ریاست سوات کی ملیشا: ایک تعمیری ادارہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جب یوسف زئی ریاستِ سوات مضبوط بنیادوں پر قائم ہوئی اور اس کی سرحدیں محفوظ ہوگئیں، تو دیر اور امب جیسی پڑوسی ریاستوں کے خطرات ماضی کا حصہ بن گئے۔جب اقتدار میاں گل جہانزیب کو سونپ […]

ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]

ریاستِ سوات میں اجتماعی ذمے داری کا تصور

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے دور میں جرائم اور کمیونٹی کی اجتماعی ذمے داری کے بارے میں واضح تصویر پیش کرنا میرے لیے ممکن نہیں، مگر چند بنیادی باتیں ضرور چاہوں گا کہ آپ سے شیئر کروں۔ زیادہ […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چالیس ویں قسط)

Blogger Fazal Raziq Shahaab

سابق ریاستِ سوات کے حکم ران نے سواڑئی میں کالج کے لیے ایک اراضی حاصل کی تھی۔ اسی اراضی پر سواڑئی کالج، ہاسٹل اور ڈگر کالج کے عملے کے لیے دس عدد رہایشی بنگلے تقریباً 1000 کنال اراضی پر بنائے گئے تھے۔ کالج کی زمین کی قیمت 86000 روپے اہلِ بونیر نے ’’دوتر‘‘ کے حساب […]

ریاستِ سوات میں شراب نوشی

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں سمجھتا ہوں کہ ریاستِ سوات کے قبل از انضمام دور کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمیں معاشرتی اقدار اور کچھ اعلا طبقے کے خاندانوں کی طرزِ زندگی میں منفی تبدیلیوں کو نظر انداز نہیں کرنا […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتالیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ہمارے سواڑئی، بونیر منتقل ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے، کہ ہمارے ایس ڈی اُو خورشید علی خان کا تبادلہ سیدو شریف ہوگیا اور سبز علی خان نامی ایک صاحب نے چترال سے ڈگر آکر چارج سنبھال لیا۔ وہ اس وقت غیر شادی شدہ تھا۔ وہ اپنے ساتھ چترال سے ایک 14 سال کا […]

ریاستِ سوات کے محکموں کا ارتقا

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے فوری بعد، حکومت کے مختلف اداروں کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود ریاستی اتھارٹی کی مضبوطی اور عدالتوں، محصولات، دفاع، صحت، تعلیم اور بنیادی […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

ایس ڈی اُو کا انحصار مکمل طور پر اس لڑکے پر تھا۔ دفتر کا سارا کام اس پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سرکاری خط و کتابت کرتا۔ اس کی غیر موجودگی میں ایس ڈی او کی طرف سے دستخط کرتا۔ آنے جانے والے خط و کتابت کا ریکارڈ رکھتا۔ مختصر یہ کہ وہ انجن تھا، […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

پشاور سے پہلی آڈٹ ٹیم 1970ء میں آئی اور ہمارے دفتر میں اپنا کام شروع کر دیا۔ مجھے ایکس ای این عبدالرحیم خان نے آڈٹ ٹیم کے ساتھ کام کے لیے کہا۔ انھوں نے آڈٹ کا آغاز ریاست کے آخری سال سے شروع کرنا چاہا۔ مَیں نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس والی […]

ریاستِ سوات: سیدو شریف میں بجلی کی پہلی بار فراہمی

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بجلی کی ترسیلی لائن کو سوات تک بڑھانے سے پہلے، سیدو شریف کے گھروں میں لائٹ دست یاب نہیں تھی۔ یہاں تک کہ سرکاری رہایش گاہیں بھی بجلی سے محروم تھیں۔ تاہم، پونے روپے فی لیٹر […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (پینتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

17 اگست 1969ء کو جناب ہمایون جو اُس وقت پی اے ملاکنڈ ایجنسی تھے، سوات پہنچ گئے اور مقبوضہ ریاست کا چارج سنبھال لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انضمام کا اعلان عجلت میں کیا گیا تھا۔ بغیر اس منصوبہ بندی کے، کہ نیا نظام کیسے متعارف کرایا جائے اور عوام کو تبدیلی کو قبول کرنے […]

دیر: تحقیق کے لیے کھلا میدان

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’سوات‘‘ ہمیشہ سے تاریخ دانوں، سیاحوں، ماہرینِ بشریات (Social Anthroplogists) اور عُمرانیات کے ماہرین کی دل چسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے ہمسایہ ریاستِ دیر کی بہ نسبت، سوات ہمیشہ ہر قسم کے حملوں کے […]

کبھی خواب نہ دیکھنا (چونتیس ویں قسط)

Blogger Riaz Masood

مَیں اس مخمصے کا شکار ہوں کہ ایک پُرامن، ترقی پسند اور خوش حال ریاست کے سنہری دور کے اختتام کو کیسے بیان کروں؟ یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ خلا سے کششِ ثقل کے حدود میں بغیر پیراشوٹ کے داخل ہونا۔28 جولائی 1969ء نے ہر اس چیز کا خاتمہ کر دیا، جو ہمیں […]

سوات کی تاریخ کی ایک تباہ کُن برف باری

Blogger Riaz Masood

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیرلفظونہ ڈاٹ کام)سال 1962ء میں سوات میں بے مثال اور تباہ کُن برف باری ہوئی۔ یہاں تک کہ سیدو شریف میں بھی دو فٹ موٹی برف پڑی۔ مینگورہ سے مرغزار اور اسلام پور تک سڑکیں ٹریفک کے لیے بند […]