دو ناول، ایک انسانی کہانی

ادب کی دنیا ایک ایسا سمندر ہے جس کی گہرائی میں اترنا قاری کو نہ صرف ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے، بل کہ اس کے فکر و شعور کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وہ جادو ہے، جو مجھے بار بار کتابوں کی طرف کھینچ لاتا ہے ۔ حال ہی میں میرے مطالعے […]
’’تہذیب کی کہانی‘‘ (مختصر ترین خلاصہ)

تلخیص نگار: مظہر چوہدری ’’تہذیب کی کہانی‘‘ (The Story of Civilization) ’’ول ڈیورنٹ‘‘ (Will Durant) اور اُن کی بیوی ’’ایریل ڈیورنٹ‘‘ (Ariel Durant) کی لکھی ہوئی 11 جلدوں پر مشتمل ایک مشہور کتابی سیریز ہے۔یہ سیریز مشرقی اور مغربی دونوں تہذیبوں کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ ان سطور کے ذریعے ہر جلد کا مختصر […]
ارندھتی رائے کی ذاتی زندگی پر مشتمل کتاب

ارندھتی رائے (Arundhati Roy) کی ذاتی زندگی اس قدر مشکل اور توقع کے برخلاف رہی ہوگی، اس کا اندازہ مجھے اُن کی حالیہ کتاب "Mother Mary Comes to Me” پڑھنے سے قبل ہرگز نہیں تھا۔ہاں البتہ اتنا ضرور لگتا تھا کہ اُنھوں نے شاید عوام کو درپیش مسائل بہت قریب سے دیکھے ہوں گے، ورنہ […]
’’زندہ مایوسیاں‘‘

تبصرہ: یوسف عزیز زاہد 21ویں صدی کے 26ویں سال میں جب کہ مائیکرو فکشن مقبولِ عام ہو رہا ہے، ناول لکھنا اور ناول پڑھنا دونوں دقت طلب کام ہیں، لیکن جن لوگوں کو کتاب سے عشق ہے، وہ ناول بھی اُتنی ہی دل چسپی اور انہماک سے پڑھتے ہیں، جتنی دل چسپی سے مائیکرو فکشن […]
زندگی بدلنے والی کتابوں میں سے ایک

تبصرہ: تنویر گھمنزندگی میں آگے بڑھنے کے لیے صرف محنت اور مہارت کافی نہیں، کبھی دوسروں سے مدد لینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اُنھیں لگتا ہے کہ مدد مانگنا کم زوری ہے، یا یہ کہ اگر وہ کسی سے کچھ مانگیں گے، تو شاید اُنھیں […]
کام یابی کا گر سکھانے والی کتاب

تبصرہ: تنویر گھمن زندگی کی تیز رفتاری ہمیں کئی سمتوں میں کھینچ رہی ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی کام، بے شمار فیصلے اور نہ ختم ہونے والی ذمے داریاں۔ ہم جتنا زیادہ مصروف رہتے ہیں، خود کو اتنا ہی کام یاب سمجھتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ہم حقیقت میں آگے بڑھ […]
’’کافی ٹھنڈی ہونے سے پہلے‘‘ (جاپانی ادب)

تبصرہ: دانش مرزا یہ ٹوکیو کے ایک چھوٹے سے کیفے کی کہانی ہے، جہاں ’’وقت میں سفر‘‘ (Time Travel) ممکن ہے، مگر کچھ مخصوص شرائط کے ساتھ۔ آپ صرف اُن لوگوں ہی سے مل سکتے ہیں، جو پہلے اس کیفے میں آچکے ہوں۔ آپ حال میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے اور آپ کو اپنی کافی […]
’’معین الطریقت‘‘ کا مختصر سا جائزہ

تبصرہ: سیمیں کرن’’معین الطریقت‘‘ جب میرے ہاتھ آئی جو کہ شیخ ابنِ عربی کے رسالہ ’’الامر المحکم المربوط فی ما یلزم اہل طریق اللہ من الشروط‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے اور اسے اُردو قالب میں پروفیسر ڈاکٹر معین نظامی نے ڈھالا ہے۔ وہ خود ایک معروف علمی روحانی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ بہت […]
’’ڈیجیٹل مینی مل ازم‘‘ (Digital Minimalism)

تبصرہ: تنویر گھمن سب سے قیمتی سرمایہ ہمارا وقت اور توجہ ہیں، لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں ہم انھیں غیر ضروری اسکرین ٹائم اور بے مقصد سکرولنگ میں ضائع کر رہے ہیں۔’’کیل نیوپورٹ‘‘ (Cal Newport) کی یہ کتاب (Digital Minimalism) ہمیں ٹیکنالوجی کو بہتر استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔مصنف موثر حکمت عملیوں کے […]
ناول ’’دو نیم اپریل‘‘ کا مختصر جائزہ

ترجمہ: ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی’’دو نیم اپریل‘‘ یا ’’شکستہ اپریل‘‘ (Broken April) گزرے وقت کی دل کشی لیے ایک ذہن پر سوار ہو جانے والی کہانی ہے۔بہت کم ایسے ناول ہوتے ہیں، جو اتنے سادہ، لیکن پُراثر انداز میں لکھے گئے ہوں۔ اس ناول میں پلاٹ، جو بہ ذاتِ خود اہمیت کا حامل ہے، سے […]
صدیوں پرانی ذاتی ڈائری جو کتاب کی شکل اختیار کرگئی

