برف باری: امیر کی تصویر، غریب کی خاموش چیخ

جب برف امیر کے لیے تفریح اور غریب کے لیے زندگی کا کڑا امتحان بن جائے، تو سمجھ لیں کہ مسئلہ موسم کا نہیں، بل کہ انتظامیہ کا ہے۔گذشتہ شب سوات اور باقی شمالی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ شروع ہوا، تو پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی۔ درختوں نے خاموشی کا لباس پہن […]
کرسٹل میتھ (آئس): نوجوان نسل پر مہلک یلغار

پاکستان میں منشیات کے مسئلے کو طویل عرصے تک روایتی زاویے سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ افیون، ہیروئن اور چرس ہماری اجتماعی سوچ میں اس مسئلے کی نمایندہ علامات بن چکی ہیں…… مگر گذشتہ ایک دہائی میں کچھ اس قسم کی منشیات تیزی سے پھیلی ہیں، جنھوں نے نشہ آور چیزوں کے پورے تصور کو […]
امن عالم ٹرمپ کے نوبل انعام سے مشروط

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا صدارتی دور صرف امریکی سیاست تک محدود نہیں رہا، بل کہ اس نے عالمی نظام کو ایک نئی بے یقینی، اضطراب اور خوف کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ وہ سیاست دان ہیں، جو روایتی سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین یا اخلاقی اُصولوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ […]
عدل و انصاف… ریاست کا سب سے بڑا بحران

پاکستان کو درپیش بے شمار مسائل میں اگر کسی ایک بنیادی سبب کی نشان دہی کی جائے، تو وہ بلاشبہ عدل و انصاف کا فقدان ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں انصاف بروقت، غیر جانب دار اور مساوی بنیادوں پر فراہم نہ ہو، وہاں بداعتمادی، انتشار، لاقانونیت اور بالآخر ریاستی کم […]
وفاق، وسائل اور ناانصافی

پاکستان کے قیام کا تصور تھا کہ ہر صوبہ برابری کی بنیاد پر فیڈریشن کا حصہ ہوگا اور وفاق کا مرکزی ڈھانچا انصاف پر مبنی ہوگا، جہاں کسی ایک صوبے کو دوسرے صوبے پر اجارہ داری حاصل نہیں ہوگی۔تاریخ کی طویل مسافت اور روزمرہ کی تلخ حقیقتوں نے یہ واضح کر دیا کہ یہ تصور […]
شجرکاری کا موزوں ترین وقت اور اصول

ہمارے ہاں شجرکاری کا موسم اُس وقت شروع ہوتا ہے، جب شدید سردی کا زور ٹوٹ جائے، موسم نسبتاً معتدل ہو اور بارشیں معمول سے کچھ زیادہ ہونے لگیں۔ عموماً یہ موسمی کیفیت فروری کے دوسرے ہفتے سے پیدا ہونا شروع ہوتی ہے، جو شجرکاری کے لیے نہایت موزوں سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر […]
ایم ٹی آئی ایکٹ، معلومات کا شور اور علم کی کمی

ہمیں ڈھیر ساری چیزوں کا پتا ہوتا ہے، مگر ہمارے پاس متعلقہ علم نہیں ہوتا۔ انفارمیشن اور نالج کے درمیان فرق ہوتا ہے ، اور اسی فرق میں اُلجھ کر ہم کئی دفعہ اچھے یا برے، غلط یا صحیح فیصلے کرتے ہیں، یا تو اُن سے فائدہ اُٹھاتے ہیں یا پھر اُن کا شکار ہو […]
تجزیۂ سیارہ اور تخلیق کا داخلی کرب

گذشتہ رات بھارتی فلم ’’سیارہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس نے اپنے اچھوتے موضوع اور گہری جذباتی پرتوں کی بہ دولت ذہن پر اَن مٹ نقوش چھوڑ دیے۔ نئی کاسٹ کے باوجود اس فلم نے ’’الزائمر‘‘ کے مریض کی حالتِ زار اور شوبز کی دنیا کے پیچیدہ معاملات کو جس مہارت سے پیش کیا ہے، […]
شعبۂ صحت اور نج کاری کا المیہ

والیِ سوات کا قائم کردہ پُرشکوہ سیدو ہسپتال آخرِکار خودمختاری کے نام پر نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ حکومتی نااہلی، اراکینِ اسمبلی کی بدعنوانی اور نااہلی کا بین ثبوت ہے اور ریاست کے اپنے عوام سے کیے گئے وعدے (مفت، جدید اور آسان علاج) سے انکار ہے۔صحت کسی بھی معاشرے کی بنیاد […]
اہل سوات اور کھوکھلی تبدیلی

