توانائی بحران کا مستقل حل کیا ہے؟

پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگی اجیرن بناتی ہے، کبھی بجلی کے بھاری بل غریب آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں، اور کبھی مہنگے ایندھن کی درآمد قومی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتی ہے۔ ہر حکومت نے وقتی اقدامات کیے، نئے […]
امن صرف ہتھیار کی خاموشی کا نام نہیں

اکیسویں صدی میں امن کو صرف جنگ یا مسلح تصادم کے نہ ہونے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ عالمی حقائق نے امن کے تصور کو کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے، جس میں معاشی انصاف، سماجی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ، صنفی برابری، صحت و تعلیم تک رسائی، اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔ […]
غزالی و ابنِ رشد… سوال اور یقین کی جنگ؟

یہ سوال کہ کیا آج بھی مسلم دنیا میں ’’غزالی‘‘ اور ’’ابنِ رشد‘‘ کی کش مہ کش جاری ہے؟ میرے ناقص علم کے مطابق جواب ہے کہ یہ محض ایک فکری اختلاف نہیں، بل کہ ہماری تہذیبی سَمت، تعلیمی ترجیحات اور اجتماعی نفسیات کا آئینہ ہے۔ بہ ظاہر یہ بحث صدیوں پرانی ہے، مگر اس […]
فقیر ایپی، تاریخ اور وطن دشمن بیانیہ

میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی شمالی وزیرستان کے ایک بڑے قبیلے اتمان زئی کی ذیلی شاخ بنگالی خیل میں پیدا ہوئے۔ میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی نہ کوئی سیاسی شخصیت تھے اور نہ اُن کا کوئی عسکری پس منظر ہی تھا، بل کہ وہ ایک سادہ مذہبی شخصیت تھے، جو اُس زمانے کی […]
کرسی کا غرور

صاحب نے میز پر لگے بٹن پر انگلی رکھی اور فوراً ہی دفتر کا دروازہ کھلا تو ایک نوجوان نمودار ہوا۔ لمبے قد، پھرتیلے جسم اور گھنے سیاہ لمبے بالوں والا یہ نوجوان دست بستہ اور ہمہ تن گوش کھڑا ہوگیا۔ افسرِ بالا نے اس کو نام لے کر مخاطب کیا: ’’یہ کون سا اسٹائل […]
سی آر اسلم، طبقاتی انقلاب کا استعارہ

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ نام ایسے بھی ہیں، جو کسی بڑے عہدے، کسی اسمبلی کی نشست یا کسی وزارت کے باعث نہیں پہچانے جاتے۔ وہ اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ انھوں نے ایک مشکل زمانے میں ایک مشکل راستہ اختیار کیا تھا۔ ایسا راستہ جس میں اقتدار نہیں ہوتا، مگر یقین […]
مولانا صاحب زادہ جہانزیب فاروقی سرہندی

صوبہ خیبرپختونخوا کی سرزمین ہمیشہ ایسے رجالِ کار کی امین رہی ہے، جنھوں نے علم و عمل کے ذریعے نہ صرف اپنے گرد و پیش کو بدلا، بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری و عملی راہ نمائی کا سامان بھی مہیا کیا۔ انھی نابغۂ روزگار شخصیات میں شیخ الحدیث حضرت مولانا صاحب زادہ […]
ریاستِ سوات، صحافت کا ارتقا اور ’ماما‘

صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ […]
محنت کی پہچان اور شعور کی بیداری

دنیا کی ہر ترقی، ہر عمارت اور ہر کام یابی کے پیچھے اگر کسی ایک طاقت کا سب سے بڑا کردار ہے، تو وہ مزدور کی محنت ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے، جو اپنے وقت، صلاحیت اور جسمانی و ذہنی توانائی کو صرف کرکے معاشرے کے نظام کو چلائے رکھتا ہے… مگر افسوس کی بات […]
قرض، حکم رانی اور قومی خود مختاری کا سوال

پاکستان کی معیشت اور سیاست کا باہمی تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گذشتہ 75 برسوں میں ہم نے بارہا ایسے ادوار دیکھے ہیں, جب قومی فیصلے داخلی ضرورتوں کے بہ جائے بیرونی دباو کے تحت کیے گئے۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ہماری سیاسی اشرافیہ واقعی عوامی […]
ایدھی کا روپ دھارے محمد ہلال

دنیا کی رنگینیوں اور مادہ پرستی کے اس ہجوم میں جہاں ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں مقید ہے اور نفسا نفسی کا عالم ہر سو برپا ہے، وہاں کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کا جینا اور مرنا محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بل کہ انسانیت کی فلاح کے لیے […]
ہوگو شاویز … عوامی تحریک کا استعارہ

