نئے صوبے یا بااختیار بلدیات؟

پاکستان میں ان دنوں نئی چھوٹی انتظامی اکائیوں، نئے صوبوں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر لے دے ہو رہی ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ریاست کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے؟ کسی کا کہنا ہے کہ نئے صوبے ہونے چاہییں، کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کے حق میں ہیں […]
منشیات کا عفریت اور ہماری ذمے داری

معاشرے کی رگوں میں منشیات کا زہر اس تیزی سے اتر رہا ہے کہ اب یہ کسی ایک فرد یا خاندان کا نہیں، بل کہ پورے سماج کا بقائی مسئلہ بن چکا ہے۔ خاص طور پر ’’آئس‘‘ نامی نشے نے تباہی کی جو داستان رقم کی ہے، اس نے ہمارے پُرسکون خاندانی نظام کو ہلا […]
حوثی تحریک کی تاریخ (2)

بیسویں صدی کے وسط تک دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوچکی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم ختم ہوچکی تھی، نوآبادیاتی سلطنتیں بکھر رہی تھیں، عرب قوم پرستی زور پکڑ رہی تھی اور مصر کے صدر جمال عبدالناصر پورے عرب خطے میں انقلاب، جمہوریت اور بادشاہتوں کے خاتمے کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ ان […]
امپیریل کالج لندن، ہمارے لیے آئینہ

آج کل لندن میں امپیریل کالج کے پڑوس میں رہنے کا اتفاق ہو رہا ہے۔ روزانہ اس کی تاریخی عمارتوں، مصروف راہ داریوں، آتے جاتے طلبہ اور علمی سرگرمیوں سے بھرپور ماحول کو دیکھتا ہوں۔ چند روز پہلے کالج کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، تو خیال آیا کہ بعض ادارے محض عمارتوں، کلاس […]
حوثی تحریک کی تاریخ

مشرقِِ وسطیٰ کی سیاست میں اگر کسی تحریک نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں عالمی طاقتوں، عرب ریاستوں اور خطے کی سلامتی کے توازن کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تو وہ یمن کی ’’حوثی تحریک‘‘ ہے۔ آج بہت سے لوگ انھیں صرف ایک مسلح گروہ یا ایران کے اتحادی کے طور پر جانتے […]
ہشمت کا خون سوال بن کر کھڑا ہے

مدین کی وادی میں ایک اور معصوم کلی مسل دی گئی۔ 9 سالہ معصوم اور باپ کے سائے سے محروم ہشمت، جس کی عمر کھیلنے، ہنسنے اور اپنے خواب سجانے کی تھی، مبینہ طور پر ایک سفاک انسان کی درندگی کا شکار ہوئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔یہ خبر صرف ایک گھر کے […]
اخوند خیل قومی اتحاد کا مقصد

ہر قوم اپنی تاریخ، روایات، اقدار اور بزرگوں کی میراث سے پہچانی جاتی ہے۔ پشتون معاشرے میں ’’پختون ولی‘‘ بھی صدیوں سے ایک طرزِ زندگی کے طور پر موجود رہی ہے، جس نے پشتونوں کی اجتماعی زندگی، باہمی تعلقات اور معاشرتی رویوں کو ایک مخصوص رنگ دیا ہے۔ مہمان نوازی، سخاوت، وفاداری، وعدے کی پاس […]
اداروں کی بھرمار اور نتیجہ صفر

دبئی کا ذکر آتے ہی ایک سوال ذہن میں ضرور اٹھتا ہے کہ وہاں ہمیں ہر مسئلے کے لیے اے سی، ڈی سی، ایس پی، ایس ایچ اُو اور درجنوں دیگر عہدوں کی وہ بھرمار کیوں دکھائی نہیں دیتی، جو ہمارے ہاں نظر آتی ہے؟ نہ ہر گلی میں کھلی کچہریوں کا شور سنائی دیتا […]
فیلڈ مارشل ایوب خان کا ہنگامہ خیز دور

سونے کی چڑیا یا بدقسمت برصغیر کی سیاسی تاریخ میں کچھ کردار ایسے ہیں، جن کے گرد تنازع، طاقت اور اصلاح کی کوششیں ایک ساتھ جمع ہو جاتیں ہیں۔ برصغیر کے ایک ٹکڑے پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان بھی ایسا ہی ایک کردار تھے۔ ایوبی دور نہ صرف ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کے حوالے […]
قائدانہ صلاحیتیں جاپان سے سیکھیں

قائدانہ صلاحیتوں سے مراد وہ مہارتیں ہیں، جو ریاستی اداروں، انتظامی امور، سفارتی و بین الاقوامی تعلقات اور ریاست کی معاشی حالت کو بہتر بناسکیں۔ ریاستی ترجیحات کا بروقت تعین کرنا، فوری فیصلہ سازی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اور کسی بھی اندرونی و بیرونی دباو کے وقت پُرسکون رہنا، قائدانہ صلاحیتوں کا […]
تاریخ کی موت…؟

