فخر کا حقیقی معیار… نسب یا کردار؟

انسانی سماج میں شناخت (Identity) ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی نسب، خیل، قبیلے یا قوم سے وابستہ ہوتا ہے… اور اسی وابستگی کے ذریعے وہ اپنی پہچان قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے: ’’زه په خپل نسب/ خیل/ قبيله/ قوم فخر کوم!‘‘ تو بہ ظاہر وہ اپنی شناخت […]
کامریڈ کم ایل سنگ

تاریخ کے کینوس کو غور سے دیکھیں، تو کچھ افراد محض شخصیات نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مزاحمت کی دھڑکن، خودمختاری کا استعارہ اور طاقت و نظریے کے درمیان جاری کش مہ کش کا زندہ حوالہ…!کامریڈ کم ایل سونگ بھی ایسے ہی فرد کا تعارف ہے، جس نے نہ صرف ایک […]
کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ اور افغانستان کا المیہ

افغانستان کی تاریخ میں کچھ مناظر ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں ہوتے، بل کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اور زیادہ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ 27 ستمبر 1996 عیسوی کی صبح بھی ایسا ہی ایک منظر لے کر آئی تھی۔ کابل کی ایک سڑک پر ایک سابق بہادر صدر کی لاش لٹک […]
انصاف کا نڈر علم بردار، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ

فسطائیت اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے خلاف ڈٹ جانے والے مردِ مجاہد، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ (شہید) وہ شخص جس نے آئین کی پاس داری کا حلف لیا تھا اور اسی جرم میں مجرم ٹھہرا کہ وہ آئین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ آمریت کو صریحاً خلافِ آئین کہتا […]
ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان

میری اس تحریر سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَیں کوئی ’’پروفیشنل نوحہ‘‘ گر ہوں۔ اُدھر کسی کی موت کی خبر آئی اور اِدھر میری انگلیوں میں خارش ہونے لگی…… لیکن بعض لوگوں کے احسانات بھلانا ناممکن بھی تو ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد خان دارِ فانی سے کوچ کرگئے،یہ ایک نارمل سی بات ہے۔کیوں کہ […]
تاریخ کے قاتل……؟

سوات، جو کبھی امن، علم اور خوش حالی کا گہوارہ تھا، آج شور و غوغا اور بدامنی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وادی اپنے بلند و بالا پہاڑوں کی دل کشی، جنگلات کی شادابی اور دریا کی روانی کے ساتھ ساتھ ایک درخشاں تہذیب و تمدن کی گواہ رہی ہے…… مگر اب یہ خطہ […]
ماضی کا لنڈیکس، حال کی کالونی

آج کا لنڈیکس، کل کے لنڈیکس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ لنڈیکس جو کبھی باغوں، باغیچوں، کھیتوں اور ہریالی کے لیے جانا جاتا تھا، چند ہی گھر تھے اور مولی، گاجر، خربوزے کی فصلیں عام ملتی تھیں…… اب ایک رہایشی کالونی کے سوا کچھ نہیں۔کامران خان پل کب بنا، یہ مجھے یاد نہیں، مگر یہ […]
ٹپہ، پشتو انسائیکلوپیڈیا
ایک خرمانی کے بدلے چھے قتل؟

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 4 مینگورہ سے میرے والد صاحب مجھے اُٹھا کر محتاج ہیڈ ماسٹر (مرحوم) کے سکول بھیجنے لگے۔ ہمارا گھرگل کدہ نمبر 2 میں تھا، جہاں سے نمبر 4 سکول ویسے ہی بہت دور تھا، پھر نمبر 1 سکول اور ڈبل سے بھی زیادہ فاصلے پر…… لیکن ایک تو محتاج ہیڈ ماسٹر […]
ہمارے بچپن کا محرم

