ناول ’’اندھیرے میں‘‘ (تبصرہ)

A Book Review by Umar Khan

تحریر: عمر خان  رابندر ناتھ ٹیگور کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ اُن کا شہرہ آفاق ناول ’’ٹھاکرانی کی ہاٹ‘‘ ٹیگور کی ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، جس کا اُردو ترجمہ پرتھوی راج نشتر نے ’’اندھیرے میں‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا […]

’’ملا نصیر الدین‘‘ (تبصرہ)

Book Review by Imran Awan

تبصرہ نگار: عمران اعوان (کورش)  یہ کتاب جو کہ مِزاحیہ اندازِ بیاں پر مبنی ہے، اسے ’’لیونید سولویف‘‘ نے کئی مستند ذرائع سے معلومات اکٹھی کرکے لکھا تھا، جب کہ اس کا ترجمہ حبیب الرحمان نے کیا ہے اور کافی سلیس و رواں اُردو میں کیا ہے۔ بُک کارنر نے اسے 2018ء میں چھاپا تھا […]

کلیلہ و دِمنہ (تبصرہ)

Zain Saleem

تبصرہ نگار: زین سلیم  دنیا کی 40 بڑی زبانوں میں ترجمہ ہونے والا ہندوستانی کلاسیک شاہ کار ’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کہانیوں اور داستان کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کو مشہور عربی ادیب عبد اللہ بن المقفع نے عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ ابن المقفع نے اسے اپنے ہی انداز میں لکھا۔ پھر اُردو ترجمہ مفتی […]

جنت کی تلاش (تبصرہ)

Jannat ki Talash, Book Review

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز  ’’مُلک ہار جائے، تو کچھ نہیں ہوتا۔ آدمی مر جائے، تو کچھ نہیں مرتا۔انسان کی اُمنگ مار دی جائے، تو سب کچھ مر جاتا ہے۔‘‘ ذی روح انسان کے نزدیک جنت کی کنجی نیکی و بدی، خیر و شر، اچھائی و برائی کے ترازوے میں تو لے جانے والے نامۂ اعمال […]

’’کبڑا عاشق‘‘ (تبصرہ)

Book Review

تبصرہ نگار: حسن یوسف  اس کائناتِ حیرت میں واحد شے جو رنگ و نسل، مذہب و قوم سے بالاتر ہے وہ ’’محبت‘‘ ہے۔ آپ کسی لمحۂ موجود میں مبتلائے تمنا ہوجاتے ہیں اور جان نہیں پاتے، لیکن جب ادراک کے در وا ہوتے ہیں، تو آپ اُس ایک تمنا، اُس ایک خواب جس میں مبتلا […]

کاندید (تبصرہ)

Blogger Aqsa Sarfaraz

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز  خوف زدہ، حواس باختہ،گُم صم، لہولہان اور لرزہ براندام کاندید خود سے سوال کرتا ہے: ’’اگر یہی بہترین دنیا ہے، تو اس سے بدتر کون سی ہوگی؟ مجھے جو کوڑے لگے ہیں، اُنھیں تو مَیں نظر انداز کرسکتا ہوں۔ اس لیے کہ اس سے قبل بلغاریوں نے بھی میرے ساتھ ایسا […]

بھوکی سڑک (تبصرہ)

Blogger Tariq Ahmad Khan

تبصرہ نگار: طارق احمد خان  ’’بھوکی سڑک‘‘ دراصل ’’بین اوکری‘‘ (Ben Okri) کے بکر پرائز وننگ ناول "The Famished Road” کا اُردو ترجمہ ہے، جسے راشد اشرف نے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ ’’بین اوکری‘‘ نائجیریا سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ اگر آپ نے مارکیز کا ’’تنہائی کے […]

ناول ’’باپ اور بیٹے‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: اقصیٰ سرفراز عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے اکبر اِلہ آبادی کا یہ شعر اس کتاب کی مکمل ترجمانی کرتے دیکھائی دیتا ہے۔ ایوان ترگینف نے جس زمانے میں اپنا خوب صورت اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا ہوا یہ شاہ کار ناول […]

دیوانوں کی ڈائریاں (تبصرہ)

Book Review by Aqsa Sarfaraz

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز  عالمی ادب کے مصنفین کی کتب پڑھنے اور اُن کے فلسفیانہ خیالات سے واقفیت بڑھانے کا بہترین موقع ہمیں تراجم کی صورت میں میسر آتا ہے۔ عالمی ادب کے تراجم کی دنیا بہت وسیع ہے۔ جب ہم جیسے قارئین، جو اس میدان میں نئے ہیں، میں عالمی تراجم پڑھنے کا شوق جاگتا […]

کیتھرائن مینسفیلڈ کے بہترین افسانے (تبصرہ)

Munir Faraz

تبصرہ نگار: منیر فراز  ’’عالمی افسانوی ادب کے تراجم‘‘ (فیس بک صفحہ) میں ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کا نام اب کسی روایتی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ ڈاکٹر صاحبہ کے عالمی ادب کے تراجم کی دو کتب، ایک بنام ’’عکسِ ادب‘‘ جس میں عالمی ادب کے بہترین افسانوں کا انتخاب شامل تھا اور دوسری، […]

اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی

تبصرہ نگار: فرخ سہیل گوئندی زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی‘‘ دو یہودی مصنفین کی تحقیقی اور معلوماتی کتاب ہے۔ یہ جناب اسرائیل شحاک اور نارٹن میزونسکی کی مشترکہ کاوش ہے۔ اسرائیل شحاک پولینڈ میں اپنی والدہ کے ہم راہ ایک نازی کیمپ صرف اس بنیاد پر قید کردیے گئے کہ وہ یہودی […]

ولیم شیکسپیئر کے ’’ہیملیٹ‘‘ کا اُردو ترجمہ

Aqsa Sarfaraz

تبصرہ: اقصیٰ سرفراز  شہرت یافتہ لکھاری کی لکھی کوئی بھی تصنیف، چاہے وہ عام ہو یا خاص، ہمیشہ شہرت یافتہ کہلاتی ہے۔ اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت شیکسپیئر کا ڈراما ’’ہیلمیٹ‘‘ ہے۔ مَیں واضح کرنا چاہوں گی کہ مَیں لکھاری یا اس کی تصنیف پہ سوال نہیں داغ رہی، بلکہ کتاب کے ترجمے کے […]

تاریخ، وِل ڈیورانٹ اور یاسر جواد

وِل ڈیورانٹ کی کتاب "The Story of Civilization”، جس کا اُردو ترجمہ یاسر جواد صاحب نے کیا ہے، ایک شان دار تاریخی کتاب ہے، جو 11 جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں انسانی تمدن کی تاریخ کا جامع اور وسیع جائزہ دیا گیا ہے۔ ابو جون رضا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]

ناول ’’درخت نشین‘‘ کا مختصر جائزہ

Book Review of an Italian Translated Novel by Safina Baigum

تبصرہ: سفینہ بیگم قارئین! دو سال قبل یہ ناول پڑھا تھا، لیکن وہ میری ذاتی کاپی نہیں تھی۔ اجمل کمال صاحب کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر پوسٹ دیکھ کر ناول کو خریدنے کا ارادہ کیا، لیکن پیاری بہن نرگس حور نے یہ خوب صورت کتاب تحفے میں بھیج دی، تو دل […]

ناروے کی لوک کہانیاں (تبصرہ)

Norwegian Folktales, Book Review

تبصرہ نگار: منیر فراز  ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ صاحبہ نے اپنی ترجمہ کی ہوئی کتاب ’’ناروے کی لوک کہانیاں‘‘ بڑے خلوص و اہتمام کے ساتھ مجھے بھیجی ہے۔ یہ چند مہینوں میں اُن کی ترجمہ کی ہوئی دوسری کتاب ہے، جو غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے والوں کی ’’بُک شلف‘‘ کی زینت بنی […]

خوش ونت سنگھ کا ناول ’’دلی‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کنول اقبال جب برصغیر کی بات آتی ہے، تو یہ سوچ کر دل کو تسلی نہیں دی جا سکتی کہ یہ محض کہانی ہے۔ فرضی کرداروں کے ساتھ قاری کے تخیل کی دنیا وسیع ہوتی ہے، وہ جیسا چاہے سوچتا رہے، لیکن ایسے کردار جو کبھی موجود تھے، اُنھیں پڑھتے وقت دل ہچکولے کھاتا […]

سوامی وویک آنند کی کتاب ’’کرما یوگا‘‘ کا مختصر جائزہ

یہاں لفظ کرما کا مطلب عمل (Action) ہے (البتہ کرما کے ایک اور معنی مکافاتِ عمل بھی ہیں)، تمام چھوٹے اور بڑے عمل، ہماری سوچ، بولنا اور عمل کرنا سب ’’کرما‘‘ میں شامل ہوتا ہے۔ کتاب ’’کرما یوگا‘‘ میں سوامی وویک آنند صاحب نے کام کو اچھے اور بہتر انداز میں کرنے کا فلسفہ اور […]

لیو ٹالسٹائی کا ناول ’’جنگ اور امن‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کاشف منظور  ’’وار اینڈ پیس‘‘ (War and Peace) یا ’’جنگ اور امن‘‘ کو عالمی ادب کا غیر معمولی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یہ عظیم و ضخیم ناول پڑھنا ہی عام قارئین کے لیے ایک کارنامے سے کم نہیں۔ اپنے کلاسرا صاحب اسے کالج کی سمری بریک میں پڑھتے اور ہم عصر طلبہ اور اساتذہ […]

افغانستان کا نوحہ (تبصرہ)

تبصرہ نگار: نوشابہ کمال  کافی پہلے کہیں پڑھا تھا: ’’جس کا درد، اُسی کا درد…… باقی سب تماشائی‘‘ خالد حسینی کا ناول ’’آ تھاؤزنڈ سپلینڈڈ سنز‘‘ (A Thousand Splendid Suns) پڑھ کر کچھ ایسا ہی احساس ہوتا ہے۔ مختلف عالمی طاقتوں کے لیے افغانستان ایک اکھاڑا تھا، جہاں سب نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ […]

کتابِ میرداد (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ارسلان قادر  ایک دن اُوشو سے کسی نے پوچھا کہ کون سی کتاب پڑھنی چاہیے، تو اُوشو کہنے لگے: ’’دیکھیے لوگوں کے گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، جب کہ میرا گھر ہی لائبریری تھا، جہاں مَیں رہتا رہا۔ سب کتابیں پڑھ لیں، مگر مَیں آپ کو صرف ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں […]

کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]