خونی رویے

پچھلے کچھ دنوں سے سوات اور گرد و نواح میں قتل و غارت گری کا ایک ایسا بازار گرم ہے، جس نے ہر حساس دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دھرتی جو کبھی اپنے امن، خوب صورتی، مہمان نوازی اور باہمی رواداری کے لیے جانی جاتی تھی، آج خوف اور بے یقینی کے […]
رسہ کشی میں قدم پھر اکھڑ گئے، تو…!

پی ٹی آئی کے سامنے اب شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں رہا کہ لانگ مارچ کرنا ہے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ اب اعلان، التوا اور دوبارہ اعلان کے اس چکر سے نکلنا کیسے ہے؟ 27 ستمبر کا لانگ مارچ دو ماہ پہلے طے کیا گیا تھا، لیکن جب تاریخ سر […]
ڈاکٹر صادق اللہ کا علمی و پیشہ ورانہ سفر

کچھ شخصیات کا تعارف اُن کے عہدوں اور اعزازات سے زیادہ اُن کے علمی و پیشہ ورانہ سفر سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صادق اللہ کا تعلق چارباغ سے ہے اور اُنھوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ، تحقیق اور تدریس کے شعبوں میں پاکستان اور بیرونِ ملک خدمات انجام دی ہیں۔میرے لیے ڈاکٹر صادق اللہ کا تعارف محض […]
اقدار کا زوال، نسل کا سوال

وہ سوات، جس کا نام آتے ہی ذہن میں مہمان نوازی، حیا، شرافت اور پاکیزگی کی تصویریں ابھرتی تھیں۔ وہ سوات جہاں بڑوں کا احترام محض ایک روایت نہیں، بل کہ زندگی کا حصہ تھا، جہاں چھوٹوں پر شفقت کی جاتی تھی، جہاں محلے کے لوگ ایک دوسرے کے دُکھ درد میں شریک ہوتے تھے، […]
سیاسی کش مہ کش اور عوامی بے بسی

پاکستان ہماری پیدایش سے سات سال پہلے آزاد ہوا، لیکن جو واقعات تاریخ کا حصہ ہیں، اُن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مفاد پرست ٹولہ حرکت میں آ گیا۔ بعض نادیدہ قوتوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو بلوچستان کے پُرفضا مقام زیارت پر نظر بند رکھا […]
حسن بے مثال، مگر سوال بے شمار!

سوات کو قدرت نے بے مثال حسن عطا کیا ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، بہتے چشمے، دریائے سوات، سرسبز وادیاں، گھنے جنگلات اور سیاحوں کے لیے دل کش مقامات اسے پاکستان کے خوب صورت ترین علاقوں میں شمار کرتے ہیں… مگر سوات کی اصل کہانی صرف اس کے قدرتی حسن تک محدود نہیں۔ اس خوب […]
پیالو استاد، اک بھولا بسرا کردار

کبھی ہمارے گاؤں، قصبوں اور محلوں کی گلیاں صرف آنے جانے کا راستہ نہیں ہوا کرتی تھیں، بل کہ ہر گلی اپنی ایک کہانی، اپنی آواز اور پہچان رکھتی تھی۔ انھی آوازوں میں ایک آواز ایسی بھی تھی، جو آج شاید ہماری نئی نسل کے لیے کسی داستان کا حصہ محسوس ہو۔ صبح یا دوپہر […]
احتجاج، اختلاف اور ہمارا اصل محاذ

احتجاج کی حمایت یا مخالفت سے پہلے ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا کہ اختلاف اور احتجاج دونوں ایک چیز نہیں۔ اختلاف ایک رائے ہے، احتجاج اُس رائے کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ اختلاف ذہن میں جنم لیتا ہے، جب کہ احتجاج سڑک، میدان یا عوامی فورم پر اُس اختلاف کو آواز دیتا ہے۔ اختلاف […]
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ریاست اور عوام کا رشتہ ماں اور بچوں جیسا ہوتا ہے۔ ہر ریاست چاہتی ہے کہ اپنے جغرافیائی حدود میں آباد رعایا کو زندگی کی وہ تمام سہولتیں فراہم کرے، جو اُن کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرسکیں… مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو ہر دور میں بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا […]
ہم کہاں کھڑے ہیں؟

کبھی قدرتی آفات، کبھی دہشت گردی، کبھی کمر توڑ مہنگائی، کبھی معاشرتی ناہم واریاں، کبھی سفارش اور اقربا پروری، اور کبھی درندگی کی ایسی انتہا کہ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمیں آخر کس کس چیز سے بچنا ہوگا؟مسائل کی فہرست بنائیں، تو شاید ختم نہ ہو، مگر […]
حوثی تحریک کی تاریخ (آخری حصہ)

