مولانا صاحب زادہ جہانزیب فاروقی سرہندی

صوبہ خیبرپختونخوا کی سرزمین ہمیشہ ایسے رجالِ کار کی امین رہی ہے، جنھوں نے علم و عمل کے ذریعے نہ صرف اپنے گرد و پیش کو بدلا، بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری و عملی راہ نمائی کا سامان بھی مہیا کیا۔ انھی نابغۂ روزگار شخصیات میں شیخ الحدیث حضرت مولانا صاحب زادہ […]
ریاستِ سوات، صحافت کا ارتقا اور ’ماما‘

صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ […]
محنت کی پہچان اور شعور کی بیداری

دنیا کی ہر ترقی، ہر عمارت اور ہر کام یابی کے پیچھے اگر کسی ایک طاقت کا سب سے بڑا کردار ہے، تو وہ مزدور کی محنت ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے، جو اپنے وقت، صلاحیت اور جسمانی و ذہنی توانائی کو صرف کرکے معاشرے کے نظام کو چلائے رکھتا ہے… مگر افسوس کی بات […]
قرض، حکم رانی اور قومی خود مختاری کا سوال

پاکستان کی معیشت اور سیاست کا باہمی تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گذشتہ 75 برسوں میں ہم نے بارہا ایسے ادوار دیکھے ہیں, جب قومی فیصلے داخلی ضرورتوں کے بہ جائے بیرونی دباو کے تحت کیے گئے۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ہماری سیاسی اشرافیہ واقعی عوامی […]
ایدھی کا روپ دھارے محمد ہلال

دنیا کی رنگینیوں اور مادہ پرستی کے اس ہجوم میں جہاں ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں مقید ہے اور نفسا نفسی کا عالم ہر سو برپا ہے، وہاں کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کا جینا اور مرنا محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بل کہ انسانیت کی فلاح کے لیے […]
تورگل، ایک آواز یا بھولی ہوئی بیداری؟

سیاسی تاریخ کے بعض لمحات محض واقعات نہیں ہوتے، بل کہ وہ اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، اور اس کے نتیجے میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور مرکز میں سیاسی بساط لپیٹی گئی، تو اس پورے منظرنامے نے جہاں […]
تعریف، دھوکا یا سیاست؟

نسانی نفسیات کا ایک انتہائی پیچیدہ اور دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ہم سب اپنی اہمیت اور قدر کے اعتراف کے متلاشی ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی ہو، ڈیجیٹل دنیا ہو، یا ملکی سیاست… ہر جگہ تعریف، سراہنا اور خوشامد کا عمل دخل نمایاں نظر آتا ہے۔ چاپلوسی بنیادی طور پر وہ مثُبت تعریف […]
جمال عبدالناصر، عرب وقار کی علامت

قاہرہ کی گرم شاموں میں ایک زمانہ ایسا بھی تھا، جب ریڈیو کی آواز پورے عرب جہاں میں گونجتی تھی۔ لوگ چائے خانوں میں جمع ہوتے، بازاروں میں خاموشیاں چھا جاتیں اور گھروں میں کان ایک آواز پر لگ جاتے۔ وہ آواز ایک ایسے راہ نما کی تھی، جس کے الفاظ میں شکستہ قوموں کے […]
فخر کا حقیقی معیار… نسب یا کردار؟

انسانی سماج میں شناخت (Identity) ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی نسب، خیل، قبیلے یا قوم سے وابستہ ہوتا ہے… اور اسی وابستگی کے ذریعے وہ اپنی پہچان قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے: ’’زه په خپل نسب/ خیل/ قبيله/ قوم فخر کوم!‘‘ تو بہ ظاہر وہ اپنی شناخت […]
پاک-چین دوستی… ترقی کا خواب ادھورا کیوں؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی ملٹری، ٹیکنالوجی اور معاشی سپر پاؤر چین ہمارے دروازے پر موجود ہے، مگر ہم اس قربت سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے جس کی توقع کی جاتی تھی۔ پاک-چین دوستی کو اکثر ’’ہر موسم کی دوستی‘‘ قرار دیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ […]
کامریڈ کم ایل سنگ

تاریخ کے کینوس کو غور سے دیکھیں، تو کچھ افراد محض شخصیات نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مزاحمت کی دھڑکن، خودمختاری کا استعارہ اور طاقت و نظریے کے درمیان جاری کش مہ کش کا زندہ حوالہ…!کامریڈ کم ایل سونگ بھی ایسے ہی فرد کا تعارف ہے، جس نے نہ صرف ایک […]
عالمی یوم ورثہ اور جشن پختونخوا

