کبھی خواب نہ دیکھنا (چوالیس ویں قسط)

مَیں ابھی ہائی وے سب ڈویژن سیدو شریف میں مکمل طور پر سیٹ نہیں ہوا تھا کہ مجھے بونیر جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی ٹھیکہ داروں نے ضوابط پر میری سخت عمل درآمد کے خلاف کڑھنا اور خفگی کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک افسر، اکرام اللہ […]

تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ اور جمہوریت کی مخالفت

Blogger Doctor Gohar Ali

تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ (ٹی این ایس ایم) کا جمہوریت کے خلاف موقف ہمیشہ سے سخت رہا ہے۔ تحریک کے سربراہ صوفی محمد جمہوریت کو کفر اور اسلامی اُصولوں کے منافی قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک جمہوریت کا تصور مغرب سے آیا، جہاں مذہب کو دنیاوی معاملات سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (تریالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

بہ حیثیت مجموعی میں اپنے افسر، ساتھیوں اور ماتحت عملے سمیت، سب کے ساتھ ’’کمفرٹ ایبل‘‘ تھا۔ 14 ستمبر 1987ء کو ایک بڑا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ مَیں نے اُس دن دفتر سے چھٹی لی تھی۔ اچانک مَیں نے سڑک پر دفتر کی جیپ کا ہارن سنا۔ میرے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ […]

پختو دور اور اس کی خصوصیات

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سنہ 1858ء میں سید مبارک شاہ (سوات کے اولین بادشاہ سید اکبر شاہ کے بیٹے) سوات سے رخصت ہوئے اور 1915ء میں عبدالجبّار شاہ کو نیک پی خیل اور سبوجنی کے جرگے نے بادشاہ مقرر […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (بیالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

1985ء میں دریائے سوات میں شدید سیلاب آیا۔ سیلاب کے نقصانات کے خلاف یہ میرا پہلا مقابلہ تھا۔ میرا سیکشن خاص طور پر بہت زیادہ متاثر ہوا۔ ایوب پل کو بچانے والے پشتے بہہ گئے اور آدھی رات کو سیلابی پانی پولیس لائنز میں داخل ہوگیا۔ پولیس والے ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کی چھتوں […]

ریاستِ سوات کی افواج کا ارتقا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) فوج ریاست کی قوت کا بنیادی ذریعہ اور طاقت کی علامت ہوتی ہے۔ بادشاہ صاحب (میانگل عبدالودود) بھی مستقل اور باقاعدہ فوج کے قیام میں خصوصی دل چسپی رکھتے تھے، لیکن انھیں عبد الجبار […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

میرے گھر سے دور پوسٹنگ نے میرے لیے بہت سے مسائل پیدا کر دیے تھے۔ ایک تو میری خاندانی زندگی تقریباً بکھر گئی تھی۔ مَیں اپنے بچوں (دو پیارے بیٹے اور ایک بیٹی) کے ساتھ وقت گزارنے سے محروم تھا۔ مَیں ’’ویک اینڈ‘‘ پر آتا، تو سواڑئی سے مینگورہ تک کے سفر سے میرا سر […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چالیس ویں قسط)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سابق ریاستِ سوات کے حکم ران نے سواڑئی میں کالج کے لیے ایک اراضی حاصل کی تھی۔ اسی اراضی پر سواڑئی کالج، ہاسٹل اور ڈگر کالج کے عملے کے لیے دس عدد رہایشی بنگلے تقریباً 1000 کنال اراضی پر بنائے گئے تھے۔ کالج کی زمین کی قیمت 86000 روپے اہلِ بونیر نے ’’دوتر‘‘ کے حساب […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ہمارے سواڑئی، بونیر منتقل ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے، کہ ہمارے ایس ڈی اُو خورشید علی خان کا تبادلہ سیدو شریف ہوگیا اور سبز علی خان نامی ایک صاحب نے چترال سے ڈگر آکر چارج سنبھال لیا۔ وہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ چترال سے ایک 14 سال کا […]

ریاستِ سوات کے محکموں کا ارتقا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے فوری بعد، حکومت کے مختلف اداروں کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود ریاستی اتھارٹی کی مضبوطی اور عدالتوں، محصولات، دفاع، صحت، تعلیم اور بنیادی […]

