پاک امریکہ تعلقات: آغاز سے تاحال (مختصر جائزہ)

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پیچیدہ اور مختلف عوامل پر مبنی ہے، جن میں جغرافیائی سیاست، عسکری اتحاد اور اقتصادی مفادات شامل ہیں۔ ان تعلقات نے کئی دہائیوں میں نشیب و فراز دیکھے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے لیے، بل کہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے رہے۔ اس مضمون […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتیس ویں قسط)

ایس ڈی اُو کا انحصار مکمل طور پر اس لڑکے پر تھا۔ دفتر کا سارا کام اس پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سرکاری خط و کتابت کرتا۔ اس کی غیر موجودگی میں ایس ڈی او کی طرف سے دستخط کرتا۔ آنے جانے والے خط و کتابت کا ریکارڈ رکھتا۔ مختصر یہ کہ وہ انجن تھا، […]
ٹی بی پرہیز اور ہمارا معاشرہ

تحریر: ڈاکٹر نعمان خان قارئین! بہ حیثیت ایک چیسٹ اسپیشلسٹ مجھے اس بات پر سخت افسوس ہوتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی ’’ٹی بی‘‘ جیسی پرانی بیماری کی تشخیص میں بہت دیر لگتی ہے اور مریض ہم تک پہنچتے پہنچتے کافی کم زور ہوچکا ہوتا ہے۔ٹی بی کا مرض اگر چہ قابلِ علاج […]
’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ اہلِ سوات سے اپیل

اے اہلِ سوات! ہم آپ کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ سرکاری کمپنی ’’پیڈو‘‘ بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے مدین سے کالام گبرال تک پورے دریائے سوات کو سرنگوں میں چھپانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خصوصاً ہم اہلِ بحرین، سوات کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ پیڈو نے بحرین کے […]
ضیاء الدین اور موت پرست سماج

ضیاء الدین کالج میں میرا کلاس فیلو تھا۔ بہت معصوم، خوش اخلاق اور زندہ دل لڑکا تھا۔قارئین! کیا آپ نے وہ کم یاب لوگ دیکھے ہیں، جن کے بارے میں یقین ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی کا برا نہیں چاہیں گے اور نہ وہ کسی کا برا کرسکتے ہیں؟ ضیا بھی انھی جیسا تھا۔کالج […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتیس ویں قسط)

پشاور سے پہلی آڈٹ ٹیم 1970ء میں آئی اور ہمارے دفتر میں اپنا کام شروع کر دیا۔ مجھے ایکس ای این عبدالرحیم خان نے آڈٹ ٹیم کے ساتھ کام کے لیے کہا۔ انھوں نے آڈٹ کا آغاز ریاست کے آخری سال سے شروع کرنا چاہا۔ مَیں نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس والی […]
تحریکِ انصاف والے ہوش کے ناخن لیں

ہم روزنامہ آزادی کے انھی صفحات پر بار ہا تحریک انصاف کو یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ وہ حقائق کو مد نظر رکھے اور ملک کے نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے کہ جو اس کا انتخابی منشور بھی تھا اور نعرہ بھی۔کسی بھی ملک کا نظام سیاسی طاقت کے بغیر نہیں بدلتا […]
نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل سکلز کی اہمیت

آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ڈیجیٹل مہارتیں نوجوانوں کے لیے لازمی صلاحیت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ چوں کہ ٹیکنالوجی، زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرگئی ہے، یعنی تعلیم سے لے کر روزگار تک، ڈیجیٹل مہارتوں کا ہونا نہ صرف فائدہ مند ہے، بل کہ یہ کام یابی کے لیے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھتیس ویں قسط)

سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ امور بی/ آر ڈویژن کے قیام کے بعد، ہمارے پہلے ایگزیکٹو انجینئر جناب عبدالرحیم خان نے چارج سنبھالا۔ سیدو شریف کو نو تشکیل شدہ ملاکنڈ ڈویژن کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بھی قرار دیا گیا تھا۔ کیوں کہ سوات کے عظیم حکم ران کی طرف سے تعمیر کیے […]
سالِ نو کا جشن اور حرام و حلال کا قضیہ

ایک دن بعد ایک نیا سال شروع ہوجائے گا۔ سالِ نو کی جشن کو باقاعدہ ایک تہوار بنایا گیا ہے۔ ہر ملک میں اس کو منانے کا انداز الگ الگ ہوتاہے۔ کچھ لوگ اس موقع کوبھی خوش اور غم کے ملے جلے جذبات میں تقسیم کرتے ہیں۔ جو طبقہ اس جشن کو لمحۂ افسوس قرار […]
اخوند عبد الغفور (سیدو بابا): ’’پوپ آف سوات‘‘

