جہانزیب کالج میں میرا پہلا اینول ڈے

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1958ء میں ودودیہ سکول سے سکول لیونگ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد، مَیں نے علاقے کے سب سے معزز اور معروف کالج، جہانزیب کالج سیدو شریف، میں داخلہ لیا۔ میرا گھر افسر آباد میں تھا اور […]

ریاست سوات کی ملیشا: ایک تعمیری ادارہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جب یوسف زئی ریاستِ سوات مضبوط بنیادوں پر قائم ہوئی اور اس کی سرحدیں محفوظ ہوگئیں، تو دیر اور امب جیسی پڑوسی ریاستوں کے خطرات ماضی کا حصہ بن گئے۔جب اقتدار میاں گل جہانزیب کو سونپ […]

ریاست سوات کا شاہی بینڈ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میرے خیال میں، مَیں نے ریاستِ سوات کے بہت سے محکموں پر بات کی ہے، لیکن ایک ایسا محکمہ بھی تھا جس کا ذکر کرنا ضروری ہے، اور وہ تھا ’’ریاستی شاہی بینڈ۔‘‘ریاست کا اپنا قومی […]

مولانا خونہ گل (کیملپور مولوی صاحب)

Blogger Hilal Danish

میرے پردادا مولانا عبد الحنان رحمہ اللہ کے تین بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے مولانا خونہ گل (رحمہ اللہ) المعروف کیملپور مولوی صاحب، جو میرے سگے دادا تھے۔ دوسرے بیٹے مولانا انظر گل (رحمہ اللہ) المعروف شنگرئی مولوی صاحب اور سب سے چھوٹے بیٹے مولانا سیف الملوک المعروف منگلتان مولوی صاحب تھے۔ آج ذکر صرف مولانا […]

ریاستِ سوات اور علمائے کرام

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)فضل محمود روخان صاحب کا تحریر کردہ کتابچہ ’’مارتونگ بابا جی‘‘ کو پڑھتے ہوئے مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ اگرچہ میاں گل عبد الودود (ریاستِ سوات کے بانی المعروف بادشاہ صاحب) پڑھنے لکھنے سے […]

ریاستِ سوات بہ طورِ سرپرستِ فنونِ لطیفہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام سے قبل، وادی میں فنونِ لطیفہ سے وابستگی کے شواہد کم ہی ملتے ہیں۔ یہاں زندگی بقا کی مسلسل جد و جہد میں گزر رہی تھی۔ پڑھنا لکھنا ایک نایاب شوق کی […]

ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]

ریاست سوات کا جہانزیب کالج

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے تمام تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ آٹھویں، دسویں، انٹرمیڈیٹ اور بیچلر سطح کے امتحانات صوبے کے دیگر سکولوں اور کالجوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن کی نگرانی پشاور […]

ریاست سوات کی فورسز کا ترقیاتی کاموں میں کردار

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات، جو اندرونی طور پر ایک خود مختار ریاست تھی، دیر اور امب کے ہمسایہ ریاستوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے باقاعدہ مسلح افواج رکھتی تھی۔ داخلی سلامتی اور امن و امان قائم […]

ریاست سوات میں سڑکوں کی تعمیر اور دیکھ بھال

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)"My back tells me that I have entered Swat State, while driving my car”’’میری پُشت مجھے بتاتی ہے کہ مَیں اپنی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ریاستِ سوات میں داخل ہو چکا ہوں۔‘‘یہ وہ جملہ ہے جو […]

ریاستِ سوات میں محصولات کا نظام

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی دنوں میں، آمدنی کے ذرائع متعین نہیں تھے اور زیادہ تر ریاستی اخراجات مینگورہ کے ایک بہت ہی امیر تاجر شمشی خان کی طرف سے کی گئی نقد امداد سے […]

مرحوم سعد اللہ خان ڈی ایس پی

Blogger Sajid Aman

القموت خان المعروف آکو خان، غورہ خیل یوسف زئی چکیسر سابق ریاستِ سوات شانگلہ پار کے تاریخی ’’خان کورہ‘‘ خان تھے، جن کا شجرۂ نسب ظاہر کرتا ہے کہ وہ کئی پشتوں سے بلا شرکتِ غیرے علاقہ کے مشران اور خان رہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے عظیم اور مغرور پہاڑوں کے […]

