فلسفہ اور اس سے ہمارا لینا دینا

کیا فلسفہ ایک ادق سا لفظ ہے، جس سے عام آدمی، زندگی، معاشرے، سماج، معشیت، تہذیب، ثقافت سے کوئی تعلق نہیں…؟ مگر جواب ہرگز ’’ہاں‘‘ نہیں…! بل کہ انسان جب پہلی بار رات کے اندھیرے میں آسمان کی طرف دیکھ کر یہ سوچنے لگا کہ یہ ستارے کیا ہیں، زندگی کیوں ہے، موت کے بعد […]
ایک والد کی محبت اور خاموش جد و جہد کا اعتراف

والد، یہ صرف ایک رشتہ نہیں، بل کہ ایک ایسا سائبان ہے، جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں اولاد خود کو ہر دکھ، ہر خوف اور ہر مشکل سے محفوظ محسوس کرتی ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنی خواہشات، اپنے خواب اور اپنی آسایشیں قربان کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں مصروف رہتی […]
آئس… نشہ نہیں، موت ہے

آج کے دور میں اگر کسی ایک نشے نے معاشروں، خاندانوں اور بالخصوص نوجوان نسل کو سب سے زیادہ خاموشی کے ساتھ تباہ کیا ہے تو وہ ’’آئس‘‘ ہے۔ یہ صرف ایک نشہ نہیں، بل کہ ایک کیمیائی ہتھ یار کی مانند ہے، جو انسان کے دماغ، اعصاب، جسم، اخلاق، معیشت اور معاشرتی تعلقات کو […]
حکم رانوں کی کام یابی عوامی خوش حالی سے مشروط

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کا بین الاقوامی تشخص پہلے کی نسبت بہتر ہوا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمے دار اور سنجیدہ ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی […]
ہائبرڈ وارفیئر کیا ہے؟

جنگ اب صرف ٹینکوں، لڑاکا طیاروں اور سرحدیں عبور کرتی فوجوں تک محدود نہیں رہی۔ جدید دنیا میں تنازع کی نوعیت بدل چکی ہے اور اب یہ کہیں زیادہ پیچیدہ اور پہچاننے میں مشکل ہوگئی ہے۔ ریاستیں، غیر ریاستی عناصر، خفیہ ایجنسیاں، سائبر گروہ اور حتیٰ کہ بعض نجی تنظیمیں بھی اپنے مخالفین کو کم […]
عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ ادبی ریفرنس

گذشتہ دنوں سوات ادبی سانگہ کے زیرِ اہتمام خپل کور ماڈل سکول میں عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ (شہید) کی یاد میں ایک ادبی و تعزیتی ریفرنس ہوا۔ سوات ادبی سانگہ کے حوالے سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ پچھلے 41 سال سے ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ ریفرنس میں مجھ ناچیز […]
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

تعلیم انسان کو تہذیب سکھاتی ہے اور شعور کی اُن شمعوں کو روشن کرتی ہے، جو معاشرے میں اندھیروں کا خاتمہ کرتی ہیں۔ درس گاہیں وہ مقدس مقامات ہیں، جہاں سے نکلنے والا ہر فرد قوم کا معمار کہلاتا ہے۔ ماضی میں تعلیمی اداروں سے وابستہ یادیں نہایت پُروقار اور شایستہ ہوا کرتی تھیں، جہاں […]
نشہ، جرم اور خاموش ریاست

ایک نوجوان عورت روتے ہوئے کَہ رہی تھی کہ ’’خدا کا واسطہ ہے، میرے بچے کو یہاں مت آنے دو… مَیں بیوہ ہوں، نشئی بچے کو نہیں سنبھال سکتی۔‘‘وہ عورت یہ واویلا اُس جھونپڑی کے سامنے کر رہی تھی، جہاں کھلے عام آئس، چرس اور دیگر منشیات کا کاروبار ہوتا ہے۔ وہاں دن رات یہ […]
جدائی، جو روح کو زخمی کرگئی

بلاگر: نرگس رؤف قاسمی نصرت فتح علی خان جب ’’دھڑکن‘‘ گا رہے تھے، تو جیسے ہی اس مصرعے تک پہنچتے’’میں تیری بانہوں کی جھولی میں پلی بابل…‘‘ اُن پر گریہ طاری ہوجاتا۔ بار بار وہ اسی مقام تک پہنچتے اور جی بھر کر رو لیتے۔ یہاں تک کہ روتے روتے اُن کی ہچکی بندھ جاتی، […]
ہیم، غزالی، پوپر اور سائنس کی کسوٹی

آج کے ہنگامہ خیز دور میں جہاں اطلاعات کی یلغار نے ہر فرد کو ایک ’’رائے ساز‘‘ بنا دیا ہے، سچ کی پہچان پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوچکی ہے۔ ہر طرف بیانیے ہیں، دعوے ہیں اور اپنے اپنے ’’سچ‘‘ کی تشہیر ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر سچ ہے […]
رات کے منتشر خیالات

