ناخود کپتان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)یہ بات کافی واضح ہے کہ ایک اشرافی نظام ہمیشہ ملک کے اعلا طبقے کو فائدہ دیتا ہے اور یہ طبقہ ریاست کے ہر ادارے میں غالب رہتا ہے۔ کچھ استثنائی صورتیں بھی دیکھی گئی ہیں، […]
جہانزیب کالج میں میرا پہلا اینول ڈے

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1958ء میں ودودیہ سکول سے سکول لیونگ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد، مَیں نے علاقے کے سب سے معزز اور معروف کالج، جہانزیب کالج سیدو شریف، میں داخلہ لیا۔ میرا گھر افسر آباد میں تھا اور […]
ریاست سوات کی ملیشا: ایک تعمیری ادارہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جب یوسف زئی ریاستِ سوات مضبوط بنیادوں پر قائم ہوئی اور اس کی سرحدیں محفوظ ہوگئیں، تو دیر اور امب جیسی پڑوسی ریاستوں کے خطرات ماضی کا حصہ بن گئے۔جب اقتدار میاں گل جہانزیب کو سونپ […]
ریاست سوات کا شاہی بینڈ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میرے خیال میں، مَیں نے ریاستِ سوات کے بہت سے محکموں پر بات کی ہے، لیکن ایک ایسا محکمہ بھی تھا جس کا ذکر کرنا ضروری ہے، اور وہ تھا ’’ریاستی شاہی بینڈ۔‘‘ریاست کا اپنا قومی […]
ریاستِ سوات اور علمائے کرام

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)فضل محمود روخان صاحب کا تحریر کردہ کتابچہ ’’مارتونگ بابا جی‘‘ کو پڑھتے ہوئے مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ اگرچہ میاں گل عبد الودود (ریاستِ سوات کے بانی المعروف بادشاہ صاحب) پڑھنے لکھنے سے […]
ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]
ریاست سوات کا جہانزیب کالج

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے تمام تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ آٹھویں، دسویں، انٹرمیڈیٹ اور بیچلر سطح کے امتحانات صوبے کے دیگر سکولوں اور کالجوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن کی نگرانی پشاور […]
ریاست سوات کی فورسز کا ترقیاتی کاموں میں کردار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات، جو اندرونی طور پر ایک خود مختار ریاست تھی، دیر اور امب کے ہمسایہ ریاستوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے باقاعدہ مسلح افواج رکھتی تھی۔ داخلی سلامتی اور امن و امان قائم […]
ریاست سوات: تعلیمی سہولیات اور چند ذہین طلبہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری زندگی میں پہلی بڑی تبدیلی وہ تھی، جب مَیں 1950ء میں، سکول میں داخل ہوا۔ مجھے صبح بہت جلد اُٹھنا پڑتا تھا اور سکول کے لیے تیاری کرنی پڑتی تھی۔ میرا سکول شگئی میں تھا، […]
ریاستِ سوات میں محصولات کا نظام

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی دنوں میں، آمدنی کے ذرائع متعین نہیں تھے اور زیادہ تر ریاستی اخراجات مینگورہ کے ایک بہت ہی امیر تاجر شمشی خان کی طرف سے کی گئی نقد امداد سے […]
ریاست سوات کے اداروں کا ریکارڈ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)28 جولائی 1969ء کی شام کو، اپنی ماہانہ قوم سے خطاب میں، احمق جنرل یحییٰ خان نے سوات، دیر اور چترال کی ریاستوں کے مغربی پاکستان میں انضمام کا اعلان کیا۔ یہ عام آدمی کے لیے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیاون ویں قسط)

بیوی کے گردے کی پیوند کاری کے لیے مجھے کچھ رشتہ داروں سے قرض پر رقم لینا پڑی تھی۔ مَیں باقی سب انجینئرز کی طرح نہیں تھا، جو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اتنا کما جاتے ہیں کہ مالی طور پر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ آپریشن کے بعد کا علاج بھی میری دسترس سے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پچاس ویں قسط)

