ریاست سوات کا ٹیلی کمیونی کیشن سسٹم

26 نومبر 2025ء کو لفظونہ ڈاٹ کام پر میری تحریر ’’ریاست سوات دور کا مسیحا، ڈاکٹر محمد خان‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، جس کا ایک حصہ ویب سائٹ لنک کے ساتھ برخوردار امجد علی سحاب نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ سرِ دست مذکورہ حصہ ملاحظہ ہو: ’’ڈاکٹر محمد خان دراصل سیدو ہسپتال میں […]
سوات کے کشمیری شہید

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)اُن افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپاہیوں کو، جنھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، ہر ممکن طریقے سے عزت دی جاتی ہے۔ ان کے خاندانوں کو شہدا […]
جہانزیب بٹالین

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ودودیہ ہائی سکول سیدو شریف ریاستی دور کے دوران میں بہت سی کامیابیوں کا چشم دید گواہ رہا ہے۔ اس نے مقامی اور قومی سطح پر غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بے مثال ریکارڈ قائم کیے […]
صحبت لالا: ایک زبردست منتظم

صحبت لالا سیدو شریف کے رہنے والے تھے۔ مرغزار روڈ پر کام کرنے والے روڈ گینگ کے ’’میٹ‘‘ یا انچارج تھے۔ نہایت مستعد، باتونی اور ہوش یار شخص تھے۔ بولتے تو مشین گن کی رفتار سے۔ مجھے تو اکثر پلے بھی نہ پڑتا کہ کیا فرما رہے ہیں؟ سب سے زیادہ مجھے اُن کی عمر […]
’’انگئی پُل کوٹہ اور دیگر پُل‘‘

سوات کے ریاستی دور کا قدیم ترین ’’آرچ برج‘‘ (Arch Bridge) جسے مقامی زبان میں ’’ڈاٹ‘‘ کہتے ہیں، جو مین شاہ راہ "N.95” پر کوٹہ تحصیل بری کوٹ میں واقع تھا، آخرِکار گرا دیا گیا اور اس کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کا حامل "Pre-stressed” آر سی سی پل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔اسے جلد […]
ڈاکٹر محمد ہمایون ہما اور ان کی بے مثل تخلیق

جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد ہمایون ہماؔ کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ایک اُستاد، ادیب، ڈراما نگار، کالم نگار، محقق اور شاعرِ بے بدل کی حیثیت سے اُن کا کام اور مقام روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ حکومت نے اُن کی ادبی کاوشوں کے اعتراف میں اُن کو ستارۂ امتیاز سے نوازا ہے۔پختو […]
انڈس کوہستان تک ایک ناقابلِ فراموش سفر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1960ء کی دہائی کے پہلے نصف میں، ریاستِ سوات کے حکم ران نے فیصلہ کیا کہ دور دراز علاقوں میں ابتدائی طبی امداد کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس منصوبے کے تحت دو کمروں پر مشتمل […]
ہمارے بچپن میں فال نکالنے کے طریقے

مجھے یاد ہے، تعلیم جب اتنی عام نہ تھی، تو توہمات کی بہتات تھی۔ لوگ فال اور تعویذ کے بڑے قائل تھے۔کئی نیم خواندہ گھروں میں ’’فال نامہ‘‘ کے نام سے پشتو میں لکھی ہوئی منظوم و منثور کتابیں تھیں، جو اوسط درجے کے کاغذ پرچھپی ہوتی تھیں۔ اُن رسالہ نما غیر مجلد کتابوں کی […]
ایسے تھے ہمارے مہربان حکم ران (والی سوات)

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے حکم ران میاں گل جہانزیب (والیِ سوات) کو سرکاری ملازمین کی بڑی فکر رہتی تھی۔ انھیں سوات اور اس کی ماتحت علاقوں کے لوگوں سے توقع تھی کہ وہ ریاستی اہل کاروں کی عزت […]
ریاستی پی ڈبلیو ڈی کی تنظیم اور طریقۂ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مَیں نے پہلے بھی اس انتہائی اہم ریاستی ادارے کی ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ جب مَیں نے 1961ء میں اس میں شمولیت اختیار کی، تو یہاں کوئی بھی اہل تکنیکی تعلیم یافتہ اہل کار نہیں […]
سیدو بابا پل سے نتھی یادیں

اس بلاگ میں شامل تصویر میں لکڑی کا پل نمایاں نظر آرہا ہے۔ اس پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیرزادہ استاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک دُکان حافظ بختیار حاجی صاحب کی تھی کریانے کی۔ […]
ریاست سوات: ماضی کی چند جھلکیاں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک بار والی صاحب کو ڈاک کے ذریعے ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط اُردو میں لکھا گیا تھا۔ اس خط میں والی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا تھا کہ اُنھوں نے ریاستی پبلک […]
شہزادہ میانگل عالم زیب

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)شہزادہ میانگل عالم زیب، میانگل جہانزیب (جو 1949ء سے 1969ء تک سوات کے حکم ران تھے) کے دوسرے صاحب زادے تھے۔ بچپن میں، میاں گل عالم زیب مرگی کے شکار ہوگئے، جو اُس وقت لاعلاج بیماری […]
ریاست سوات کے آثار کے ساتھ ناروا سلوک کیوں؟

سوات کے ریاستی دور کے آثار مٹتے مٹاتے تقریباً معدوم ہوگئے ہیں۔ شاید ہی کہیں اِک آدھ باقی ہوں، باقی سب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔مَیں نے اپنی فیس بک وال پر ’’آنجہانی‘‘ ہونے والی تحصیلِ بری کوٹ کی عمارت کی ایک تصویر دی ہے، جو اَب ’’سورگ باش‘‘ ہوچکی ہے۔ اُس کی جگہ جو […]
والی سوات کے لیے کلمۂ خیر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟

دوستو! مجھے فیس بک پہ آئے اتنا زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر جو بات مَیں نے سیکھ لی ہے، وہ ہے کمنٹس کو کبھی نظرانداز نہ کرنا۔ کیوں کہ ان سے رائے زنی کرنے والے کی اصلیت کا پتا چلتا ہے۔اس کی مدد سے آپ یہ بھی جان لیتے ہیں کہ لوگوں کا’’ٹرینڈ‘‘ کیا ہے، […]
سیدو ہسپتال کی ابتر صورتِ حال اور سنہرا ماضی

سیدو ٹیچنگ ہسپتال کی صفائی کے بارے میں ’’سوات نامہ‘‘ (فیس بُک صفحہ) کی ایک پوسٹ پڑھی، بہت افسوس ہوا۔ مَیں صرف ایک بار اس دیو ہیکل عمارت میں گیا تھا کسی کی عیادت کے لیے…… مگر لفٹ کی مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے لابی میں بیٹھ گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ صفائی […]
ریاست سوات: ادغام کے بعد کی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے ادغام کے بعد، رائج نظام کچھ عرصے تک چلتا رہا، جب تک ریاست کے مختلف محکموں کے مقدر کا فیصلہ نہیں ہوگیا۔ یہ ایک مشکل کام تھا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر، […]
جب تنخواہ کم تھی اور اطمینان زیادہ

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بُو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا۔یہ دراصل میری ملازمت کے ابتدائی برسوں کی […]
نسوار سے جڑی یادیں

چلیں، آج اس گھمبیر ماحول میں کچھ ہلکی پھلکی بات کی جائے۔نسوار کی برکتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر وقت میں ناممکن ہے کہ اُن کا احاطہ ہوسکے۔ ہمارے سیدو شریف میں سیدو بابا مسجد کے پہلو میں ایک سپر سٹور تھا (شاید اب بھی ہو)، اُس کی ابتدا نسوار ہی سے ہوئی تھی۔ […]
ہمارا بچپن

ہمارے بچپن کے افسر آباد میں مختلف طبقات کے لوگ رہتے تھے۔ یہ ایک بالکل "Harmonious” بستی تھی۔ ایک بات جو اُن دنوں کی مجھے یاد ہے۔ ہم اپنے کھیلوں میں حقیقت سے زیادہ "Phantasies” کے رنگ بھرتے اور خود کو یقین دلاتے کہ ہاں ایسا ہی ہورہا ہے، جیسا ہم دیکھنا یا دکھانا چاہ […]
ریاست سوات میں لکڑی کی دست کاری

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)روایتی طور پر، سوات میں لکڑی کی دست کاری گھروں کے دروازے بنانے، شہ تیر اور کڑیاں تیار کرنے، آرایشی محرابوں، گنبدوں اور مساجد و حجروں کے کندہ کاری والے دروازوں تک محدود تھی۔ اس کے […]