ہم کہاں کھڑے ہیں؟

کبھی قدرتی آفات، کبھی دہشت گردی، کبھی کمر توڑ مہنگائی، کبھی معاشرتی ناہم واریاں، کبھی سفارش اور اقربا پروری، اور کبھی درندگی کی ایسی انتہا کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمیں آخر کس کس چیز سے بچنا ہوگا؟مسائل کی فہرست بنائیں، تو شاید ختم نہ ہو، مگر […]
حوثی تحریک کی تاریخ (آخری حصہ)

کسی بھی تحریک کا حقیقی مطالعہ صرف اُس کی عسکری قوت یا سیاسی کام یابیوں سے نہیں کیا جاسکتا، بل کہ اُس کے فکری ڈھانچے، مذہبی نظریات، ریاستی تصور اور مستقبل کے اہداف کو بھی سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی اُصول حوثی تحریک پر بھی صادق آتا ہے۔ اگرچہ آج دنیا اُنھیں ایک مسلح گروہ، […]
مروجہ جمہوری نظام اور اسلامی نظام

موجودہ دور میں جمہوریت کو دنیا کا مقبول ترین سیاسی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام اپنے نمایندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور یہی منتخب نمایندے ریاست کے معاملات چلاتے ہیں۔ بہ ظاہر جمہوریت مساوات، آزادی، عوامی نمایندگی اور حقوقِِ انسانی جیسے خوب صورت تصورات […]
نئے صوبے یا بااختیار بلدیات؟

پاکستان میں ان دنوں نئی چھوٹی انتظامی اکائیوں، نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر لے دے ہو رہی ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ریاست کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے؟ کسی کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ہونے چاہییں، کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حق میں ہیں […]
منشیات کا عفریت اور ہماری ذمے داری

معاشرے کی رگوں میں منشیات کا زہر اس تیزی سے اتر رہا ہے کہ اب یہ کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں، بل کہ پورے سماج کا بقائی مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر ’’آئس‘‘ نامی نشے نے تباہی کی جو داستان رقم کی ہے، اس نے ہمارے پُرسکون خاندانی نظام کو ہلا […]
حاجی بشیر احمد، اک عہد جو تمام ہوا

ہر زندگی اپنے اندر ایک کہانی لیے ہوتی ہے، مگر کچھ زندگیاں محض ایک فرد کی داستان نہیں رہتیں؛ وہ ایک ادارے، ایک طبقے، ایک پیشے اور ایک پوری نسل کی اجتماعی تاریخ بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی شخصیات میں حاجی بشیر احمد کا شمار بھی ہوتا ہے، جنھوں نے ملازمت کو محض روزگار نہیں، […]
امپیریل کالج لندن، ہمارے لیے آئینہ

آج کل لندن میں امپیریل کالج کے پڑوس میں رہنے کا اتفاق ہو رہا ہے۔ روزانہ اس کی تاریخی عمارتوں، مصروف راہ داریوں، آتے جاتے طلبہ اور علمی سرگرمیوں سے بھرپور ماحول کو دیکھتا ہوں۔ چند روز پہلے کالج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، تو خیال آیا کہ بعض ادارے محض عمارتوں، کلاس […]
حوثی تحریک کی تاریخ

مشرقِِ وسطیٰ کی سیاست میں اگر کسی تحریک نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں عالمی طاقتوں، عرب ریاستوں اور خطے کی سلامتی کے توازن کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تو وہ یمن کی ’’حوثی تحریک‘‘ ہے۔ آج بہت سے لوگ انھیں صرف ایک مسلح گروہ یا ایران کے اتحادی کے طور پر جانتے […]
ہشمت کا خون سوال بن کر کھڑا ہے

مدین کی وادی میں ایک اور معصوم کلی مسل دی گئی۔ 9 سالہ معصوم اور باپ کے سائے سے محروم ہشمت، جس کی عمر کھیلنے، ہنسنے اور اپنے خواب سجانے کی تھی، مبینہ طور پر ایک سفاک انسان کی درندگی کا شکار ہوئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔یہ خبر صرف ایک گھر کے […]
اخوند خیل قومی اتحاد کا مقصد

ہر قوم اپنی تاریخ، روایات، اقدار اور بزرگوں کی میراث سے پہچانی جاتی ہے۔ پشتون معاشرے میں ’’پختون ولی‘‘ بھی صدیوں سے ایک طرزِ زندگی کے طور پر موجود رہی ہے، جس نے پشتونوں کی اجتماعی زندگی، باہمی تعلقات اور معاشرتی رویوں کو ایک مخصوص رنگ دیا ہے۔ مہمان نوازی، سخاوت، وفاداری، وعدے کی پاس […]
اداروں کی بھرمار اور نتیجہ صفر

