محمد افضل خان لالا (زندگی اور جد و جہد)

(نوٹ:۔ زیر نظر سطور محمد لائق کی ایک انگریزی تحریر کا ترجمہ ہے، راقم)(مرحوم) محمد افضل خان لالا، خیبر پختونخوا کے ایک معروف پشتون قوم پرست رہ نما تھے۔ وہ دسمبر 1926ء میں بالائی سوات کے گاؤں برہ درشخیلہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد حبیب خان جو کہ (دارمئی خان) کے نام سے مشہور […]
غلام غوث: معروف کاروباری و سماجی شخصیت

جناب غلامِ غوث مینگورہ شہر کے پڑھے لکھے، مہذب، مددگار، سلجھے ہوئے اور معروف کاروباری و سماجی شخصیت ہیں۔وقت آگے بڑھتا ہے۔ معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ تہذیب بھی ترقی کرتی ہے اور ماحول بہتر ہوتا ہے…… مگر ہم جب پیچھے دیکھتے ہیں، تو لگتا ہے کہ ہمارا سفر ایک قدم آگے اور […]
مہذب ’’ایپ‘‘ کا غیر مہذب استعمال

میرے ’’واٹس ایپ‘‘ نمبر پر اتنے گروپ ہیں کہ جنھیں صرف دیکھنے کے لیے لمبا وقت چاہیے ہوتا ہے۔ پڑھنے اور سننے تو دور کی بات ہے۔’’واٹس ایپ‘‘ یا سمارٹ فون جو ایک مہذب ذریعۂ مواصلات ہے، اسے ہمارے لوگوں نے انتہائی غیر مہذب صورت دی ہوئی ہے۔ اس کے ذریعے ہر شخص فون اپنی […]
کامریڈ رحیم داد (استاد صاحب)

کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کو بہت کچھ آتا ہے اور کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کو غصے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔کامریڈ رحیم داد اُستاد صاحب زندہ رہنا جانتے تھے…… اور بہتر زندگی کیا ہے؟ اس کی اجتماعی راحت عام لوگوں تک پہنچنے کی تدابیر کرتے رہے۔کامریڈ رحیم داد استاد صاحب کو بہت کچھ […]
محمد رحیم ٹھیکے دار (مرحوم)

مینگورہ شہر کو ٹٹول کر دیکھیں، تو ہمیں ایسے لوگوں کی کمی نظر نہیں آئے گی، جنھوں نے اپنی محنت، لگن اور کاوش سے اعلا مقام حاصل کیا اور پورے معاشرے کے لیے مثال بنے۔ ملابابا روڈ اور خود ملابابا کئی محلوں پر مشتمل ایک بڑا علاقہ ہے۔ یہیں پر ایک محلہ ’’محمد رحیم ٹھیکے […]
فضل غنی استاد صاحب

اگر کوئی ایک شخص بہ یک وقت اُستاد، ادیب، شاعر، مدبر، سیاسی رہ نما، وطن پرست، قوم پرست، اساتذہ سیاست کے سرخیل، ترقی پسند، باشعور، حساس اور دیگر اعلا اوصاف کا حامل ہوسکتا ہے، تو اُن کا نام فضل غنی استاد صاحب اُستاد ہے۔فضل غنی اُستاد صاحب نے جہاں اساتذہ کے حقوق کے لیے بے […]
قلندر ماما میر خانخیل

مینگورہ مین بازار کے عقب میں گلی ڈبہ مسجد جسے میر خانخیل، بوستان خیل کہتے ہیں، سبو چوک یا حاجی بابا چوک سے شروع ہوکر گلی ڈبہ مسجد تک بالخصوص اسی مین گلی کی ہر طرف غالب اکثریت میر خانخیل، بوستان خیل ہی کی تھی۔ ویسے پرانا ڈاک خانہ روڈ، بادشاہ چم میں بھی بہت […]
’’غیر متنازع‘‘ شرارؔ اور ’’متنازع‘‘ شرارؔ

شوکت علی کا نام مَیں بچپن سے سنتا آیا ہوں۔ سوات کا رہایشی ہو اور شوکت علی شرارؔ کے نام سے ناواقف ہو، بہت حیرت کی بات ہوگی۔ شرارؔ صاحب کی شخصیت کے اتنے حوالے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی حوالے سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ میرے کزن ہونے کی وجہ سے گھر میں […]
نیکپی خیل کے اکبر خان

یہ سوال ہمارے سامنے ہمیشہ سوال ہی رہے گا کہ ہم اہلِ سوات نے کیا پایا، کیا کھویا؟ تاریخ کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے تعلیم، صحت کی سہولیات، امن و امان، ترقی (ترقی معکوس)، تہذیب و تمدن اور برداشت…… الغرض ہر حوالے سے جایزہ لینا ہوگا۔مجھے کہنے دیجیے کہ اگر ہم نے ترقی کی ہے، […]
مسیحائے تیمرگرہ، ڈاکٹر شعیب احمد

’’آپ کی ایک بار سگرٹ نوشی کی وجہ سے میرے سر میں تین دن درد ہوتا ہے۔‘‘یہ وہ الفاظ ہیں، جو کسی کے بھی سامنے دہرائیں، تو وہ محبت اور عقیدت بھرے لہجے میں بے ساختہ کَہ اُٹھے گا: ’’ڈاکٹر شعیب احمد صاحب!‘‘ڈاکٹر شعیب احمد، تیمرگرہ کے رہایشی ہیں، ایم ڈی امریکہ، ڈپلومیٹ امریکن بورڈ […]
سید عثمان شاہ لالا