ہمیں اپنے باورچی خانے میں کام کرنے کے لیے ایک یا دو آدمیوں کی ضرورت رہتی۔ اس لیے ہم اپنے ساتھ ڈیوٹی پر آنے کے لیے دو روڈ ورکرز کو بلاتے تھے۔ کچھ عرصے بعد گورنمنٹ نے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے تمام کلاس فور ملازمین کو افسروں کے گھروں میں کام کرنے سے روک […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُننچاس ویں قسط)

یہ غالباً ستمبر 2011ء کا پہلا ہفتہ تھا۔ مجھے جناب فضل ربی راہی کا فون آیا، جس میں انھوں نے مینگورہ میں ان کے دفتر اور کتابوں کی دکان میں ملنے کو کہا۔ وہ میرے لیے اجنبی نہیں تھے۔ ان کے پبلشنگ ہاؤس نے جولائی 2007ء میں میری اور ڈاکٹر امیر فیاض پیر خیل کی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتالیس ویں قسط)

نومبر 1993ء سے شروع ہونے والا بونیر میں میرا دوسرا سپیل پہلے کی طرح رنگین نہیں تھا۔ مَیں اب 50 سال کا ہوچکا تھا اور ایک متحرک نوجوان کی دل کشی اور رنگین مزاجی کھوچکا تھا۔ کلاس ون رہایش گاہ میں رہنے کا عیش و آرام قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ اب اگلے پانچ یا […]
کیا مرغی/ بکرا پالنے پر صدر مقام میں پابندی تھی؟

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے یاد نہیں کہ عوام میں یہ مغالطہ کیسے پروان چڑھا کہ اُس وقت کی ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں بکریوں اور مرغوں کی گھروں میں پالنے کی اجازت نہیں تھی۔ مَیں نے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھیالیس ویں قسط)

ایک دن جب میں ڈویژنل آفس آیا، تو چترال کے سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن میں میرا ٹرانسفر آرڈر میرے حوالے کر دیا گیا۔ مجھے سرفراز کی جگہ ٹرانسفر کیا گیا تھا، جب کہ اس کا کسی اور سٹیشن پر ٹرانسفر ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے مسٹر ایکس نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور اصرار […]
سوات میں خواتین کے اولین تعلیمی ادارے

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جہاں تک مجھے یاد ہے ، ہمارے سکول میں کسی حد تک مخلوط طرزِ تعلیم تھی۔ جب ہم شگئی، سیدو شریف میں ایک سکول میں داخل ہوئے، تو تقریباً ہر کلاس میں لڑکیاں پڑھ رہی تھیں۔ […]
ریاست سوات میں غبن کا ایک واقعہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے علاقے بنجوٹ میں ’’اپنی مدد آپ‘‘ کی بنیاد پر ایک پرائمری سکول کی تعمیر جاری تھی۔ مقامی افراد نے تعمیراتی مواد جیسے پتھر، لکڑی کے تختے اور کڑیاں وغیرہ فراہم کیے تھے، جب […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تریالیس ویں قسط)

بہ حیثیت مجموعی میں اپنے افسر، ساتھیوں اور ماتحت عملے سمیت، سب کے ساتھ ’’کمفرٹ ایبل‘‘ تھا۔ 14 ستمبر 1987ء کو ایک بڑا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ مَیں نے اُس دن دفتر سے چھٹی لی تھی۔ اچانک مَیں نے سڑک پر دفتر کی جیپ کا ہارن سنا۔ میرے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ […]
پختو دور کی کچھ اور خصوصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میرے مضمون بہ عنوان ’’پختو دور اور اس کی کچھ خصوصیات‘‘ کے ضمیمہ کے طور پر قارئین کی عمومی رائے کے لیے درجِ ذیل گزارشات شامل کرنا چاہتا ہوں۔اگرچہ یہ دور معاشرے کے پسے ہوئے […]