مروجہ جمہوری نظام اور اسلامی نظام

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

موجودہ دور میں جمہوریت کو دنیا کا مقبول ترین سیاسی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام اپنے نمایندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور یہی منتخب نمایندے ریاست کے معاملات چلاتے ہیں۔ بہ ظاہر جمہوریت مساوات، آزادی، عوامی نمایندگی اور حقوقِِ انسانی جیسے خوب صورت تصورات پیش کرتی ہے، لیکن عملی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مروجہ جمہوری نظام واقعی بین الانسانی مساوات، سماجی عدل اور انصاف کے تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کرسکا ہے؟
جمہوریت میں اصولاً ہر شہری کو برابر کا ووٹ حاصل ہوتا ہے، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، دیانت دار ہو یا بدعنوان، اہل ہو یا نااہل۔ اس طرح حکم رانی کے منصب تک پہنچنے کے لیے علمی بصیرت، کردار، تقوا اور انتظامی صلاحیت کے بہ جائے عوامی مقبولیت، سیاسی اثر و رسوخ، دولت، تشہیر اور جماعتی طاقت اکثر بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ نتیجتاً بعض اوقات ایسے افراد بھی اقتدار میں آجاتے ہیں، جو ریاستی ذمے داریوں کو نبھانے کے لیے مطلوبہ اہلیت نہیں رکھتے۔
مروجہ جمہوری سیاست میں انتخابی عمل بھی اکثر سرمایہ اور طاقت کے اثرات سے آزاد نہیں رہتا۔ انتخابی مہمات پر خطیر رقوم خرچ ہوتی ہیں، ذرائع ابلاغ اور تشہیری مہمات رائے عامہ کو متاثر کرتی ہیں اور بعض معاشروں میں برادری، لسانیت، علاقائیت اور مفادات کی سیاست انتخابی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ یوں عوامی حاکمیت کا تصور بعض اوقات عملی طور پر مخصوص سیاسی و معاشی طبقات کے اثر و رسوخ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں سماجی مساوات اور حقیقی انصاف ایک بڑا چیلنج بن جاتے ہیں۔
اس کے برعکس اسلام نے حکم رانی کو محض اقتدار یا عوامی مقبولیت کا ذریعہ نہیں، بل کہ ایک عظیم امانت اور ذمے داری قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُن کے اہل لوگوں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘ (النساء: 58)
محولہ بالا آیت میں حکم رانی اور فیصلہ سازی کے لیے دو بنیادی اصول واضح کیے گئے ہیں:
1) امانت اہل افراد کے سپرد کی جائے۔
2) عدل کے ساتھ فیصلے کیے جائیں۔
اسلامی تصورِ حکم رانی میں حاکم خود بھی قانون اور اخلاقی ذمے داری سے بالاتر نہیں ہوتا۔ اسلام میں حکم ران کے لیے علم، تقوا، عدل، امانت، دیانت اور اہلیت بنیادی اوصاف ہیں۔ اقتدار کسی فرد یا خاندان کی موروثی ملکیت نہیں، بل کہ ایک ذمے داری ہے، جس کے بارے میں آخرت میں جواب دہی کا تصور موجود ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر شخص نگہ بان ہے اور ہر شخص سے اُس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اسلامی نظام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ قانون کی نظر میں انسانوں کے درمیان بنیادی انسانی قدر و منزلت میں امتیاز نہیں۔ کسی شخص کو محض دولت، نسل، خاندان، رنگ یا قومیت کی بنیاد پر برتری حاصل نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں انسانی مساوات کا عظیم اُصول بیان کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر تقوا کے سوا کوئی فضیلت نہیں۔
اسلامی تعلیمات میں عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں، بل کہ معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے۔ قرآن مجید کا حکم ہے: ’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دو، خواہ وہ گواہی خود تمھارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء: 135)
اس اُصول کے تحت حکم ران کو بھی عدل کا پابند کیا گیا ہے اور عام شہری کو بھی۔
اسلامی نظامِ حکم رانی کا اصل امتیاز یہ ہے کہ یہاں اقتدار کو مقصدِ زندگی نہیں، بل کہ خدمتِ خلق اور اقامتِ عدل کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک صالح حکم ران اپنی ذات، خاندان یا جماعت کے مفاد کے بہ جائے رعایا کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو مقدم رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سیاسی فکر میں حکم ران کے کردار، تقوا اور اہلیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی سیاسی نظام کی کام یابی صرف اس کے نام یا دعوے سے نہیں، بل کہ اس کے اُصولوں کے صحیح نفاذ سے ہوتی ہے۔ جس طرح جمہوریت میں اُصولوں کی خلاف ورزی اس کے نتائج کو متاثر کرسکتی ہے، اسی طرح اسلامی نظام کے نام پر عدل، امانت اور شورا کے اُصولوں کو نظر انداز کیا جائے، تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا اصل ضرورت ایسے نظامِ حکم رانی کی ہے، جس میں اقتدار امانت ہو، حکم ران جواب دِہ ہو، قانون سب کے لیے یک ساں ہو، اہل افراد کو ذمے داریاں دی جائیں اور معاشرے کے کم زور طبقات کے حقوق محفوظ ہوں۔
نتیجتاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسلام نے حکم رانی کے لیے محض عددی اکثریت یا عوامی مقبولیت کو کافی نہیں سمجھا، بل کہ اہلیت، امانت، عدل اور تقوا کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اسلامی تصورِ سیاست میں حکم ران عوام کا مالک نہیں، بل کہ ان کا خادم اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ امانت دار ہے۔ اگر معاشرے میں حقیقی مساوات، سماجی عدل، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا تحفظ مطلوب ہو، تو محض سیاسی نعروں کے بہ جائے ان اُصولوں پر غور کرنا ہوگا، جو اسلام نے عدل اور حکم رانی کے لیے متعین کیے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے