بیرون ملک انتقال… اصل امتحان تدفین نہیں

زندگی کی ستم ظریفی یہ ہے کہ بڑے سانحات ہمیشہ اچانک پیش آتے ہیں، مگر اُن کے بعد جو مرحلے شروع ہوتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ انسان کو توڑتے ہیں۔ کسی عزیز کی موت کا صدمہ اپنی جگہ بہت بڑا ہوتا ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اس سے بڑا امتحان اکثر وہ کاغذی اور سرکاری […]
منتظرانِ نجات دہندہ

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک عجیب و غریب مماثلت نظر آتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر موجود مختلف تہذیبیں، جو ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور اور الگ الگ نظریات کی حامل ہیں، ایک نکتے پر متحد نظر آتی ہیں… اور وہ ہے ایک ’’نجات دہندہ‘‘ کا انتظار۔ مسلمان امام مہدی اور […]
شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کی ہمہ جہت شخصیت

سیدو شریف، ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے الم ناک قتل نے جہاں ایک طرف اُن کو شہادت کے اعلا منصب پر فائز کردیا ہے، تو دوسری طرف اُن کے اہلِ خانہ، ہم کار ساتھیوں، قریبی رُفقا اور پوری برادری کے دلوں میں ایک گہرا اور نہ پُر ہونے […]
شرمیلا فاروقی کا دعوا اور مولانا کا تاریخی مؤقف

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بعض مباحث ایسے ہیں، جو محض وقتی سیاسی شور نہیں ہوتے، بل کہ وہ قوم کے فکری رُخ، نظریاتی سمت اور تہذیبی شناخت کا تعین کرتے ہیں۔ کثرتِ ازدواج سے لے کر کم عمری کی شادی تک، یہ مباحث محض قانون سازی کے سوالات نہیں، بل کہ اُس بنیادی مسئلے […]
تعلیم، انتہا پسندی اور ریاستی خاموشی

بنوں پورے صوبہ خیبر پختون خوا میں شدید دہشت گردی کا شکار ضلع ہے، جہاں آئے دن دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور ہوتا ہے۔ یہاں کے ایک نجی تعلیمی ادارے میں یومِ کشمیر کے حوالے سے منعقد ہونے والے پروگرام کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ذکر شدہ تصاویر میں کم سن […]
خیبرپختونخوا کے سماجی و معاشی مسائل

پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں لوگوں کو مختلف مسائل جیسے امن و امان و تحفظ کے مسائل، روزگار کے مسائل اور صحت و تعلیم کے مسائل میں گِھرا ہوا دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ غربت کی وجہ سے نّنھے بچوں اور بچیوں کو اسکولوں سے باہر محنت مزدوری کرتے یا بھیک مانگتے ہوئے دیکھ کر […]
نرگسیت کا نفسیاتی اور سماجی منظرنامہ

نرگسیت کا لفظ یونانی افسانے کے ایک کردار ’’نارسس‘‘ (Narcissus) سے ماخوذ ہے۔ نارسس حسن و جمال کا پیکر تھا اور وہ حسن اور خوب صورتی کا ضرب المثل تھا۔ اُس نے جب پہلی مرتبہ صاف و شفاف پانی میں اپنا عکس دیکھا، تو وہ اپنے حسن پر فریفتہ ہوگیا۔ اپنی خوب صورتی کے سحر […]
سوشل میڈیا، بگڑتی نسل اور ہماری ترجیحات

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج سوشل میڈیا (خصوصاً TikTok جیسی تیز رفتار اور وائرل کلچر کو فروغ دینے والی ایپس) خاموشی سے، مگر غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض تفریح یا اظہارِ رائے تک محدود نہیں، بل کہ […]
نن بیا ھغہ ماخام دے…!

’’پھر وہی شام ہے اور ’یارانِ شام‘ اکھٹے ہوئے ہیں۔‘‘فیاض ظفر کے کہے ہوئے یہ الفاظ ایک ٹرینڈ، بل کہ برانڈ بن گئے ہیں، مگر شاید بہت سارے لوگوں کو اس شام میں پکا ہوا کھانا اور سنائی جانے والی موسیقی کے سوا کچھ نام ہی پتا ہوں گے، جو اس شام کا حصہ ہوتے […]
ایپسٹین فائلز اور عالمی طاقت کا مکروہ چہرہ

ایپسٹین فائلز (The Epstein files) کی کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں۔ یہ طاقت، دولت اور ریاستی نظام کے درمیان ایسے روابط کی داستان ہے، جنھیں برسوں تک پردۂ راز میں رکھا گیا۔ سب سے پہلا سوال یہی ہے: ’’جیفری ایپسٹین آخر تھا کون… اور وہ اس قدر طاقت […]
عورت کی نفسیاتی قید