لالا گان خاندان کو سوات میں بڑی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی پہلی وجہ ان کی شرافت اور خوش اخلاقی ہے۔ دوسری وجہ ان کا سید، خاندانی اور نسلی ہونا ہے۔ تیسری وجہ شاہی خاندان سے تعلق اور رشتہ داری ہے۔ جب کہ چھوتی وجہ ان کی خدمات ہیں۔اس […]
روشن دماغ فضل ہادی

مینگورہ سے مرغزار روڈ یعنی جنتِ ارضی کی جانب جاتے ہوئے قدرت کی بے پناہ فیاضی کی شہادتیں بکھری نظر آتی ہیں۔ اس جنتِ ارضی میں گل بانڈئی اور سپل پانڈئی میں قدرت کی شاعری، آرٹ اور مصوری کا ایک سے ایک بہترین نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔یہاں سفید موتی کی طرح بہتا ہوا پانی […]
الحاج قاسم جان (مرحوم)

’’جہاں آپ سڑک پر ہچکولے کھاتے ہوئے جا رہے ہوں اور ایک دم سفر ہم وار ہوجائے، تو سمجھ جائیں کہ ریاستِ سوات کی حدود شروع ہوگئی ہیں۔ والی صاحب نے سوات کو وہ کچھ دیا، جو صوبہ شمال مغربی سرحدی باوجود انگریزی سرکار کی مدد کے کہیں بھی نہ دے سکا۔‘‘قارئین! یہ ایک انگریز […]
مرحوم سعد اللہ خان ڈی ایس پی

القموت خان المعروف آکو خان، غورہ خیل یوسف زئی چکیسر سابق ریاستِ سوات شانگلہ پار کے تاریخی ’’خان کورہ‘‘ خان تھے، جن کا شجرۂ نسب ظاہر کرتا ہے کہ وہ کئی پشتوں سے بلا شرکتِ غیرے علاقہ کے مشران اور خان رہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ شانگلہ پار یعنی شانگلہ کے عظیم اور مغرور پہاڑوں کے […]
تاریخ کے صفحوں میں دفن اوریجنل ’’تورگل‘‘

آج سے تقریباً تین سال قبل جب بلدیاتی انتخابات ہو رہے تھے، تو پہلے مرحلے میں پی ٹی آئی ’’حکومت‘‘ میں ہونے کے باوجود بری طرح ہار گئی اور پھر دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا یہ حال تھا کہ بیش تر پی ٹی آئی اُمیدواروں نے پارٹی […]
مینگورہ شہر کے ملک خاندان کا المیہ

ملک تجل نور خان المعروف ’’ملک بابا‘‘ کی اولاد ’’ملکانان‘‘ مینگورہ (سوات) کی تاریخ کا وہ دمکتا باب ہیں کہ مینگورہ شہر کے ماضی، حال اور مستقبل کو ان سے الگ دیکھا جاسکتا ہے، نہ نظر انداز کرکے آگے ہی بڑھا جاسکتا ہے۔ مینگورہ کی تاریخ، معاشرت، روایات اور لوک کہانیوں تک میں ملک خاندان […]
ڈاکٹر غلام یوسف کی یاد میں

لوگ تو آج کے جدید دور میں نہیں پڑھتے، تو 1969ء میں کتنے لوگ پڑھے لکھے ہوں گے اور اعلا تعلیم…… وہ تو گویا خواب تھی۔ اخبار پڑھ لینا ہی تعلیم یافتہ ہونے کی بڑی نشانی تھی۔مینگورہ اور اصل مینگورہ باچا صاحب چم میں مسافر حاجی صاحب کے بیٹے غلام یوسف صرف پڑھے لکھے نہیں […]
قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ (مرحوم)

(مرحوم) قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ سوات بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ابتدائی ممبر تھے۔وکالت کا پیشہ ڈھیر سارے لوگوں نے سنا ضرور تھا، مگر وکیل کی شخصیت کیا اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ ٹی وی اور فلموں ہی میں دِکھتا تھا۔ مکان باغ سے گزرتے ہوئے قاضی امداد اللہ وکیل صاحب […]
میری کہانی، میری زبانی

اپنی پہچان اور شناخت الگ سے بنانا ایک مشکل کام ہے…… اتنا مشکل کہ ایک عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔قارئین! بچپن سے مجھے یاد ہے کہ میں گم شدہ سی شناخت رکھتا تھا۔ سچ پوچھیں، تو ہر جگہ اپنے والد، دادا، چچا اور کئی بار ماموں کی تعریف نے مجھے اذیت میں مبتلا رکھا۔ […]
گوبند رام باپو

محترم گوبند رام باپو مینگورہ شہر کی سماجی شخصیت اور روایتوں کے امین تھے۔باپو ایک زبردست قوم پرست مینگروال، ایک دانش مند مشر، ایک رحم دل، صلح جو اور ایمان دار تاجر اور مصالحتی کمیٹی کے ممبر تھے۔ غیر مسلم سواتی شہری، سوات پر اپنا حق محبت اور عقیدت کے ساتھ جتاتے ہیں۔باپو (یعنی ابا […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]