جدید دنیا مسلسل بدل رہی ہے۔ وہ آگے بڑھتی ہے اور ہمیں بھی ایک بے معنی دوڑ میں دھکیلتی چلی جاتی ہے۔ وہ اپنی حدیں پھیلاتی ہے اور ہمیں اپنے ساتھ چلتے رہنے پر اُکساتی ہے۔ اسکرینیں ہمارے چہرے بن چکی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے معمولات کو قید کرلیا ہے۔ سرمایہ داری نے ہمیں بھوسے سے […]
توانائی بحران کا مستقل حل کیا ہے؟

پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگی اجیرن بناتی ہے، کبھی بجلی کے بھاری بل غریب آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں، اور کبھی مہنگے ایندھن کی درآمد قومی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتی ہے۔ ہر حکومت نے وقتی اقدامات کیے، نئے […]
امن صرف ہتھیار کی خاموشی کا نام نہیں

اکیسویں صدی میں امن کو صرف جنگ یا مسلح تصادم کے نہ ہونے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ عالمی حقائق نے امن کے تصور کو کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے، جس میں معاشی انصاف، سماجی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ، صنفی برابری، صحت و تعلیم تک رسائی، اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔ […]
غزالی و ابنِ رشد… سوال اور یقین کی جنگ؟

یہ سوال کہ کیا آج بھی مسلم دنیا میں ’’غزالی‘‘ اور ’’ابنِ رشد‘‘ کی کش مہ کش جاری ہے؟ میرے ناقص علم کے مطابق جواب ہے کہ یہ محض ایک فکری اختلاف نہیں، بل کہ ہماری تہذیبی سَمت، تعلیمی ترجیحات اور اجتماعی نفسیات کا آئینہ ہے۔ بہ ظاہر یہ بحث صدیوں پرانی ہے، مگر اس […]
باچا خان مرکز میں تقریب حلف برداری

انسانی معاشرت کی بقا اور ترقی کا دار و مدار ہمیشہ سے اُن اداروں اور تنظیموں پر رہا ہے، جو اجتماعی مفاد کے حصول کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انفرادی کوششیں ایک محدود دائرے تک تو […]
فقیر ایپی، تاریخ اور وطن دشمن بیانیہ

میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی شمالی وزیرستان کے ایک بڑے قبیلے اتمان زئی کی ذیلی شاخ بنگالی خیل میں پیدا ہوئے۔ میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی نہ کوئی سیاسی شخصیت تھے اور نہ اُن کا کوئی عسکری پس منظر ہی تھا، بل کہ وہ ایک سادہ مذہبی شخصیت تھے، جو اُس زمانے کی […]
کرسی کا غرور

صاحب نے میز پر لگے بٹن پر انگلی رکھی اور فوراً ہی دفتر کا دروازہ کھلا تو ایک نوجوان نمودار ہوا۔ لمبے قد، پھرتیلے جسم اور گھنے سیاہ لمبے بالوں والا یہ نوجوان دست بستہ اور ہمہ تن گوش کھڑا ہوگیا۔ افسرِ بالا نے اس کو نام لے کر مخاطب کیا: ’’یہ کون سا اسٹائل […]
سی آر اسلم، طبقاتی انقلاب کا استعارہ

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ نام ایسے بھی ہیں، جو کسی بڑے عہدے، کسی اسمبلی کی نشست یا کسی وزارت کے باعث نہیں پہچانے جاتے۔ وہ اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ انھوں نے ایک مشکل زمانے میں ایک مشکل راستہ اختیار کیا تھا۔ ایسا راستہ جس میں اقتدار نہیں ہوتا، مگر یقین […]
ریاستِ سوات، صحافت کا ارتقا اور ’ماما‘

صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ […]
محنت کی پہچان اور شعور کی بیداری

دنیا کی ہر ترقی، ہر عمارت اور ہر کام یابی کے پیچھے اگر کسی ایک طاقت کا سب سے بڑا کردار ہے، تو وہ مزدور کی محنت ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے، جو اپنے وقت، صلاحیت اور جسمانی و ذہنی توانائی کو صرف کرکے معاشرے کے نظام کو چلائے رکھتا ہے… مگر افسوس کی بات […]
قرض، حکم رانی اور قومی خود مختاری کا سوال

پاکستان کی معیشت اور سیاست کا باہمی تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گذشتہ 75 برسوں میں ہم نے بارہا ایسے ادوار دیکھے ہیں, جب قومی فیصلے داخلی ضرورتوں کے بہ جائے بیرونی دباو کے تحت کیے گئے۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ہماری سیاسی اشرافیہ واقعی عوامی […]