کسی قوم کے بارے میں یہ جاننے کا ایک غیر معمولی طریقہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتی ہے۔ قومی تقریریں بدل سکتی ہیں، سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اخبارات کے اداریے ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن سکول کی کتاب میں درج ایک واقعہ کئی نسلوں کے ذہن میں اس […]
لوڈشیڈنگ: بحران یا کسی منصوبے کی بنیاد؟

لوڈشیڈنگ کے ذریعے لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اگر محض بجلی کی قلت کا نتیجہ نہیں، بل کہ کسی بڑے منصوبے کی بنیاد ہو، تو یہ سوال انتہائی سنجیدہ نوعیت اختیار کرلیتا ہے کہ آخر اس بحران سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟پاکستان میں توانائی کے بحران کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ ماضی […]
اصلاح حکومت نہیں، رویے بدلنے سے ممکن ہے

ہم جس بدبودار نظام میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کی بدبو صرف آج کی پیداوار نہیں۔ یہ تقریباً 80 سال کے جمع شدہ گند کا نتیجہ ہے۔ اس گندگی کو کسی ایک حکومت، ایک ادارے، ایک سیاسی جماعت یا چند افراد کے سر ڈال کر ہم خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ […]
قوم، نسل: شناخت کا سائنسی و تاریخی تصور

یہ سوال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان ہے کہ کون ہوں مَیں؟ کیا میری شناخت میرے خون میں ہے، میرے ڈی این اے میں ہے، میری زبان میں ہے، میرے وطن میں ہے یا پھر میری تہذیب اور تاریخ میں؟ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے انسان نے کبھی قبیلے بنائے، کبھی سلطنتیں قائم […]
تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو

ہمارے ہاں صدیوں سے یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اگر پڑوس میں کوئی حادثہ پیش آ جائے، یا کوئی ہنگامی صورتِ حال درپیش ہو، تو لوگ مشترکہ طور پر اس سے نمٹتے ہیں۔ سیلاب میں لوگوں کی جانیں بچا کر انھیں محفوظ مقامات تک پہنچانا، مال مویشیوں اور گھریلو سامان کو بھی نکال […]
آریا نسل… تاریخ، حقیقت یا افسانہ؟

دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اصطلاح ’’آریا‘‘ جتنی غلط سمجھی گئی ہو۔ ایک طرف اسے برتری، طاقت اور خالص نسل کی علامت بنایا گیا، تو دوسری طرف اسے مختلف قوموں کی شناخت کا پیمانہ سمجھا گیا… مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی ’’آریا نسل‘‘ اور ’’غیر آریا نسل‘‘ موجود […]
صاحب زادہ فاروق جان، علم و اخلاص کا پیکر

یوں تو پرائمری جماعت سے لے کر ایف ایس سی تک میرے تمام اساتذۂ کرام میرے لیے انتہائی قابلِ احترام رہے ہیں۔ تقریباً ہر ایک نے میری علمی و فکری تربیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور اُن کی محبت و شفقت آج بھی میرے دل میں محفوظ ہیں۔ تاہم نویں اور دسویں جماعت کے […]
دہشت گردی سے بڑا مسئلہ…!

کیا ہمارے صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ صرف دہشت گردی ہے؟کیا کبھی ہم نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ دہشت گردی میں مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے اور ہمارے اپنے لوگ ذاتی دشمنیوں، معمولی تنازعات، زمین کے جھگڑوں، چوری، غیرت، انا اور بندوق کے بے دریغ استعمال سے ایک دوسرے کو کتنی […]
مکہ معاہدہ: طاقت کا نیا محور؟

رواں ماہ دنیا کی تین بڑی مسلم ریاستوں (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) کے درمیان ’’مکہ‘‘ کے تحت ایک مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنم لیا ہے۔ معاہدے کے تینوں ممالک کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں دست خط کنندگان میں سے اگر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جاتا ہے، […]
یووال نوح ہراری کی سیپئنز کا جائزہ

انسان یا دنیا کی تاریخ میں شاید اس سے زیادہ بنیادی سوال کوئی نہیں کہ انسان آخر انسان کیسے بنا؟ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے، جہاں ایک معمولی سا حیوان، جو کبھی خود کئی دوسری انسانی انواع کے درمیان محض ایک کم زور نوع تھا، آج پوری زمین کے ماحول، معیشت، سیاست، جنگ، ٹیکنالوجی اور حتیٰ […]
ڈاکٹر سلطان روم کی علمی و ادبی خدمات

ڈاکٹر سلطان روم صاحب ایک بین الاقوامی سطح کے معروف اور تسلیم شدہ محقق و مورخ ہیں۔ انگریزی، اُردو اور پشتو میں 8 تحقیقی کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں 4 کتابیں اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ ہیں۔ اس طرح 4 تحقیقی مونوگراف لکھے ہیں۔ بین الاقوامی اور قومی تسلیم شدہ جرائد میں ان […]