لاطینی امریکہ کی تاریخ ’’ہوگو شاویز‘‘ کا نام لیے بغیر ادھوری ہے اور اس کی وجوہات واضح ہیں۔ ہوگو شاویز وہ شخص تھا، جس نے غریبوں کے خوابوں کو زبان دی، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوا اور ایک ایسے ملک میں امید کی شمع روشن کی، جہاں صدیوں سے دولت زمین […]
تورگل، ایک آواز یا بھولی ہوئی بیداری؟

سیاسی تاریخ کے بعض لمحات محض واقعات نہیں ہوتے، بل کہ وہ اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، اور اس کے نتیجے میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور مرکز میں سیاسی بساط لپیٹی گئی، تو اس پورے منظرنامے نے جہاں […]
تعریف، دھوکا یا سیاست؟

نسانی نفسیات کا ایک انتہائی پیچیدہ اور دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ہم سب اپنی اہمیت اور قدر کے اعتراف کے متلاشی ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی ہو، ڈیجیٹل دنیا ہو، یا ملکی سیاست… ہر جگہ تعریف، سراہنا اور خوشامد کا عمل دخل نمایاں نظر آتا ہے۔ چاپلوسی بنیادی طور پر وہ مثُبت تعریف […]
جمال عبدالناصر، عرب وقار کی علامت

قاہرہ کی گرم شاموں میں ایک زمانہ ایسا بھی تھا، جب ریڈیو کی آواز پورے عرب جہاں میں گونجتی تھی۔ لوگ چائے خانوں میں جمع ہوتے، بازاروں میں خاموشیاں چھا جاتیں اور گھروں میں کان ایک آواز پر لگ جاتے۔ وہ آواز ایک ایسے راہ نما کی تھی، جس کے الفاظ میں شکستہ قوموں کے […]
فخر کا حقیقی معیار… نسب یا کردار؟

انسانی سماج میں شناخت (Identity) ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی نسب، خیل، قبیلے یا قوم سے وابستہ ہوتا ہے… اور اسی وابستگی کے ذریعے وہ اپنی پہچان قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے: ’’زه په خپل نسب/ خیل/ قبيله/ قوم فخر کوم!‘‘ تو بہ ظاہر وہ اپنی شناخت […]
پاک-چین دوستی… ترقی کا خواب ادھورا کیوں؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی ملٹری، ٹیکنالوجی اور معاشی سپر پاؤر چین ہمارے دروازے پر موجود ہے، مگر ہم اس قربت سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے جس کی توقع کی جاتی تھی۔ پاک-چین دوستی کو اکثر ’’ہر موسم کی دوستی‘‘ قرار دیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ […]
کامریڈ کم ایل سنگ

تاریخ کے کینوس کو غور سے دیکھیں، تو کچھ افراد محض شخصیات نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مزاحمت کی دھڑکن، خودمختاری کا استعارہ اور طاقت و نظریے کے درمیان جاری کش مہ کش کا زندہ حوالہ…!کامریڈ کم ایل سونگ بھی ایسے ہی فرد کا تعارف ہے، جس نے نہ صرف ایک […]
عالمی یوم ورثہ اور جشن پختونخوا

(نوٹ:۔ یہ تحریر موقع کی مناسبت سے ڈاکٹر رفیع اللہ نے 18 اپریل 2026 کو ارسال کی تھی۔ ادارہ اسے بروقت شائع نہیں کرپایا، اس غفلت کے لیے ادارہ ڈاکٹر رفیع اللہ کے ساتھ ساتھ معزز قارئین سے بھی معذرت خواہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام) آج (18 اپریل) عالمی سطح پر ہیریٹیج، یعنی تاریخی […]
ملاکنڈ کا تاریخی جرگہ، چند فیصلے اور اثرات

جرگہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مفہوم اجتماعی فکر، اشتراکیت اور متفقہ فیصلہ ہے۔ اسی لیے پشتون معاشرے میں ان مقاصد کے حصول کے لیے لفظ ’’جرگہ‘‘ مستعمل ہے، جب کہ دیگر اقوام میں عربی میں ’’شوریٰ‘‘، ہندی اور پنجابی میں ’’پنجائیت‘‘ اور انگریزی میں ’’پارلیمنٹ‘‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ صدیوں پر محیط […]
نظریہ اور نعرے

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام میں سیاسی جماعتیں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعت محض چند افراد کے گروہ کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک ایسے منظم ادارے کا نام ہے، جہاں ہم خیال لوگ ایک مخصوص نظریے اور ضابطۂ اخلاق کے تحت اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایک مثالی سیاسی […]