رات کے منتشر خیالات

Blogger Zubair Torwali

جدید دنیا مسلسل بدل رہی ہے۔ وہ آگے بڑھتی ہے اور ہمیں بھی ایک بے معنی دوڑ میں دھکیلتی چلی جاتی ہے۔ وہ اپنی حدیں پھیلاتی ہے اور ہمیں اپنے ساتھ چلتے رہنے پر اُکساتی ہے۔ اسکرینیں ہمارے چہرے بن چکی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے معمولات کو قید کرلیا ہے۔ سرمایہ داری نے ہمیں بھوسے سے […]

توانائی بحران کا مستقل حل کیا ہے؟

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے۔ کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کی زندگی اجیرن بناتی ہے، کبھی بجلی کے بھاری بل غریب آدمی کی کمر توڑ دیتے ہیں، اور کبھی مہنگے ایندھن کی درآمد قومی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتی ہے۔ ہر حکومت نے وقتی اقدامات کیے، نئے […]

امن صرف ہتھیار کی خاموشی کا نام نہیں

Blogger Lawangin Yousafzai

اکیسویں صدی میں امن کو صرف جنگ یا مسلح تصادم کے نہ ہونے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ عالمی حقائق نے امن کے تصور کو کہیں زیادہ وسیع کر دیا ہے، جس میں معاشی انصاف، سماجی شمولیت، ماحولیاتی تحفظ، صنفی برابری، صحت و تعلیم تک رسائی، اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ شامل ہیں۔ […]

غزالی و ابنِ رشد… سوال اور یقین کی جنگ؟

Blogger Comrade Sajid Aman

یہ سوال کہ کیا آج بھی مسلم دنیا میں ’’غزالی‘‘ اور ’’ابنِ رشد‘‘ کی کش مہ کش جاری ہے؟ میرے ناقص علم کے مطابق جواب ہے کہ یہ محض ایک فکری اختلاف نہیں، بل کہ ہماری تہذیبی سَمت، تعلیمی ترجیحات اور اجتماعی نفسیات کا آئینہ ہے۔ بہ ظاہر یہ بحث صدیوں پرانی ہے، مگر اس […]

باچا خان مرکز میں تقریب حلف برداری

Blogger Noor Muhammad Kanju

انسانی معاشرت کی بقا اور ترقی کا دار و مدار ہمیشہ سے اُن اداروں اور تنظیموں پر رہا ہے، جو اجتماعی مفاد کے حصول کے لیے وجود میں آتی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کی ورق گردانی کریں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انفرادی کوششیں ایک محدود دائرے تک تو […]

فقیر ایپی، تاریخ اور وطن دشمن بیانیہ

Blogger Fazal Manan Bazda, Thana

میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی شمالی وزیرستان کے ایک بڑے قبیلے اتمان زئی کی ذیلی شاخ بنگالی خیل میں پیدا ہوئے۔ میرزا علی خان المعروف فقیر ایپی نہ کوئی سیاسی شخصیت تھے اور نہ اُن کا کوئی عسکری پس منظر ہی تھا، بل کہ وہ ایک سادہ مذہبی شخصیت تھے، جو اُس زمانے کی […]

کرسی کا غرور

Blogger Ikram Ullah Arif, District Dir

صاحب نے میز پر لگے بٹن پر انگلی رکھی اور فوراً ہی دفتر کا دروازہ کھلا تو ایک نوجوان نمودار ہوا۔ لمبے قد، پھرتیلے جسم اور گھنے سیاہ لمبے بالوں والا یہ نوجوان دست بستہ اور ہمہ تن گوش کھڑا ہوگیا۔ افسرِ بالا نے اس کو نام لے کر مخاطب کیا: ’’یہ کون سا اسٹائل […]

سی آر اسلم، طبقاتی انقلاب کا استعارہ

Blogger Sajid Aman

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ نام ایسے بھی ہیں، جو کسی بڑے عہدے، کسی اسمبلی کی نشست یا کسی وزارت کے باعث نہیں پہچانے جاتے۔ وہ اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ انھوں نے ایک مشکل زمانے میں ایک مشکل راستہ اختیار کیا تھا۔ ایسا راستہ جس میں اقتدار نہیں ہوتا، مگر یقین […]

مولانا صاحب زادہ جہانزیب فاروقی سرہندی

Blogger Hilal Danish, Swat

صوبہ خیبرپختونخوا کی سرزمین ہمیشہ ایسے رجالِ کار کی امین رہی ہے، جنھوں نے علم و عمل کے ذریعے نہ صرف اپنے گرد و پیش کو بدلا، بل کہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری و عملی راہ نمائی کا سامان بھی مہیا کیا۔ انھی نابغۂ روزگار شخصیات میں شیخ الحدیث حضرت مولانا صاحب زادہ […]

ریاستِ سوات، صحافت کا ارتقا اور ’ماما‘

Blogger Haider Ali Akhundkhel

صحافت، صحیفہ سے ماخوذ ہے۔ صحیفہ کتاب کو، بل کہ مقدس کتاب کو کہا جاتا ہے۔ جدید اصطلاح میں صحافت، اخبار نویسی کا نام ہے اور صحافی اُس فرد کو کہتے ہیں، جو اخبار لکھتا ہے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے؛ مسائل کو اُجاگر کرنا، عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، مظلوموں کی جنگ […]