نئے ہجری سال کی مبارک باد قبول فرمائیں۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ سماجی اقدار میں تبدیلیاں آتی رہیں، اُسی طرح بعض روایاتی تہوار بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوگئے۔ان گم شدہ رسومات میں محرم الحرام کے آغاز سے 10 محرم تک مختلف سرگرمیاں بھی اب قصۂ پارینہ بن گئی ہیں۔ بچپن میں ہم دیکھا […]
جہان آباد بدھا، سوات کی تہذیبی تاریخ کا اہم نشان

جہان آباد سوات (سابقہ نام شخوڑئی)، پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع سوات میں واقع ایک قدیم اور تاریخی مقام ہے۔یہ علاقہ اپنی قدرتی خوب صورتی، سرسبز وادیوں اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے، لیکن سب سے بڑھ کر اس کی شہرت یہاں موجود بدھ مت دور کے عظیم پتھری […]
امان اللہ خان المعروف کاکا اُستاد صاحب

ہماری نسل اور اس سے پہلے کے مینگروال حضرات سے ’’کاکا اُستاد صاحب‘‘ کا پوچھیں، تو ایک تعظیم، احترام اور محبت کا جذبہ ان کے چہرے میں سرخی پیدا کردیتا ہے۔کاکا اُستاد صاحب مینگورہ نیو روڈ محلہ عیسیٰ خیل کے رہنے والے تھے۔ اُن کو اُستادوں اور افسروں کا اُستاد بھی کہتے ہیں۔کاکا اُستاد صاحب […]
مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]
ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]
ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]
سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]
ڈاکٹر محمد احمد المعروف مفتی صاحب (مرحوم)

یہ تحریر میری انگلیاں نہیں، میرا دل لکھ رہا ہے……!لیکن سچ یہ ہے کہ قلم میرا ساتھ نہیں دے رہا۔ ہاتھ کانپتے ہیں، آنکھیں دھندلا جاتی ہیں اور الفاظ بکھر جاتے ہیں۔ کئی ہفتوں کی سعیِ لاحاصل کے بعد جب بھی کاغذ اُٹھایا، جذبات کی موجیں تحریر کے ساحل کو بہا لے گئیں۔ ایک آدھ […]
ریاست سوات کے کوٹہ قلعہ سے جڑی یادیں

کوٹہ قلعہ کا شمار ریاست کے اولین قلعہ جات میں ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ ریاست کا سرحدی قلعہ تھا۔ اس لیے اس کی عمارت بڑی شان و شوکت والی تھی۔ شاید یہ واحد قلعہ تھا،جس کے ارد گرد دوہری فصیل تھی اور فصیل میں بھی واچ ٹاؤر بنائے گئے تھے۔ مین بلڈنگ کے ٹاؤرز […]
طاقت نے انھیں بے لگام نہیں کیا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین برائیاں کرۂ ارض پر انسانی تاریخ میں بہت پرانی ہیں۔ یہ برائیاں جسم فروشی، بھیک مانگنا اور کرپشن ہیں۔ یہ وہاں پروان چڑھتی ہیں جہاں غربت ہو، ذات پات، مسلک اور جہالت کی بنیاد پر […]
ریاست سوات: ادغام کے بعد کی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے ادغام کے بعد، رائج نظام کچھ عرصے تک چلتا رہا، جب تک ریاست کے مختلف محکموں کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہوگیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر، […]
ماضی کے جہانزیب کالج کے جوشیلے طلبہ

عظیم مادرِ علمی جہانزیب کالج میں صرف اُس وقت کے صوبہ سرحد (اَب خیبر پختونخوا) نہیں، بل کہ پنجاب تک سے لڑکے پڑھنے آتے تھے۔ پنجاب سے آئے ہوئے لڑکے اکثر بہت ذہین اور چالاک ہوتے تھے۔ یہ لڑکے دوسرے طلبہ سے الگ تلگ رہتے تھے اور اکٹھے پھرتے تھے۔ بعض کے سواتیوں سے اور […]