پاکستانی سیاست کے بجلی گھر

ندیم فاروقی سے میری بالمشافہ ملاقات تاحال نہیں ہوئی، لیکن مَیں اُنھیں ایک صاحبِ مطالعہ اور صاحبِ قلم لکھاری کی حیثیت سے طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ اُن کی تحریروں میں ایک خاص گہرائی، توازن اور فکری وقار جھلکتا ہے۔ جب میرے قریبی دوست ظاہر شاہ نگار نے بتایا کہ ندیم فاروقی کا تعلق ملاکنڈ […]
’’تہذیب کی کہانی‘‘ (مختصر ترین خلاصہ)

تلخیص نگار: مظہر چوہدری ’’تہذیب کی کہانی‘‘ (The Story of Civilization) ’’ول ڈیورنٹ‘‘ (Will Durant) اور اُن کی بیوی ’’ایریل ڈیورنٹ‘‘ (Ariel Durant) کی لکھی ہوئی 11 جلدوں پر مشتمل ایک مشہور کتابی سیریز ہے۔یہ سیریز مشرقی اور مغربی دونوں تہذیبوں کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ ان سطور کے ذریعے ہر جلد کا مختصر […]
ارندھتی رائے کی ذاتی زندگی پر مشتمل کتاب

ارندھتی رائے (Arundhati Roy) کی ذاتی زندگی اس قدر مشکل اور توقع کے برخلاف رہی ہوگی، اس کا اندازہ مجھے اُن کی حالیہ کتاب "Mother Mary Comes to Me” پڑھنے سے قبل ہرگز نہیں تھا۔ہاں البتہ اتنا ضرور لگتا تھا کہ اُنھوں نے شاید عوام کو درپیش مسائل بہت قریب سے دیکھے ہوں گے، ورنہ […]
زندگی بدلنے والی کتابوں میں سے ایک

تبصرہ: تنویر گھمنزندگی میں آگے بڑھنے کے لیے صرف محنت اور مہارت کافی نہیں، کبھی دوسروں سے مدد لینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اُنھیں لگتا ہے کہ مدد مانگنا کم زوری ہے، یا یہ کہ اگر وہ کسی سے کچھ مانگیں گے، تو شاید اُنھیں […]
کام یابی کا گر سکھانے والی کتاب

تبصرہ: تنویر گھمن زندگی کی تیز رفتاری ہمیں کئی سمتوں میں کھینچ رہی ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی کام، بے شمار فیصلے اور نہ ختم ہونے والی ذمے داریاں۔ ہم جتنا زیادہ مصروف رہتے ہیں، خود کو اتنا ہی کام یاب سمجھتے ہیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا ہم حقیقت میں آگے بڑھ […]
’’ڈیجیٹل مینی مل ازم‘‘ (Digital Minimalism)

تبصرہ: تنویر گھمن سب سے قیمتی سرمایہ ہمارا وقت اور توجہ ہیں، لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں ہم انھیں غیر ضروری اسکرین ٹائم اور بے مقصد سکرولنگ میں ضائع کر رہے ہیں۔’’کیل نیوپورٹ‘‘ (Cal Newport) کی یہ کتاب (Digital Minimalism) ہمیں ٹیکنالوجی کو بہتر استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔مصنف موثر حکمت عملیوں کے […]
صدیوں پرانی ذاتی ڈائری جو کتاب کی شکل اختیار کرگئی

تحریر: تنویر گھمن کیا مَیں آپ کو بتا دوں کہ یہ کتاب 1,800 سال پرانی ذاتی ڈائری میں لکھے کسی انسان کے خیالات پر مشتمل ہے؟کیا مَیں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ وہ کوئی عام شخص نہیں تھا، بل کہ رومی سلطنت کا شہنشاہ، فلسفی اور مفکر تھا۔ وہ 161ء سے 180ء تک روم […]
’’پریزنس‘‘ زندگی بدلنے والی کتاب

تحریر: تنویر گھمنمَیں یقین سے کَہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ جو ہیں وہ دکھا نہیں پاتے، پوری پوٹینشل استعمال نہیں کر پا رہے، کسی انٹرویو، پریزنٹیشن یا اہم ملاقات میں جاتے ہیں اور خود کو کم زور، کھوکھلا، غیر مطمئن اور […]
ناول ’’گریٹ ایکسپیکٹ ایشنز‘‘ (تبصرہ)

تحریر: عبد اللہ خالد چارلس ڈکنز 19ویں صدی کے ایک نام ور انگریزی ناول نگار تھے، جنھوں نے زندگی کے تلخ حقائق اور انسانی فطرت کو بے حد خوب صورتی سے قلم بند کیا۔ اُن کی تحریریں محض کہانیاں نہیں، بل کہ سماج کا آئینہ تھیں، جہاں امیری اور غریبی، محبت اور بے حسی، اُمید […]
ناول ’’اناطولیہ کہانی‘‘ (تبصرہ)

تحریر: علی عمار یاسر ایک ناول کو کیا چیز اچھا بناتی ہے؟مَیں نہ کسی ادبی مجلے کا مدیر ہوں، نہ کسی یونیورسٹی کا لیکچرر کہ کسی ناول کے فنی محاسن پر کماحقہ روشنی ڈالوں۔ میرا اُصول سیدھا سادھا ہے۔ کسی کتاب کے ختم ہونے پر میرا دل کہے کہ یہ اچھی ہے، تو کہے، دل […]
نیند کی کمی خاموش قاتل ہے

