی، پانچ ہزار تن خواہ ملتی۔ کچھ امی کے ہاتھ پر رکھ لیتی، کچھ پسانداز کرتی کہ پڑھنے کے لیے کام آئے۔ دن کو پڑھاتے اور رات کو کپڑے سیتے سیتے گریجویشن بھی کرلی۔
ایک روز ایک رشتہ بڑے عجیب انداز میں آیا۔ میری ایک سہیلی نے موبائل میں ایک تصویر دکھائی: ’’دیکھو، یہ لڑکا کیسا لگا؟‘‘ اُسی لمحے فیصلہ کیا کہ ٹھیک ہے، شادی ہوگی، کچھ خودمختاری ملے گی، کچھ زندگی جو منقطع ہو رہی تھی، بہ حال ہو جائے گی۔ اور گھر جو کبھی جنت تھا، جہنم بن گیا تھا۔ جہاں ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ ٹکرایا تھا، وہیں موبائل کی ایک تصویر پر ہاں کر دی۔ ماں باپ تھے کہ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق راضی بہ رضا ہوگئے۔
مَیں خوشیوں کی منتظر تھی، غم میری راہ دیکھ رہے تھے۔ میرا شوہر مجھے دیکھ کر دیکھتا رہ گیا، اُسے یقین نہیں تھا کہ میں اسے نصیب ہوئی ہوں۔
اس دوران میں میری بہن شبنم اچانک بیمار ہوئی۔ شوہر ملا بھی، تو احساسِکم تری کا مارا اور شکی مزاج۔ موبائل چھین لیا اور شادی کے پہلے ہی مہینے میں میکے سے بات بند کروا دی۔ اس کے ساتھ مار پیٹ اور گالیاں روزانہ کا معمول بن گئیں۔
ایک صبح نماز کے لیے اٹھی، شوہر سو رہے تھے۔ شوہر کے موبائل پر ایک میسج آیا۔ حیرت میں پڑھ کر میسج پڑھ لیا، جھٹکا سا لگا۔ وہ میرے بھائی کا میسج تھا: ’’شبنم کا انتقال ہوگیا ہے۔‘‘ مَیں پتھرا گئی، جیسے آسمان میرے سر پر ٹوٹ گیا ہو۔
شبنم نے مر کر ہم باقی تین دکھی بہنوں کو زندہ مار دیا۔ ہماری زندگی ایک تھی، پڑھنے کے علاوہ ہم سب کی پسند ایک تھی، ہم بہنوں سے بڑھ کر یک جان و دو قالب ٹائپ دوست تھے۔ اب کئی سال بیت گئے شبنم کی موت کو، مگر وہ لمحہ میرے ذہن پر اَن مٹ نقش چھوڑ چکا ہے۔ ہم نے زندگی بہاروں میں شروع کی، مگر خزاں میں پھنس گئے۔ جنت میں تھے، جہنم میں دھکیل دیے گئے۔
شبنم کو مجھ سے بہت محبت تھی، وہ شدید بیمار تھی، مگر اسے میری فکر تھی۔ اس کا شوہر اس کو کَہ رہا تھا: ’’اس کی تازہ شادی ہوئی ہے، اس سے کچھ نہ کہو، اسے مزے کرنے دو۔‘‘ شبنم کہتی: ’’نہیں، میرا دل نہیں مان رہا، حرا کے ساتھ ضرور کچھ برا ہو رہا ہے۔‘‘
23 اگست 2021 کو ابو نے کہا: ’’بیٹا شبنم، میں نماز پڑھ کے آیا۔‘‘ شبنم نے کہا: ’’ابو، جلدی واپس آنا۔‘‘ اور اسی نماز کے وقفے میں شبنم ہمیشہ کے لیے کوچ کرگئی۔ امی نے بھائی سے پوچھا: ’’شبنم پُرسکون ہوگئی ہے، دیکھو تو، ٹھیک تو ہے ناں!‘‘ بھائی بولا: ’’ڈاکٹروں نے پشاور منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘ امی کو کیا معلوم تھا کہ دراصل قبرستان منتقل کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔
مجھے دور پہاڑیوں میں بھیجا گیا تھا، طویل راستہ، اور ساتھ بیٹھا بےحس شوہر۔ اُس نے دو بول تسلی کے نہیں کہے۔ میرا سر اپنے کندھے پر نہیں رکھا۔ مجھے سینے سے نہیں لگایا۔ میرا ہاتھ نہیں پکڑا اور یہ نہ کہا کہ ’’نہ رو…!‘‘ بس گاڑی چلاتا رہا۔ یہی کہتا رہا: ’’پورا پردہ کرنا ہے‘‘، ’’کزنز کے سامنے نہیں آنا‘‘، ’’زور سے نہیں رونا‘‘، ’’کمرے سے باہر نہ نکلنا۔‘‘ بالآخر میرے سسکنے سے اُکتا کر اُس نے کانوں میں ہینڈز فری لگا لیے۔ مجھے کہتا: ’’ڈرامے بازی چھوڑ دو۔ یہ ایکٹنگ میت پر کرنا۔‘‘
ہم پہنچے، تو شبنم کا جنازہ اٹھایا جا رہا تھا۔ میری راہ دیکھتے دیکھتے وہ مرگئی۔ مَیں بین کر رہی تھی۔ لوگ چپ کرا رہے تھے۔ مَیں کَہ رہی تھی: ’’اے میرے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب…! تو نے شبنم کی روح قبض کرلی۔ ہم سے خوشیاں سمیٹ لیں۔ ہمیں عبرت کا نشان بنا دیا۔ ہماری غلطی کیا ہے؟‘‘
شبنم کی موت نے مجھے زندہ درگور کر دیا۔ میرا شوہر مجھے نوچتا، مارتا، گالیاں دیتا… مَیں زندہ لاش بنی رہتی، کسی چیز کا ہوش نہ رہتا۔ شوہر تشدد کرتا، طعنے دیتا اور مَیں چپ چاپ رہتی۔ نہ کپڑوں کا ہوش، نہ بالوں کا، نہ دنیا کا۔ شوہر کی ہوس بھی ختم ہوئی اور غصے کی حد بھی۔ اس نے واپس لاکر ماں کے گھر پر پھینک دیا۔
گرتے سنبھلتے زندگی کے راستے پر پھر سے چلنا شروع کیا۔ سلائی کے کام کا از سرِ نو آغاز لیا۔ نوکری کی تلاش شروع کی۔ اب شوق سے زیادہ گھر والوں کا اصرار تھا کہتے، ’’خرچے زیادہ ہیں، تمھیں تو بہت شوق تھا کام کا، اب کرو ناں…!‘‘
بھائیوں کی شادیاں ہوگئیں، ان کے لیے مَیں اجنبی بن گئی۔ ماں باپ مجھے سہارا سمجھتے ہیں کہ کمائے اور کھلائے۔ شوہر سے نام کا تعلق رہ گیا ہے۔ وہ بھی اس خرچے کی لالچ میں توڑ نہیں رہی کہ گھر والے مجھے چھوڑ دیں گے۔
میرے خواب تھے بہت… پڑھ کر پائلٹ بنوں، پھر جب پائلٹ بننے کا خواب دھندلا ہوا تو ائیر ہوسٹس بننے کا سوچتی رہی، پھر سکول ٹیچر۔ میرا حسن، میری جوانی، میری شخصیت میرے عیب ہو گئے ہیں۔ کہیں انٹرویو دینے جاتی ہوں تو اسے نوکری سے زیادہ میرے وجود کے طواف میں نظریں گمانے میں دلچسپی ہوتی ہے۔ میں جو چنچل تھی، شوخ تھی، پراعتماد تھی، ڈپریشن کی مریضہ بن کر رہ گئی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