٭ تعارف:۔ سوات کے مذہبی اور سیاسی اُفق پر اخوند آف سوات کا کردار انتہائی نمایاں اور موثر رہا ہے۔ اُن کے روحانی اثر و رسوخ نے نہ صرف سوات، بل کہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزوں نے اُنھیں ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اثرات کی بنا […]
قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ (مرحوم)

(مرحوم) قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ سوات بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ابتدائی ممبر تھے۔وکالت کا پیشہ ڈھیر سارے لوگوں نے سنا ضرور تھا، مگر وکیل کی شخصیت کیا اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ ٹی وی اور فلموں ہی میں دِکھتا تھا۔ مکان باغ سے گزرتے ہوئے قاضی امداد اللہ وکیل صاحب […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (پینتیس ویں قسط)

17 اگست 1969ء کو جناب ہمایون جو اُس وقت پی اے ملاکنڈ ایجنسی تھے، سوات پہنچ گئے اور مقبوضہ ریاست کا چارج سنبھال لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انضمام کا اعلان عجلت میں کیا گیا تھا۔ بغیر اس منصوبہ بندی کے، کہ نیا نظام کیسے متعارف کرایا جائے اور عوام کو تبدیلی کو قبول کرنے […]
آرتھر شوپن ہاور کا قول اور اس کی وضاحت

تحریر: امیر بادشاہدست قول ملاحظہ ہو: ’’زیادہ تر یہ نقصان ہے، جو ہمیں چیزوں کی قدر کے بارے میں سکھاتا ہے!‘‘یہ قول ہمیں آرتھر شوپن ہاور کے ایک گہرے فلسفیانہ مشاہدے سے روشناس کراتا ہے۔شوپن ہاور ایک 19ویں صدی کے جرمن فلسفی تھے، جنھوں نے زندگی کو ایک بے معنی اور تکلیف دِہ جد و […]
امبیلہ مہم اور اخوند سوات (سیدو بابا) کا کردار

٭ تاریخی پس منظر:۔ 1849ء میں برطانوی ہندوستان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی کی تحریک سے جڑے مجاہدین نے ستھانہ اور ملکا کو اپنے مراکز بناکر انگریزوں کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ برطانوی حکام نے […]
دیر: تحقیق کے لیے کھلا میدان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’سوات‘‘ ہمیشہ سے تاریخ دانوں، سیاحوں، ماہرینِ بشریات (Social Anthroplogists) اور عُمرانیات کے ماہرین کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے ہمسایہ ریاستِ دیر کی بہ نسبت، سوات ہمیشہ ہر قسم کے حملوں کے […]
شہزادہ اسفندیار: ہیرو، جسے بھلا دیا گیا

جب بھی میں سوات جاتا ہوں اور چکدرہ ملاکنڈ میں دریا کے پار ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع چرچل پیکٹ کو دیکھتا ہوں، تو یہ مجھے گہرے خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ برطانوی سلطنت میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس کی دھوپ کبھی غروب نہ ہوئی۔ ان […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چونتیس ویں قسط)

مَیں اس مخمصے کا شکار ہوں کہ ایک پُرامن، ترقی پسند اور خوش حال ریاست کے سنہری دور کے اختتام کو کیسے بیان کروں؟ یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خلا سے کششِ ثقل کے حدود میں بغیر پیراشوٹ کے داخل ہونا۔28 جولائی 1969ء نے ہر اس چیز کا خاتمہ کر دیا، جو ہمیں […]
’’پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘

اس کرہِ ارض پرہر انسان کی پہچان اس کے اعلا و ارفع اوصاف سے ہوتی ہے۔ دیانت و امانت کا وصف وہ گوہرِ نایاب ہے، جو انسان کو عرش تک رسائی کے صلے سے نواز دیتا ہے۔ اگرہم تاریخ کے اوراق کو کھنگالیں، تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرانی ہو تی ہے کہ اہلِ صفا […]
سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]
حالیہ مذاکرات کا مقصد کیا ہے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان، جو خود کو عوامی سیاست کا علم بردار سمجھتے ہیں، ایک عرصے سے سیاست میں اکیلے قدم رکھے ہوئے ہیں، لیکن جب بات، بات چیت یا مذاکرات کی آتی ہے، تو ان کا موقف ہمیشہ متنازع رہا ہے۔مذاکرات کے حوالے سے عمران خان کا جو کردار اَب تک […]