تحریر: تنویر گھمن آج کی کتاب ہماری نیند کے نام۔ آج کل بہت لوگ نیند کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ کچھ فخر سے کہتے ہیں کہ وہ کم سوتے ہیں، اور کچھ سمجھتے ہیں کہ اسے قربان کر کے ہم زیادہ کام کرسکتے ہیں، زیادہ سیکھ سکتے ہیں اور زیادہ کام یاب ہوسکتے ہیں…… […]
سیمون دی بووا کا ناول ’’عورت‘‘

تحریر: عدیل مغل زمانۂ طالب علمی میں جن بڑی اور اہم کتب کا مطالہ کیا تھا، اُن میں ’’سیمون دی بووا‘‘ (Simone de Beauvoir) کی کتاب "The Second Sex” شامل تھی، جس کا ترجمہ ’’عورت‘‘ کے نام سے ہوا تھا، جو یاسر جواد صاحب کی کاوش تھی۔عورت کو جسمانی، نفسیاتی اور معاشرتی تناظر میں سمجھنے […]
ایک نو عمر لڑکی کی ڈائری

تبصرہ و انتخاب: رومانیہ نور (ملتان) ’’اینیلیز این فرینک‘‘ (Annelies Marie Frank) در اصل 12 جون 1929ء کو جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ 1933ء میں نازیوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد فرینک خاندان نیدر لینڈ چلا گیا۔’’این‘‘ نے زیادہ تر وقت ایمسٹرڈم میں گزارا۔ فروری 1945ء میں محض […]
’’ون فلیو اُوور دی کوکوز نیسٹ‘‘ اور ہمارا نظامِ تعلیم

دوسرے ہسپتالوں کے برعکس یہ ایک سرد، بے رحم جگہ تھی، جہاں سفید دیواریں اور تیز روشنیاں مریضوں کے بے جان چہروں پر پڑ رہی تھیں۔ ہوا میں جراثیم کُش دوا کی بُو اور مایوسی کی ایک گہری چادر تھی، جسے نرس ’’ریچڈ‘‘ اپنی پُرسکون لیکن کنٹرول کرنے والی آواز سے مزید گہرا کر رہی […]
ناول ’’شاکاہاری‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: دانش مرزا ’’شاکاہاری‘‘ جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی،نوبیل انعام یافتہ ادیب ’’ہان کانگ‘‘ کے ناول "The Vegetarian” کا اُردو ترجمہ ہے۔ جسے اسماء حسین نے انگریزی ترجمہ سے اُردو روپ دیا ہے۔ناول کا ترجمہ پڑھنے میں رواں ہے اور الفاظ کا بہترین استعمال کیا گیا ہے۔ مَیں نے اسے تین نشستوں میں […]
تنہائی کے سو سال (اِک تاثر)
ناول ’’الکیمسٹ‘‘ میری نظر میں

تحریر: اختر محمود ’’اور جب تم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہو، تو پوری کائنات اس طرح مددگار ہو جاتی ہے کہ تم اسے حاصل کر لو!‘‘ اس سطر کو ہم ناول کا مرکزی خیال قرار دے سکتے ہیں۔ ٭ کہانی:۔ الکیمسٹ ایک ایسے گڈریے کی داستان ہے، جسے دنیا گھومنے اور نئے نئے تجربات […]
ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب اور چند باتیں

جب کورونا وبا کی وجہ سے لگ بھگ ڈیڑھ سال کے لیے گھر میں مقید ہوا، تو مین اسٹریم میڈیا کے مرچ مسالہ لگی افواہوں سے کنارہ کرکے کتب بینی میں پناہ لی۔ ابتدائی طور پر پڑھی گئیں کتب میں سے ایک ملالہ یوسف زئی کی آپ بیتی "I am Malala” تھی، جس نے مایوسی […]
فارن ہائیٹ 451 (تبصرہ)

تبصرہ نگار: عمران اعوان کورش ’’فارن ہائیٹ 451‘‘ دراصل ’’رے بریڈ بری‘‘ (Ray Bradboury) کا ناول ہے، جسے شائع کیا ہے ’’سٹی بک پوائنٹ‘‘ نے اور مترجم ہیں فاطمہ رحما صاحبہ، جو خود اس ناول کے بارے میں اپنی رائے کچھ اس انداز سے پیش کرتی ہیں: ’’70 سال پہلے لکھا گیا ناول، مصنف کے […]
’’وجود کی ناقابلِ برداشت لطافت‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ گیلانی سید سعید نقوی صاحب ہمارے پسندیدہ مترجم ہیں۔ صرف اس لیے نہیں کہ اُن کا ترجمہ بہت رواں اور شان دار ہوتا ہے…… اس لیے بھی کہ اُن کا ترجمے کے لیے کتاب کا انتخاب حیران کن حد تک میری پسند سے میل کھاتا ہے۔ اَب تو میں کوئی کتاب صرف […]
جان ملٹن کی ’’گم شدہ جنت‘‘

پیدایش: 1608ء انتقال: 1674ء جان ملٹن (John Milton) انگریزی ادب کا ایک بڑا شاعر ہے، جسے شیکسپیئر کے بعد دوسرا درجہ دیا جاتا ہے۔ اُس نے اعلا تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر اپنے باپ کے دیہاتی مکان میں تنہائی اختیار کرکے چھے سال تک اُن تمام علوم کا مطالعہ کیا، جو اُس […]