(نوٹ:۔ یہ تحریر موقع کی مناسبت سے ڈاکٹر رفیع اللہ نے 18 اپریل 2026 کو ارسال کی تھی۔ ادارہ اسے بروقت شائع نہیں کرپایا، اس غفلت کے لیے ادارہ ڈاکٹر رفیع اللہ کے ساتھ ساتھ معزز قارئین سے بھی معذرت خواہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) آج (18 اپریل) عالمی سطح پر ہیریٹیج، یعنی تاریخی […]
ملاکنڈ کا تاریخی جرگہ، چند فیصلے اور اثرات

جرگہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مفہوم اجتماعی فکر، اشتراکیت اور متفقہ فیصلہ ہے۔ اسی لیے پشتون معاشرے میں ان مقاصد کے حصول کے لیے لفظ ’’جرگہ‘‘ مستعمل ہے، جب کہ دیگر اقوام میں عربی میں ’’شوریٰ‘‘، ہندی اور پنجابی میں ’’پنجائیت‘‘ اور انگریزی میں ’’پارلیمنٹ‘‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ صدیوں پر محیط […]
نظریہ اور نعرے

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام میں سیاسی جماعتیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعت محض چند افراد کے گروہ کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک ایسے منظم ادارے کا نام ہے، جہاں ہم خیال لوگ ایک مخصوص نظریے اور ضابطۂ اخلاق کے تحت اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک مثالی سیاسی […]
ہم سب کا شاہین

پرندوں میں ’’شاہین‘‘ بلند پرواز، گہری نظر، خودی و خودداری، بہادری، بلند ہمتی، جلالی و کمالی جذبہ، حریت پسندی اور جہدِ مسلسل کے لیے مشہور ہے۔ بہ دیں وجہ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے نوجوان کو ’’شاہین‘‘ کا خطاب دیا۔لیکن آج میں جس شاہین کے حوالے سے بات کرنے جا رہا ہوں، وہ […]
فارن فنڈنگ کیس: سیاست، قانون اور اداروں کی آزمایش

پاکستان کی سیاست میں بعض مقدمات وقتی ہنگامہ نہیں, بل کہ تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ممنوعہ یا ’’فارن فنڈنگ کیس‘‘ بھی انھی میں سے ایک ہے… ایک ایسا مقدمہ جو بہ ظاہر مالی بے ضابطگیوں سے شروع ہوا، مگر اب ریاستی اداروں کی ساکھ، قانون کی بالادستی اور جمہوری شفافیت کے […]
جنریشن گیپ… سلگتا مسئلہ

آج کے جدید دور میں ’’جنریشن گیپ‘‘ ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے، جو تقریباً ہر گھر، ہر معاشرے اور ہر رشتے میں کسی نہ کسی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ صرف عمر کا فرق نہیں، بل کہ سوچ، اقدار، ترجیحات اور زندگی گزارنے کے انداز کا فرق ہے۔ ایک طرف وہ نسل ہے، […]
حاشیے پر پڑے ایک طالب علم کا سفر

یہ ایک سچّی کہانی ہے۔ پڑھنے سے آپ کو یہ اندازہ ہوگا کہ کس طرح مختلف عوامل مل کر ہمارے نوجوانوں کو ’’دہشت گردی‘‘ اور ’’مذہبی انتہا پسندی‘‘ کی طرف لے جاتے ہیں۔ کہانی میں ہم مذکورہ کردار کے اصل نام کی بہ جائے اُس کے بچپن کا قلمی نام ”پہاڑی بچہ“ استعمال کرتے ہیں۔وہ […]
قومی وقار … ہماری اصل طاقت

پاکستان کا وقار سب سے بلند ہے۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں، ایک حقیقت ہے… ایک ایمان ہے، ایک ذمے داری ہے۔ یہ ملک ہماری پہچان ہے، ہماری شناخت ہے، ہماری اجتماعی روح کا مظہر ہے۔ جو قوم اپنی پہچان کھو دیتی ہے، وہ تاریخ کے اوراق سے مٹ جاتی ہے، اس کا وجود صرف […]
فیض احمد فیض (شخصیت و فن)

جدید ادبی اور سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات کا ایسا مقام ہوتا ہے، جو محض ادیب یا شاعر نہیں رہتیں، بل کہ ایک عہد کی فکری، نظریاتی اور اخلاقی علامت بن جاتی ہیں۔ اُردو شاعری میں فیض احمد فیضؔ اسی نوعیت کی شخصیت کا نام ہے۔ اُن کی شاعری میں محبت اور انقلاب ایک دوسرے […]
امریکہ ایران مذاکرات، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر 6 اپریل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی، تو وہ پورے ایران کو تباہ کرکے اسے دوبارہ پتھر کے دور میں دھکیل دے گا۔ ٹرمپ کے بہ قول، ایک ہی رات میں پوری تہذیب مٹ سکتی ہے… پھر پل باقی رہیں گے، نہ بجلی […]