دبئی کا ذکر آتے ہی ایک سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ وہاں ہمیں ہر مسئلے کے لیے اے سی، ڈی سی، ایس پی، ایس ایچ اُو اور درجنوں دیگر عہدوں کی وہ بھرمار کیوں دکھائی نہیں دیتی، جو ہمارے ہاں نظر آتی ہے؟ نہ ہر گلی میں کھلی کچہریوں کا شور سنائی دیتا […]
قائدانہ صلاحیتیں جاپان سے سیکھیں

قائدانہ صلاحیتوں سے مراد وہ مہارتیں ہیں، جو ریاستی اداروں، انتظامی امور، سفارتی و بین الاقوامی تعلقات اور ریاست کی معاشی حالت کو بہتر بناسکیں۔ ریاستی ترجیحات کا بروقت تعین کرنا، فوری فیصلہ سازی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اور کسی بھی اندرونی و بیرونی دباو کے وقت پُرسکون رہنا، قائدانہ صلاحیتوں کا […]
تاریخ کی موت…؟

کسی قوم کے بارے میں یہ جاننے کا ایک غیر معمولی طریقہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتی ہے۔ قومی تقریریں بدل سکتی ہیں، سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اخبارات کے اداریے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن سکول کی کتاب میں درج ایک واقعہ کئی نسلوں کے ذہن میں اس […]
لوڈشیڈنگ: بحران یا کسی منصوبے کی بنیاد؟

لوڈشیڈنگ کے ذریعے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اگر محض بجلی کی قلت کا نتیجہ نہیں، بل کہ کسی بڑے منصوبے کی بنیاد ہو، تو یہ سوال انتہائی سنجیدہ نوعیت اختیار کرلیتا ہے کہ آخر اس بحران سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟پاکستان میں توانائی کے بحران کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ ماضی […]
اصلاح حکومت نہیں، رویے بدلنے سے ممکن ہے

ہم جس بدبودار نظام میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کی بدبو صرف آج کی پیداوار نہیں۔ یہ تقریباً 80 سال کے جمع شدہ گند کا نتیجہ ہے۔ اس گندگی کو کسی ایک حکومت، ایک ادارے، ایک سیاسی جماعت یا چند افراد کے سر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ […]
قوم، نسل: شناخت کا سائنسی و تاریخی تصور

یہ سوال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان ہے کہ کون ہوں مَیں؟ کیا میری شناخت میرے خون میں ہے، میرے ڈی این اے میں ہے، میری زبان میں ہے، میرے وطن میں ہے یا پھر میری تہذیب اور تاریخ میں؟ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے انسان نے کبھی قبیلے بنائے، کبھی سلطنتیں قائم […]
تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو

ہمارے ہاں صدیوں سے یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی حادثہ پیش آ جائے، یا کوئی ہنگامی صورتِ حال درپیش ہو، تو لوگ مشترکہ طور پر اس سے نمٹتے ہیں۔ سیلاب میں لوگوں کی جانیں بچا کر انھیں محفوظ مقامات تک پہنچانا، مال مویشیوں اور گھریلو سامان کو بھی نکال […]
امتحانی اصلاحات یا انتظامی تجربات؟

تعلیمی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، لیکن ہر اصلاح کی کام یابی کا معیار اس کے نتائج ہوتے ہیں۔ حالیہ بورڈ امتحانات میں کیے گئے بعض انتظامی تجربات نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کے ذہنوں میں کئی سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں، جن کے جواب دینا متعلقہ حکام کی ذمے داری […]
صاحب زادہ فاروق جان، علم و اخلاص کا پیکر

یوں تو پرائمری جماعت سے لے کر ایف ایس سی تک میرے تمام اساتذۂ کرام میرے لیے انتہائی قابلِ احترام رہے ہیں۔ تقریباً ہر ایک نے میری علمی و فکری تربیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اُن کی محبت و شفقت آج بھی میرے دل میں محفوظ ہیں۔ تاہم نویں اور دسویں جماعت کے […]
دہشت گردی سے بڑا مسئلہ…!

کیا ہمارے صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ صرف دہشت گردی ہے؟کیا کبھی ہم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ دہشت گردی میں مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور ہمارے اپنے لوگ ذاتی دشمنیوں، معمولی تنازعات، زمین کے جھگڑوں، چوری، غیرت، انا اور بندوق کے بے دریغ استعمال سے ایک دوسرے کو کتنی […]
مکہ معاہدہ: طاقت کا نیا محور؟

رواں ماہ دنیا کی تین بڑی مسلم ریاستوں (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے درمیان ’’مکہ‘‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنم لیا ہے۔ معاہدے کے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں دست خط کنندگان میں سے اگر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، […]