محنت کی پہچان اور شعور کی بیداری

Blogger Ghufran Tajik

دنیا کی ہر ترقی، ہر عمارت اور ہر کام یابی کے پیچھے اگر کسی ایک طاقت کا سب سے بڑا کردار ہے، تو وہ مزدور کی محنت ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے، جو اپنے وقت، صلاحیت اور جسمانی و ذہنی توانائی کو صرف کرکے معاشرے کے نظام کو چلائے رکھتا ہے… مگر افسوس کی بات […]

قرض، حکم رانی اور قومی خود مختاری کا سوال

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

پاکستان کی معیشت اور سیاست کا باہمی تعلق کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گذشتہ 75 برسوں میں ہم نے بارہا ایسے ادوار دیکھے ہیں, جب قومی فیصلے داخلی ضرورتوں کے بہ جائے بیرونی دباو کے تحت کیے گئے۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا ہماری سیاسی اشرافیہ واقعی عوامی […]

ایدھی کا روپ دھارے محمد ہلال

Blogger Noor Muhammad Kanju

دنیا کی رنگینیوں اور مادہ پرستی کے اس ہجوم میں جہاں ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں مقید ہے اور نفسا نفسی کا عالم ہر سو برپا ہے، وہاں کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کا جینا اور مرنا محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بل کہ انسانیت کی فلاح کے لیے […]

ہوگو شاویز … عوامی تحریک کا استعارہ

Blogger Comrade Sajid Aman

لاطینی امریکہ کی تاریخ ’’ہوگو شاویز‘‘ کا نام لیے بغیر ادھوری ہے اور اس کی وجوہات واضح ہیں۔ ہوگو شاویز وہ شخص تھا، جس نے غریبوں کے خوابوں کو زبان دی، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوا اور ایک ایسے ملک میں امید کی شمع روشن کی، جہاں صدیوں سے دولت زمین […]

تورگل، ایک آواز یا بھولی ہوئی بیداری؟

Blogger Hilal Danish

سیاسی تاریخ کے بعض لمحات محض واقعات نہیں ہوتے، بل کہ وہ اجتماعی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی، اور اس کے نتیجے میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور مرکز میں سیاسی بساط لپیٹی گئی، تو اس پورے منظرنامے نے جہاں […]

تعریف، دھوکا یا سیاست؟ 

Blogger Adv Naseer Ullah

نسانی نفسیات کا ایک انتہائی پیچیدہ اور دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ہم سب اپنی اہمیت اور قدر کے اعتراف کے متلاشی ہوتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی ہو، ڈیجیٹل دنیا ہو، یا ملکی سیاست… ہر جگہ تعریف، سراہنا اور خوشامد کا عمل دخل نمایاں نظر آتا ہے۔ چاپلوسی بنیادی طور پر وہ مثُبت تعریف […]

جمال عبدالناصر، عرب وقار کی علامت

Blogger Comrade Sajid Aman

قاہرہ کی گرم شاموں میں ایک زمانہ ایسا بھی تھا، جب ریڈیو کی آواز پورے عرب جہاں میں گونجتی تھی۔ لوگ چائے خانوں میں جمع ہوتے، بازاروں میں خاموشیاں چھا جاتیں اور گھروں میں کان ایک آواز پر لگ جاتے۔ وہ آواز ایک ایسے راہ نما کی تھی، جس کے الفاظ میں شکستہ قوموں کے […]

فخر کا حقیقی معیار… نسب یا کردار؟

Blogger Ghufran Tajik

انسانی سماج میں شناخت (Identity) ایک بنیادی حقیقت ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی نسب، خیل، قبیلے یا قوم سے وابستہ ہوتا ہے… اور اسی وابستگی کے ذریعے وہ اپنی پہچان قائم کرتا ہے۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے: ’’زه په خپل نسب/ خیل/ قبيله/ قوم فخر کوم!‘‘ تو بہ ظاہر وہ اپنی شناخت […]

پاک-چین دوستی… ترقی کا خواب ادھورا کیوں؟

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی ملٹری، ٹیکنالوجی اور معاشی سپر پاؤر چین ہمارے دروازے پر موجود ہے، مگر ہم اس قربت سے وہ فائدہ نہ اٹھا سکے جس کی توقع کی جاتی تھی۔ پاک-چین دوستی کو اکثر ’’ہر موسم کی دوستی‘‘ قرار دیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ […]

کامریڈ کم ایل سنگ

Blogger Comrade Sajid Aman

تاریخ کے کینوس کو غور سے دیکھیں، تو کچھ افراد محض شخصیات نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مزاحمت کی دھڑکن، خودمختاری کا استعارہ اور طاقت و نظریے کے درمیان جاری کش مہ کش کا زندہ حوالہ…!کامریڈ کم ایل سونگ بھی ایسے ہی فرد کا تعارف ہے، جس نے نہ صرف ایک […]

ملاکنڈ کا تاریخی جرگہ، چند فیصلے اور اثرات

Blogger Fazal Manan Bazda

جرگہ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کا مفہوم اجتماعی فکر، اشتراکیت اور متفقہ فیصلہ ہے۔ اسی لیے پشتون معاشرے میں ان مقاصد کے حصول کے لیے لفظ ’’جرگہ‘‘ مستعمل ہے، جب کہ دیگر اقوام میں عربی میں ’’شوریٰ‘‘، ہندی اور پنجابی میں ’’پنجائیت‘‘ اور انگریزی میں ’’پارلیمنٹ‘‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ صدیوں پر محیط […]