تحریر: تنویر گھمن کیا مَیں آپ کو بتا دوں کہ یہ کتاب 1,800 سال پرانی ذاتی ڈائری میں لکھے کسی انسان کے خیالات پر مشتمل ہے؟کیا مَیں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ وہ کوئی عام شخص نہیں تھا، بل کہ رومی سلطنت کا شہنشاہ، فلسفی اور مفکر تھا۔ وہ 161ء سے 180ء تک روم […]
’’پریزنس‘‘ زندگی بدلنے والی کتاب

تحریر: تنویر گھمنمَیں یقین سے کَہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ جو ہیں وہ دکھا نہیں پاتے، پوری پوٹینشل استعمال نہیں کر پا رہے، کسی انٹرویو، پریزنٹیشن یا اہم ملاقات میں جاتے ہیں اور خود کو کم زور، کھوکھلا، غیر مطمئن اور […]
ناول ’’موبی ڈک‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عبد اللہ خالد ہرمین میلول (Herman Melville) جو 19ویں صدی کے ایک امریکی مصنف تھے، جن کی کہانیاں سمندری مہمات، انسان کی نفسیات اور قسمت کے کھیل کے گرد گھومتی ہیں۔ 1819ء میں نیویارک میں پیدا ہونے والے میلول نے اپنی جوانی میں مختلف ملازمتیں کیں، لیکن بالآخر سمندر نے اُنھیں اپنی طرف راغب […]
ناول ’’گریٹ ایکسپیکٹ ایشنز‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عبد اللہ خالد چارلس ڈکنز 19ویں صدی کے ایک نام ور انگریزی ناول نگار تھے، جنھوں نے زندگی کے تلخ حقائق اور انسانی فطرت کو بے حد خوب صورتی سے قلم بند کیا۔ اُن کی تحریریں محض کہانیاں نہیں، بل کہ سماج کا آئینہ تھیں، جہاں امیری اور غریبی، محبت اور بے حسی، اُمید […]
ناول ’’اناطولیہ کہانی‘‘ (تبصرہ)

تحریر: علی عمار یاسر ایک ناول کو کیا چیز اچھا بناتی ہے؟مَیں نہ کسی ادبی مجلے کا مدیر ہوں، نہ کسی یونیورسٹی کا لیکچرر کہ کسی ناول کے فنی محاسن پر کماحقہ روشنی ڈالوں۔ میرا اُصول سیدھا سادھا ہے۔ کسی کتاب کے ختم ہونے پر میرا دل کہے کہ یہ اچھی ہے، تو کہے، دل […]
نیند کی کمی خاموش قاتل ہے

تحریر: تنویر گھمن آج کی کتاب ہماری نیند کے نام۔ آج کل بہت لوگ نیند کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ کچھ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ کم سوتے ہیں، اور کچھ سمجھتے ہیں کہ اسے قربان کر کے ہم زیادہ کام کرسکتے ہیں، زیادہ سیکھ سکتے ہیں اور زیادہ کام یاب ہوسکتے ہیں…… […]
سیمون دی بووا کا ناول ’’عورت‘‘

تحریر: عدیل مغل زمانۂ طالب علمی میں جن بڑی اور اہم کتب کا مطالہ کیا تھا، اُن میں ’’سیمون دی بووا‘‘ (Simone de Beauvoir) کی کتاب "The Second Sex” شامل تھی، جس کا ترجمہ ’’عورت‘‘ کے نام سے ہوا تھا، جو یاسر جواد صاحب کی کاوش تھی۔عورت کو جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی تناظر میں سمجھنے […]
ایک نو عمر لڑکی کی ڈائری

تبصرہ و انتخاب: رومانیہ نور (ملتان) ’’اینیلیز این فرینک‘‘ (Annelies Marie Frank) در اصل 12 جون 1929ء کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ 1933ء میں نازیوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد فرینک خاندان نیدر لینڈ چلا گیا۔’’این‘‘ نے زیادہ تر وقت ایمسٹرڈم میں گزارا۔ فروری 1945ء میں محض […]
’’ون فلیو اُوور دی کوکوز نیسٹ‘‘ اور ہمارا نظامِ تعلیم

دوسرے ہسپتالوں کے برعکس یہ ایک سرد، بے رحم جگہ تھی، جہاں سفید دیواریں اور تیز روشنیاں مریضوں کے بے جان چہروں پر پڑ رہی تھیں۔ ہوا میں جراثیم کُش دوا کی بُو اور مایوسی کی ایک گہری چادر تھی، جسے نرس ’’ریچڈ‘‘ اپنی پُرسکون لیکن کنٹرول کرنے والی آواز سے مزید گہرا کر رہی […]
’’دی سائلنس آف دی لیمبز‘‘ اور معاشرتی حقیقت

تصور کریں کہ ایک لمبا، تاریک اور سرد راستہ، جہاں روشنی کبھی کبھی جھپکتی ہے اور ہوا میں عجیب سا خوف محسوس ہوتا ہے، جیسے ہر کونے میں کوئی چھپی ہوئی کہانی ہو۔ یہ راستہ ایک ایسی جگہ کی طرف جاتا ہے جہاں دنیا کے سب سے خطرناک ذہنوں کو قید کیا گیا ہے اور […]
کل ہو نہ ہو (تبصرہ)

تبصرہ: منیر فراز پہلے کی بات اور تھی، جب مَیں نے عقیلہ منصور جدون کے ابتدائی تراجم پڑھے تھے۔ اُس وقت عقیلہ منصور جدون کا تراجم کی صنف میں حرفِ آغاز تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ تخلیق کی طرح ترجمہ کا عمل بھی آزاد فضا میں تکمیل کو پہنچے، تو ہی تخلیق کار کی فطری […]