اخوند عبد الغفور (سیدو بابا): ’’پوپ آف سوات‘‘

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تعارف:۔ سوات کے مذہبی اور سیاسی اُفق پر اخوند آف سوات کا کردار انتہائی نمایاں اور موثر رہا ہے۔ اُن کے روحانی اثر و رسوخ نے نہ صرف سوات، بل کہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزوں نے اُنھیں ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اثرات کی بنا […]

قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ (مرحوم)

Blogger Sajid Aman

(مرحوم) قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ سوات بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ابتدائی ممبر تھے۔وکالت کا پیشہ ڈھیر سارے لوگوں نے سنا ضرور تھا، مگر وکیل کی شخصیت کیا اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ ٹی وی اور فلموں ہی میں دِکھتا تھا۔ مکان باغ سے گزرتے ہوئے قاضی امداد اللہ وکیل صاحب […]

امبیلہ مہم اور اخوند سوات (سیدو بابا) کا کردار

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تاریخی پس منظر:۔ 1849ء میں برطانوی ہندوستان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی کی تحریک سے جڑے مجاہدین نے ستھانہ اور ملکا کو اپنے مراکز بناکر انگریزوں کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ برطانوی حکام نے […]

شہزادہ اسفندیار: ہیرو، جسے بھلا دیا گیا

Blogger Asim Afandi

جب بھی میں سوات جاتا ہوں اور چکدرہ ملاکنڈ میں دریا کے پار ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع چرچل پیکٹ کو دیکھتا ہوں، تو یہ مجھے گہرے خیالات میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ برطانوی سلطنت میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس کی دھوپ کبھی غروب نہ ہوئی۔ ان […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چونتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

مَیں اس مخمصے کا شکار ہوں کہ ایک پُرامن، ترقی پسند اور خوش حال ریاست کے سنہری دور کے اختتام کو کیسے بیان کروں؟ یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خلا سے کششِ ثقل کے حدود میں بغیر پیراشوٹ کے داخل ہونا۔28 جولائی 1969ء نے ہر اس چیز کا خاتمہ کر دیا، جو ہمیں […]

سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]

اخوند عبد الغفور اور سوات میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ بیک گراؤنڈ:۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں میں ایک نئی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی بالاکوٹ میں شہادت کے بعد، سوات اور گردونواح میں ایک نئی لیکن مختلف اسلامی مذہبی اتحاد تشکیل پایا، جس میں طریقت اور شریعت کے درمیان ایک منفرد […]

میری کہانی، میری زبانی

Blogger Sajid Aman

اپنی پہچان اور شناخت الگ سے بنانا ایک مشکل کام ہے…… اتنا مشکل کہ ایک عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔قارئین! بچپن سے مجھے یاد ہے کہ میں گم شدہ سی شناخت رکھتا تھا۔ سچ پوچھیں، تو ہر جگہ اپنے والد، دادا، چچا اور کئی بار ماموں کی تعریف نے مجھے اذیت میں مبتلا رکھا۔ […]

دیر شاہی مسجد اور لواری ٹنل

Blogger Khalid Hussain Borewala

دیر کی شاہی مسجد پہاڑ کے اوپر جا کر آتی ہے۔ پرانے زمانے کے دوسرے حفاظتی نقطہ نظر سے بنے شہروں کی طرح دیر کا پرانا شہر بھی پہاڑ کے اوپر بنایا گیا تھا۔ ایسا حفاظتی نقطہ نگاہ سے کیا جاتا تھا۔ عام طور پر قلعہ جات ایسی جگہوں پر بنائے جاتے تھے، جو بقیہ […]

بونیر میں مہمان نوازی کی روایت

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بنیادی انفراسٹرکچر اور جدید ذرائع آمد و رفت کی ترقی کے ساتھ پختون معاشرت کی ایک اہم روایت، مہمان نوازی، تقریباً قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ اس سے پہلے، کوئی مسافر یا اجنبی جو ’’خچر پگڈنڈیوں‘‘ […]

سید احمد بریلوی کا دورۂ سوات

Blogger Doctor Gohar Ali

سید احمد (شہید) بریلوی (1786ء تا 1831ء) جو شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہندوستان میں اسلامی اقدار کے احیا کے علم بردار بنے، شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا، میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے مظالم کے خلاف جہاد کے لیے سرگرم ہوئے۔سید احمد (شہید) […]