ریاست سوات کے اداروں کا ریکارڈ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)28 جولائی 1969ء کی شام کو، اپنی ماہانہ قوم سے خطاب میں، احمق جنرل یحییٰ خان نے سوات، دیر اور چترال کی ریاستوں کے مغربی پاکستان میں انضمام کا اعلان کیا۔ یہ عام آدمی کے لیے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیاون ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

بیوی کے گردے کی پیوند کاری کے لیے مجھے کچھ رشتہ داروں سے قرض پر رقم لینا پڑی تھی۔ مَیں باقی سب انجینئرز کی طرح نہیں تھا، جو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اتنا کما جاتے ہیں کہ مالی طور پر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ آپریشن کے بعد کا علاج بھی میری دسترس سے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتالیس ویں قسط)

Blogger RIaz Masood

نومبر 1993ء سے شروع ہونے والا بونیر میں میرا دوسرا سپیل پہلے کی طرح رنگین نہیں تھا۔ مَیں اب 50 سال کا ہوچکا تھا اور ایک متحرک نوجوان کی دل کشی اور رنگین مزاجی کھوچکا تھا۔ کلاس ون رہایش گاہ میں رہنے کا عیش و آرام قصۂ پارینہ بن چکا تھا۔ اب اگلے پانچ یا […]

کیا مرغی/ بکرا پالنے پر صدر مقام میں پابندی تھی؟

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے یاد نہیں کہ عوام میں یہ مغالطہ کیسے پروان چڑھا کہ اُس وقت کی ریاستِ سوات کے صدر مقام سیدو شریف میں بکریوں اور مرغوں کی گھروں میں پالنے کی اجازت نہیں تھی۔ مَیں نے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چھیالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ایک دن جب میں ڈویژنل آفس آیا، تو چترال کے سی اینڈ ڈبلیو ڈویژن میں میرا ٹرانسفر آرڈر میرے حوالے کر دیا گیا۔ مجھے سرفراز کی جگہ ٹرانسفر کیا گیا تھا، جب کہ اس کا کسی اور سٹیشن پر ٹرانسفر ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے مسٹر ایکس نے مجھ سے رابطہ کیا تھا اور اصرار […]

سوات میں خواتین کے اولین تعلیمی ادارے

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جہاں تک مجھے یاد ہے ، ہمارے سکول میں کسی حد تک مخلوط طرزِ تعلیم تھی۔ جب ہم شگئی، سیدو شریف میں ایک سکول میں داخل ہوئے، تو تقریباً ہر کلاس میں لڑکیاں پڑھ رہی تھیں۔ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چوالیس ویں قسط)

مَیں ابھی ہائی وے سب ڈویژن سیدو شریف میں مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوا تھا کہ مجھے بونیر جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی ٹھیکہ داروں نے ضوابط پر میری سخت عمل درآمد کے خلاف کڑھنا اور خفگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک افسر، اکرام اللہ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (تریالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

بہ حیثیت مجموعی میں اپنے افسر، ساتھیوں اور ماتحت عملے سمیت، سب کے ساتھ ’’کمفرٹ ایبل‘‘ تھا۔ 14 ستمبر 1987ء کو ایک بڑا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ مَیں نے اُس دن دفتر سے چھٹی لی تھی۔ اچانک مَیں نے سڑک پر دفتر کی جیپ کا ہارن سنا۔ میرے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (بیالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

1985ء میں دریائے سوات میں شدید سیلاب آیا۔ سیلاب کے نقصانات کے خلاف یہ میرا پہلا مقابلہ تھا۔ میرا سیکشن خاص طور پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ ایوب پل کو بچانے والے پشتے بہہ گئے اور آدھی رات کو سیلابی پانی پولیس لائنز میں داخل ہوگیا۔ پولیس والے ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کی چھتوں […]