کبھی کبھی یہ فکر بہت پریشان کرتی ہے کہ آخر کیوں ہمارے معاشرے میں عورت کو ایک "Object” کے طور پر دیکھا جاتا ہے؟ لیکن اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ معاشرہ تو عورت کو ایک آبجیکٹ تصور کرتا ہی ہے، عورت خود کو بھی آبجیکٹ ہی سمجھنے لگتی ہے۔ المیہ […]
سماج کا مساج… احتجاج اور رواج کا فریب

ہمارا سماج آج جس کیفیت سے گزر رہا ہے، اُسے بیان کرنے کے لیے شاید کسی فلسفیانہ اصطلاح کی ضرورت نہیں۔ ایک سادہ سا طنزیہ جملہ ہی کافی ہے:’’سماج کا مساج ضروری ہے…!‘‘یعنی معاشرے کی رگوں میں جو بےحسی جم چکی ہے، اُسے جھنجھوڑنا لازم ہے۔ جیسے جسم میں درد ہو، تو مساج کیا جاتا […]
دولت، جرم اور احتساب کا بحران

خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران میں منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہ ظاہر ریاستی سطح پر منشیات کے خلاف آگاہی مہمات جاری ہیں، جن کا اظہار پولیس تھانوں کے گیٹوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر آویزاں بینرز اور […]
طاقت کی پولرائزیشن اور آئینی خلاف ورزیوں کے اثرات

پاکستان کا موجودہ آئین اس مقصد کے تحت تشکیل دیا گیا تھا کہ ریاست کے تمام ستونوں کے درمیان توازن قائم رہے، عوام کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور اقتدار قانون کے تابع ہو… مگر گذشتہ کئی دہائیوں سے اس آئین کو بار بار معطل، معطل شدہ صورت میں نافذ یا ترامیم کے ذریعے کم […]
بائی پاس واکنگ ٹریک، سٹریٹ لائبریری کی حالت زار
شریفوں کا کھیل جو سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا

کرکٹ، جسے کبھی ’’شریفوں کا کھیل‘‘ کہا جاتا تھا، آج محض ایک کھیل نہیں رہا… بل کہ یہ جذبات، سیاست، معیشت اور سماجی اتار چڑھاؤ کا ایک ایسا مرکب بن چکا ہے، جس کی تپش میدان سے باہر کہیں زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔کھیل انسانی تہذیب کا وہ خوب صورت حصہ ہیں، جو نہ صرف […]
بورڈ آف پیس: انسانی بحران یا عالمی مفادات؟

فلسطین اور کشمیر کا تنازع طویل عرصہ سے عالمی سیاست کا موضوع بنا ہوا ہے۔ گذشتہ ڈھائی سالوں سے اسرائیل کی بربریت، تشدد، بمباری اور ظلم و ستم نے فلسطینیوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ امریکہ کی اشیرباد اور پشت پناہی سے نتین یاہو نے […]
خاموش بلوچستان اور چیختے سوالات

نیا سال شروع ہوئے پورا ایک مہینا گزر چکا ہے، مگر طبیعت ابھی مائل نہیں ہوئی۔ دل لکھنے کو بالکل نہیں چاہ رہا۔ گاؤں میں تعطیلات سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ چہار سو پہاڑوں نے برف کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ چمکتی دھوپ میں خنک ہوا کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ اس […]
ماہ صیام اور دمہ کے مسائل

رمضان کی آمد آمد ہے۔ ایک طرف رمضان اپنے ساتھ رحمتیں اور برکتیں لاتا ہے، تو دوسری طرف دمہ اور سانس کے جملہ امراض کے مریضوں پر تھوڑا گراں گزرتا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سوات کی خشک سردی اور سحری افطار میں مرغن غذاؤں کے ساتھ گھی، چکنائی اور […]
تعلیم کا اصل مقصد (فکری مکالمہ)

تعلیم کا مقصد صرف انسان کو روزگار کے قابل بنانا یا اسے معاشی دوڑ میں شامل کرنا نہیں، بل کہ اس کی اصل غایت انسان کو انسان بنانا ہے۔ ایسا انسان جو صرف زندہ رہنا نہ جانتا ہو، بل کہ باوقار، بامقصد اور باشعور زندگی جینے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔ زندہ رہنا تو فطری […]
قومی بدانتظامی یا سرمایہ داری کا بحران؟ (مارکسی تجزیہ)

’’مملکتِ خدادا‘‘ پاکستان میں سوشل ازم کو ماضی کا ایک ناکام خواب بنا کر پیش کیا جاتا ہے، مگر سچ یہ ہے کہ سوشل ازم کو بدنام کرنے کا عمل آج بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کام بندوق، کوڑے اور فتوے سے ہوتا تھا، آج یہ […]