قارئین! مَیں سعودی عرب میں گذشتہ دس سال سے محنت مزدوری کرتا چلا آ رہا ہوں۔ یہاں آ کر پتا چلا کہ ہم دنیا سے کتنا پیچھے رہ گئے ہیں۔ سعودی شہری نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، بل کہ بنیادی سہولیات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں پر مجھے کہیں کسی روڈ یا گلی پر […]
ڈاکٹر شیبر میاں کی یاد میں

ڈاکٹر شیبر میاں (مرحوم) اُن نایاب انسانوں میں شمار ہوتے تھے، جن کی زندگی محض عمر پوری کرنے کا عمل نہیں، بل کہ خدمت، شعور، اخلاق اور انسان دوستی کی مسلسل ریاضت تھی۔ وہ ایسے شخص تھے، جنھوں نے اپنے طرزِ عمل، سوچ اور کردار سے یہ حقیقت واضح کر دی کہ اصل عظمت نہ […]
قومی سلامتی، سیاسی مصلحتیں اور خطرناک خاموشی

وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ ریاست پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے؟ محض ایک بیان نہیں، بل کہ قومی سلامتی پر بہ راہِ راست حملہ ہے۔ یہ جملہ لاعلمی نہیں، دانستہ انکار ہے…… اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا روزانہ لاشیں […]
نوجوانوں میں شیشہ نوشی کا بڑھتا رجحان

ایک وقت تھا جب ہم گٹکا، پان، سگریٹ اور چھالیہ وغیرہ کو نشہ اور چیز سمجھتے تھے، لیکن اَب ایک ایسی چیز متعارف کرائی جاچکی ہے، جسے نوجوان نسل برا سمجھنے کے بہ جائے فیشن سمجھتی ہے، اور اس سے ناواقف ہے کہ اس میں کیا شامل ہے اور اس کے صحت پر کیا ممکنہ […]
حالیہ شدید سیاسی بحران کا جائزہ

پاکستان میں آئین کی حکم رانی ہے، نہ قانون کی…… بل کہ یہاں صرف جنگل کا قانون رائجہے۔ یہاں قانون نہیں، بل کہ خوف اور طاقت بولتے ہیں۔ یہاں جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے، بھینس بھی اُسی کی ہوتی ہے۔ بعض دانش مند سمجھتے ہیں کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ بھینس […]
شکریہ، مسٹر ٹرمپ….!

جب سے امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو بیوی سمیت اِغوا کیا ہے، پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ خاص طور پر لاطینی امریکہ اور یورپ کے ممالک میں تشویش مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ لاطینی امریکی ممالک میں اس تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ برملا کیوبا، کولمبیا اور میکسیکو […]
مانسہرہ کے ایدھی، وقاص خان

خود انحصاری ،خدمت اور ریاستی ناکامیوں کے بیچ ایک روشن مثال، وقاص خان کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ وہ اُن گنے چنے لوگوں میں سے ہیں، جنھیں قریب سے جانا جائے، تو انسان واقعی حیران رہ جاتا ہے کہ محدود وسائل، بغیر کسی حکومتی عہدے اور بغیر کسی بڑے ڈونر کے بھی اگر نیت صاف، […]
ناشکری تا زوال: یوسف زئی قوم اور سوات کا المیہ

زندگی کے ابتدائی ایام میں اکثر اس سوال پر مَیں بہت غور کرتا رہتا تھا کہ آخر قدرت اُن لوگوں پر ہی کیوں زیادہ مہربان دکھائی دیتی ہے، جو ناشکرے ہوتے ہیں؟ ہمیشہ نعمتیں اُس کے حصے میں کیوں آتی ہیں، جو نہ اُن کی قدر جانتا ہے، نہ اہمیت کو محسوس ہی کرتا ہے؟ […]
امریکہ بہادر کا اصل چہرہ

امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتا ہے، مگر اس کے عملی کردار پر نظر ڈالی جائے، تو یہ دعوے کھوکھلے اور تضادات سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مداخلت نے جہاں جمہوریت کو فروغ […]
کوٹہ گئی (Doll House)

’’کوٹہ گئی‘‘ کی اِفادیت پر بات کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ آخر ہے کیا؟ہمارے پشتون معاشرے میں بچیاں اپنے بچپن میں گھر کے کسی کونے میں دو تین فٹ کا ایک چھوٹا سا گھر بنالیتی ہیں۔ اس کی دیواریں زمین پر کھینچی گئی لکیروں یا چھوٹے چھوٹے کنکروں سے بنائی جاتی […]
بابوزئی قامی تڑون جرگہ اور سلگتے مسائل

’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں […]
امریکی خارجہ پالیسی اور رجیم چینج

20ویں صدی کے وسط میں اور جنگِ عظیم دوم کے بعد یورپی طاقتیں (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) کم زور ہوگئیں۔ جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین دو مضبوط طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ 1946ء میں ونسٹن چرچل کے "Iron Curtain” خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ایک لوہے کا پردہ برِاعظم (یورپ) پہ اُتر […]