حالیہ برسوں میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اور امن معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا گیا، جب کہ حکومت نے اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا ثبوت قرار دیا۔ تاہم ان کام یابیوں کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عام پاکستانی کو اس سفارتی کام یابی سے کیا حاصل ہوا؟
یہ سوال نہ تو سفارت کاری کی مخالفت ہے اور نہ قومی مفادات سے انکار ہی ہے۔ یہ دراصل اُن لاکھوں پاکستانیوں کے روزمرہ مسائل سے جڑا ہوا ہے، جو مہنگائی، بے روزگاری، کم ہوتی قوتِ خرید، امن و امان کے مسائل اور غیر یقینی معاشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سفارت کاری ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں
کوئی بھی خودمختار ریاست سفارت کاری سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔ مؤثر سفارت کاری، بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بناتی ہے… سرمایہ کاری کو راغب کرتی ہے… نئی منڈیاں کھولتی ہے اور قومی سلامتی کو بہتر بناتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بھی خطے اور دنیا میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے… تاہم سفارت کاری کی کام یابی کا پیمانہ صرف بین الاقوامی تعریف، اعلا سطحی ملاقاتیں یا غیر ملکی دورے نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کوششوں کے نتیجے میں عوام کی زندگی میں کوئی بہتری آئی؟
اخراجات اور فوائد کا سوال
میڈیا رپورٹس کے مطابق اپریل 2022 کے بعد سے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے درجنوں غیر ملکی دورے کیے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ دورے سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی تعلقات کے فروغ کے لیے ضروری تھے۔ اصل مسئلہ دوروں کی تعداد نہیں، بل کہ ان کے نتائج ہیں۔ اگر ان سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں بہ راہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہو، برآمدات بڑھی ہوں، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہوں، یا توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون ملا ہو، تو ان اخراجات کا جواز موجود ہے… لیکن اگر عوام کی معاشی حالت میں نمایاں بہتری نہ آئی ہو، تو سوال اٹھانا ایک جائز حق ہے۔ ایک ایسے شہری کے لیے جو بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں، مہنگی اشیائے خور و نوش اور محدود آمدنی کے درمیان زندگی گزار رہا ہو، سفارتی کام یابی محض ایک خبر بن کر رہ جاتی ہے۔
سفارتی کام یابی اور عوامی زندگی کے درمیان فاصلہ
حکومتیں عموماً اپنی بین الاقوامی کام یابیوں کو نمایاں کرتی ہیں، لیکن عام شہری حکومت کی کارکردگی کو مختلف پیمانوں پر جانچتا ہے:
کیا اشیائے خورونوش سستی ہو رہی ہیں؟
کیا روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں؟
کیا بجلی اور گیس کی فراہمی بہتر ہو رہی ہے؟
کیا تعلیم اور صحت کی سہولیات میں بہتری آ رہی ہے؟
کیا عوام زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں؟
ان سوالات کے جوابات آج بھی بڑی حد تک اطمینان بخش نہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں مہنگائی نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کاروباری طبقہ بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی پالیسیوں سے پریشان ہے، جب کہ سرمایہ کار اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
داخلی سلامتی: سب سے بڑا چیلنج
پاکستان نے اگرچہ بین الاقوامی سطح پر ایک مؤثر سفارتی کردار ادا کیا ہے، لیکن داخلی سطح پر سلامتی کے چیلنجز بہ دستور موجود ہیں۔ مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور سرحدی مسائل برقرار ہیں، جب کہ مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ تعلقات بھی جمود کا شکار ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بہت سے پاکستانیوں کے نزدیک سب سے بڑی سفارتی کام یابی وہ ہوگی، جو خطے میں پائیدار امن قائم کرے اور تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھولے۔
اقتصادی سفارت کاری کے نتائج نظر آنے چاہییں
پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ دی جاسکتی ہے کہ ان کے ثمرات مستقبل میں اقتصادی فوائد کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔ اگر یہ سفارت کاری خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری، نئی منڈیوں تک رسائی، توانائی کے منصوبوں، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کام یاب ہوتی ہے، تو یقیناً اس کے مُثبت اثرات عوام تک پہنچیں گے… لیکن عوام وعدوں، اعلانات اور مفاہمتی یادداشتوں سے زیادہ عملی نتائج کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے لیے اصل کام یابی نئی فیکٹریوں، روزگار کے مواقع، بڑھتی برآمدات اور بہتر معیارِ زندگی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
عام آدمی کا فیصلہ
اگر اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ عام پاکستانی کو کیا ملا؟ تو جواب ملا جلا ہوگا۔ ایک طرف پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت منوائی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی نے پاکستان کے سفارتی وزن اور اہمیت کو اُجاگر کیا ہے۔ یہ کام یابی ملک کے وقار میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے اور مستقبل میں نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
دوسری طرف وقار اور بین الاقوامی تعریف عوام کے روزمرہ مسائل کا حل نہیں۔ یہ نہ بجلی کے بل کم کرتی ہے، نہ مہنگائی کو روکتی ہے اور نہ بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت ہی فراہم کرتی ہے۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ عالمی راہ نما پاکستان کی تعریف کرتے ہیں یا نہیں؟ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا پشاور کا دکان دار، پنجاب کا کسان، کراچی کا مزدور یا کوئٹہ کا بے روزگار نوجوان اپنی زندگی میں کوئی مُثبت تبدیلی محسوس کرتا ہے؟
جب تک سفارتی کام یابیوں کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچتے، تب تک یہ کام یابیاں ریاست کی کام یابیاں تو کہلائیں گی، عوام کی نہیں۔
سفارتی کام یابیاں یقیناً قابلِ ستایش ہیں، لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں عوام مہنگائی، بے روزگاری اور سلامتی کے مسائل سے دوچار ہوں، سفارت کاری کا اصل مقصد عوامی فلاح اور قومی خوش حالی ہونا چاہیے۔ اگر یہ مقصد حاصل نہ ہو، تو بین الاقوامی کام یابیاں عوامی سطح پر اپنی معنویت کھو دیتی ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










