قوم، نسل: شناخت کا سائنسی و تاریخی تصور

Blogger Comrade Sajid Aman

یہ سوال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود انسان ہے کہ کون ہوں مَیں؟ کیا میری شناخت میرے خون میں ہے، میرے ڈی این اے میں ہے، میری زبان میں ہے، میرے وطن میں ہے یا پھر میری تہذیب اور تاریخ میں؟ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے انسان نے کبھی قبیلے بنائے، کبھی سلطنتیں قائم […]

آریا نسل… تاریخ، حقیقت یا افسانہ؟

Blogger Comrade Sajid Aman

دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اصطلاح ’’آریا‘‘ جتنی غلط سمجھی گئی ہو۔ ایک طرف اسے برتری، طاقت اور خالص نسل کی علامت بنایا گیا، تو دوسری طرف اسے مختلف قوموں کی شناخت کا پیمانہ سمجھا گیا… مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی ’’آریا نسل‘‘ اور ’’غیر آریا نسل‘‘ موجود […]

ثور انقلاب کی تاریخ (چھٹی قسط)

Blogger Comrade Sajid Aman

دسمبر 1979 کے آخری ایام میں افغانستان کی سرحدوں پر غیر معمولی سرگرمی شروع ہوچکی تھی۔ شمال کی جانب سے سوویت فوجی دستے، بکتر بند گاڑیاں، ٹینک، فضائی یونٹ اور رسد کے قافلے تیزی سے افغانستان میں داخل ہونے لگے۔ ابتدا میں کابل کے عوام کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ محدود فوجی تعاون ہے، […]

ثور انقلاب کی تاریخ (دوسری قسط)

Blogger Comrade Sajid Aman

پچھلی قسط میں ہم نے انقلاب سے پہلے افغانستان کا جائزہ لیا تھا، جہاں بہ ظاہر بادشاہت قائم تھی، مگر اندر ہی اندر تبدیلی کی کئی لہریں جنم لے رہی تھیں۔ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ نوجوان سوشلسٹ نظریات سے متاثر ہو رہے تھے، تو دوسری طرف مذہبی اور قوم پرست حلقے بھی اپنی اپنی […]

ریاست سوات: سنہرا ماضی، کھویا ہوا ورثہ

Blogger Suhail Sohrab

ریاست سوات کا ذکر آتے ہی دل بے اختیار اُس دور میں چلا جاتا ہے، جب یہ سرزمین صرف قدرتی حسن ہی نہیں، بل کہ اعلا تہذیب، امن، اُخوت اور بہترین انتظام کا بھی نمونہ تھی۔ اُس وقت کی فضا صاف، ہوا خالص، پہاڑ سرسبز اور ماحول قدرتی حسن سے مالا مال تھا۔ سڑکوں کے […]

پشتون تاریخ

Blogger Hamza Nigar

افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ تاریخ گاڑی کے ’’سائڈ مرر‘‘ (Side Mirror) جیسی ہوتی ہے۔ اس سے آپ دیکھتے پیچھے ہیں، لیکن سفر آگے کی جانب ہوتا ہے۔ آج کل ایک گانا مشہور ہوا ہے: ’’زہ بچے د احمد شاہ او ابدالی!‘‘ احمد شاہ ابدالی افغان جنگ جو تھا، جس کی یلغار اور حملوں کی […]

فخر کا حقیقی معیار… نسب یا کردار؟

Blogger Ghufran Tajik

انسانی سماج میں شناخت (Identity) ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی نسب، خیل، قبیلے یا قوم سے وابستہ ہوتا ہے… اور اسی وابستگی کے ذریعے وہ اپنی پہچان قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے: ’’زه په خپل نسب/ خیل/ قبيله/ قوم فخر کوم!‘‘ تو بہ ظاہر وہ اپنی شناخت […]

کامریڈ کم ایل سنگ

Blogger Comrade Sajid Aman

تاریخ کے کینوس کو غور سے دیکھیں، تو کچھ افراد محض شخصیات نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مزاحمت کی دھڑکن، خودمختاری کا استعارہ اور طاقت و نظریے کے درمیان جاری کش مہ کش کا زندہ حوالہ…!کامریڈ کم ایل سونگ بھی ایسے ہی فرد کا تعارف ہے، جس نے نہ صرف ایک […]

کامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ اور افغانستان کا المیہ

Blogger Comrade Sajid Aman

افغانستان کی تاریخ میں کچھ مناظر ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلے نہیں ہوتے، بل کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اور زیادہ گہرے ہوتے جاتے ہیں۔ 27 ستمبر 1996 عیسوی کی صبح بھی ایسا ہی ایک منظر لے کر آئی تھی۔ کابل کی ایک سڑک پر ایک سابق بہادر صدر کی لاش لٹک […]

انصاف کا نڈر علم بردار، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ

Blogger Sajid Aman

فسطائیت اور سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے خلاف ڈٹ جانے والے مردِ مجاہد، کامریڈ جسٹس وقار احمد سیٹھ (شہید) وہ شخص جس نے آئین کی پاس داری کا حلف لیا تھا اور اسی جرم میں مجرم ٹھہرا کہ وہ آئین کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گا۔ وہ آمریت کو صریحاً خلافِ آئین کہتا […]

ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان

Blogger Fazal Raziq Shahaab

میری اس تحریر سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ مَیں کوئی ’’پروفیشنل نوحہ‘‘ گر ہوں۔ اُدھر کسی کی موت کی خبر آئی اور اِدھر میری انگلیوں میں خارش ہونے لگی…… لیکن بعض لوگوں کے احسانات بھلانا ناممکن بھی تو ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد خان دارِ فانی سے کوچ کرگئے،یہ ایک نارمل سی بات ہے۔کیوں کہ […]

تاریخ کے قاتل……؟

Blogger Fazal Maula Zahid

سوات، جو کبھی امن، علم اور خوش حالی کا گہوارہ تھا، آج شور و غوغا اور بدامنی کی علامت بن چکا ہے۔ یہ وادی اپنے بلند و بالا پہاڑوں کی دل کشی، جنگلات کی شادابی اور دریا کی روانی کے ساتھ ساتھ ایک درخشاں تہذیب و تمدن کی گواہ رہی ہے…… مگر اب یہ خطہ […]

ماضی کا لنڈیکس، حال کی کالونی

Blogger Sajid Aman

آج کا لنڈیکس، کل کے لنڈیکس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ لنڈیکس جو کبھی باغوں، باغیچوں، کھیتوں اور ہریالی کے لیے جانا جاتا تھا، چند ہی گھر تھے اور مولی، گاجر، خربوزے کی فصلیں عام ملتی تھیں…… اب ایک رہایشی کالونی کے سوا کچھ نہیں۔کامران خان پل کب بنا، یہ مجھے یاد نہیں، مگر یہ […]

ایک خرمانی کے بدلے چھے قتل؟

Blogger Sajid Aman

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 4 مینگورہ سے میرے والد صاحب مجھے اُٹھا کر محتاج ہیڈ ماسٹر (مرحوم) کے سکول بھیجنے لگے۔ ہمارا گھرگل کدہ نمبر 2 میں تھا، جہاں سے نمبر 4 سکول ویسے ہی بہت دور تھا، پھر نمبر 1 سکول اور ڈبل سے بھی زیادہ فاصلے پر…… لیکن ایک تو محتاج ہیڈ ماسٹر […]

ہمارے بچپن کا محرم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

نئے ہجری سال کی مبارک باد قبول فرمائیں۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ سماجی اقدار میں تبدیلیاں آتی رہیں، اُسی طرح بعض روایاتی تہوار بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوگئے۔ان گم شدہ رسومات میں محرم الحرام کے آغاز سے 10 محرم تک مختلف سرگرمیاں بھی اب قصۂ پارینہ بن گئی ہیں۔ بچپن میں ہم دیکھا […]

جہان آباد بدھا، سوات کی تہذیبی تاریخ کا اہم نشان

Blogger Engineer Miraj Ahmad

جہان آباد سوات (سابقہ نام شخوڑئی)، پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے ضلع سوات میں واقع ایک قدیم اور تاریخی مقام ہے۔یہ علاقہ اپنی قدرتی خوب صورتی، سرسبز وادیوں اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے، لیکن سب سے بڑھ کر اس کی شہرت یہاں موجود بدھ مت دور کے عظیم پتھری […]

امان اللہ خان المعروف کاکا اُستاد صاحب

Blogger Sajid Aman

ہماری نسل اور اس سے پہلے کے مینگروال حضرات سے ’’کاکا اُستاد صاحب‘‘ کا پوچھیں، تو ایک تعظیم، احترام اور محبت کا جذبہ ان کے چہرے میں سرخی پیدا کردیتا ہے۔کاکا اُستاد صاحب مینگورہ نیو روڈ محلہ عیسیٰ خیل کے رہنے والے تھے۔ اُن کو اُستادوں اور افسروں کا اُستاد بھی کہتے ہیں۔کاکا اُستاد صاحب […]

مسجد سیدو بابا (سیدو بابا جمات)

Blogger Fazal Raizq Shahaab

نہ صرف سیدو بابا کی عبادت گاہ، بل کہ ملحقہ کئی انسٹالیشنز ایک ہی شخصیت سے منسوب ہیں۔ ’’مسجد سیدو بابا‘‘، ’’چینہ سیدو بابا‘‘، ’’مزار سیدوبابا‘‘ اور ’’لنگر سیدو بابا۔‘‘کہتے ہیں کہ اس بستی کا نام ’’سادوگان‘‘ تھا، بعد میں ’’سیدو‘‘ بن گیا۔ محلِ وقوع کے لحاظ سے محفوظ، صاف وافر میٹھے پانی کا چشمہ، […]

ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]

ریاست سوات، جب شاہی علم اُتارا گیا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

یوسف زئی ریاست سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت ’’فلیگ سٹاف‘‘ سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔پھر نہ کسی نے شاہی علم والئی سوات کی رہایش گاہ پر لہراتے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔عجب افراتفری اور غیر یقینی […]