کسی بھی تحریک کا حقیقی مطالعہ صرف اُس کی عسکری قوت یا سیاسی کام یابیوں سے نہیں کیا جاسکتا، بل کہ اُس کے فکری ڈھانچے، مذہبی نظریات، ریاستی تصور اور مستقبل کے اہداف کو بھی سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہی اُصول حوثی تحریک پر بھی صادق آتا ہے۔ اگرچہ آج دنیا اُنھیں ایک مسلح گروہ، […]
نوے کی دہائی، مینگورہ کے ڈب اور غوطے

جب مینگورہ شہر کے خوڑ (جڑواں ندیاں) صاف تھے اور اہلِ مینگورہ اس کا پانی کپڑے دھونے اور وضو کے لیے استعمال میں لاتے تھے، اُس دور میں ہم ان خوڑوں میں بنے "ڈبوں” (ڈب، پشتو میں اُس جگہ کو کہتے ہیں، جہاں پانی نسبتا گہرا ہوتا ہے) میں نہایا کرتے تھے۔نوے کی دہائی میں […]
مروجہ جمہوری نظام اور اسلامی نظام

موجودہ دور میں جمہوریت کو دنیا کا مقبول ترین سیاسی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کی بنیادی خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ عوام اپنے نمایندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور یہی منتخب نمایندے ریاست کے معاملات چلاتے ہیں۔ بہ ظاہر جمہوریت مساوات، آزادی، عوامی نمایندگی اور حقوقِِ انسانی جیسے خوب صورت تصورات […]
نئے صوبے یا بااختیار بلدیات؟

پاکستان میں ان دنوں نئی چھوٹی انتظامی اکائیوں، نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر لے دے ہو رہی ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ریاست کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے؟ کسی کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ہونے چاہییں، کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حق میں ہیں […]
منشیات کا عفریت اور ہماری ذمے داری

معاشرے کی رگوں میں منشیات کا زہر اس تیزی سے اتر رہا ہے کہ اب یہ کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں، بل کہ پورے سماج کا بقائی مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر ’’آئس‘‘ نامی نشے نے تباہی کی جو داستان رقم کی ہے، اس نے ہمارے پُرسکون خاندانی نظام کو ہلا […]
حوثی تحریک کی تاریخ (2)

بیسویں صدی کے وسط تک دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوچکی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم ختم ہوچکی تھی، نوآبادیاتی سلطنتیں بکھر رہی تھیں، عرب قوم پرستی زور پکڑ رہی تھی اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر پورے عرب خطے میں انقلاب، جمہوریت اور بادشاہتوں کے خاتمے کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ ان […]
امپیریل کالج لندن، ہمارے لیے آئینہ

آج کل لندن میں امپیریل کالج کے پڑوس میں رہنے کا اتفاق ہو رہا ہے۔ روزانہ اس کی تاریخی عمارتوں، مصروف راہ داریوں، آتے جاتے طلبہ اور علمی سرگرمیوں سے بھرپور ماحول کو دیکھتا ہوں۔ چند روز پہلے کالج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، تو خیال آیا کہ بعض ادارے محض عمارتوں، کلاس […]
حوثی تحریک کی تاریخ

مشرقِِ وسطیٰ کی سیاست میں اگر کسی تحریک نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں عالمی طاقتوں، عرب ریاستوں اور خطے کی سلامتی کے توازن کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تو وہ یمن کی ’’حوثی تحریک‘‘ ہے۔ آج بہت سے لوگ انھیں صرف ایک مسلح گروہ یا ایران کے اتحادی کے طور پر جانتے […]
ہشمت کا خون سوال بن کر کھڑا ہے

مدین کی وادی میں ایک اور معصوم کلی مسل دی گئی۔ 9 سالہ معصوم اور باپ کے سائے سے محروم ہشمت، جس کی عمر کھیلنے، ہنسنے اور اپنے خواب سجانے کی تھی، مبینہ طور پر ایک سفاک انسان کی درندگی کا شکار ہوئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔یہ خبر صرف ایک گھر کے […]
اخوند خیل قومی اتحاد کا مقصد

ہر قوم اپنی تاریخ، روایات، اقدار اور بزرگوں کی میراث سے پہچانی جاتی ہے۔ پشتون معاشرے میں ’’پختون ولی‘‘ بھی صدیوں سے ایک طرزِ زندگی کے طور پر موجود رہی ہے، جس نے پشتونوں کی اجتماعی زندگی، باہمی تعلقات اور معاشرتی رویوں کو ایک مخصوص رنگ دیا ہے۔ مہمان نوازی، سخاوت، وفاداری، وعدے کی پاس […]
اداروں کی بھرمار اور نتیجہ صفر

دبئی کا ذکر آتے ہی ایک سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ وہاں ہمیں ہر مسئلے کے لیے اے سی، ڈی سی، ایس پی، ایس ایچ اُو اور درجنوں دیگر عہدوں کی وہ بھرمار کیوں دکھائی نہیں دیتی، جو ہمارے ہاں نظر آتی ہے؟ نہ ہر گلی میں کھلی کچہریوں کا شور سنائی دیتا […]