کامریڈ رحیم داد (استاد صاحب)

کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کو بہت کچھ آتا ہے اور کچھ لوگ ہوتے ہیں، جن کو غصے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔کامریڈ رحیم داد اُستاد صاحب زندہ رہنا جانتے تھے…… اور بہتر زندگی کیا ہے؟ اس کی اجتماعی راحت عام لوگوں تک پہنچنے کی تدابیر کرتے رہے۔کامریڈ رحیم داد استاد صاحب کو بہت کچھ […]
جاپانی اور نازی جرمن فوج کا فرق

دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی:ایک طرف یورپی سامراجی طاقتیں، روس اور امریکہ تھیں۔دوسری طرف جرمنی، جاپان اور اٹلی جیسی طاقتیں تھیں۔پہلی جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مختلف وجوہات نے 20 سال کے عرصے تک دوسری جنگ عظیم کا راستہ ہم وار کیا۔ ’’ٹریٹی آف ورسائلز‘‘ (Treaty […]
محمد رحیم ٹھیکے دار (مرحوم)

مینگورہ شہر کو ٹٹول کر دیکھیں، تو ہمیں ایسے لوگوں کی کمی نظر نہیں آئے گی، جنھوں نے اپنی محنت، لگن اور کاوش سے اعلا مقام حاصل کیا اور پورے معاشرے کے لیے مثال بنے۔ ملابابا روڈ اور خود ملابابا کئی محلوں پر مشتمل ایک بڑا علاقہ ہے۔ یہیں پر ایک محلہ ’’محمد رحیم ٹھیکے […]
ریاست سوات دور کا ایک نوعمر قاتل

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کی ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا اور اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی۔ کہا جاتا تھا کہ اس کی سوتیلی ماں اس کے […]
فضل غنی استاد صاحب

اگر کوئی ایک شخص بہ یک وقت اُستاد، ادیب، شاعر، مدبر، سیاسی رہ نما، وطن پرست، قوم پرست، اساتذہ سیاست کے سرخیل، ترقی پسند، باشعور، حساس اور دیگر اعلا اوصاف کا حامل ہوسکتا ہے، تو اُن کا نام فضل غنی استاد صاحب اُستاد ہے۔فضل غنی اُستاد صاحب نے جہاں اساتذہ کے حقوق کے لیے بے […]
ریاست سوات اور ماہِ رمضان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہمارے بچپن میں رمضان خوشیوں سے بھرپور ہوتا تھا۔ بچے سحری اور افطاری، جو اس مقدس مہینے کی نمایاں خصوصیات ہیں، کی سرگرمیوں کے بارے میں بہت پُرجوش ہوتے۔ اگرچہ لوگوں کے پاس وسائل محدود تھے، […]
قلندر ماما میر خانخیل

مینگورہ مین بازار کے عقب میں گلی ڈبہ مسجد جسے میر خانخیل، بوستان خیل کہتے ہیں، سبو چوک یا حاجی بابا چوک سے شروع ہوکر گلی ڈبہ مسجد تک بالخصوص اسی مین گلی کی ہر طرف غالب اکثریت میر خانخیل، بوستان خیل ہی کی تھی۔ ویسے پرانا ڈاک خانہ روڈ، بادشاہ چم میں بھی بہت […]
ناخود کپتان

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)یہ بات کافی واضح ہے کہ ایک اشرافی نظام ہمیشہ ملک کے اعلا طبقے کو فائدہ دیتا ہے اور یہ طبقہ ریاست کے ہر ادارے میں غالب رہتا ہے۔ کچھ استثنائی صورتیں بھی دیکھی گئی ہیں، […]
جہانزیب کالج میں میرا پہلا اینول ڈے

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)1958ء میں ودودیہ سکول سے سکول لیونگ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد، مَیں نے علاقے کے سب سے معزز اور معروف کالج، جہانزیب کالج سیدو شریف، میں داخلہ لیا۔ میرا گھر افسر آباد میں تھا اور […]
مینگورہ خوڑ

مینگورہ شہر کے دِل ’’نشاط چوک‘‘ سے تقریباً تیس، چالیس قدم آگے سیدو روڈ پر ایک پُل آتا ہے جس کے بائیں ہاتھ چینہ مارکیٹ کی طرف ایک چھوٹی سی سڑک جدا ہوتی ہے۔ تصویر میں دکھائی دینے والی ندی، جسے ہم پشتو میں خوڑ کہتے ہیں، 90ء کی دہائی میں صاف و شفاف بہتی […]
ریاست سوات کا شاہی بینڈ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میرے خیال میں، مَیں نے ریاستِ سوات کے بہت سے محکموں پر بات کی ہے، لیکن ایک ایسا محکمہ بھی تھا جس کا ذکر کرنا ضروری ہے، اور وہ تھا ’’ریاستی شاہی بینڈ۔‘‘ریاست کا اپنا قومی […]
اصل حقائق کیوں پوشیدہ ہیں؟

تاریخی حوالے سے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کل کی بات ہے۔ وہ اکثر کردار زندہ ہیں کہ جنھوں نے اس تمام عمل میں حصہ لیا تھا، لیکن آپ تجزیہ کرلیں کہ پھانسی کے وقت وہاں موجود اشخاص کے بیانات میں شدید تضاد ہے۔ جیل کے اُس وقت کے […]
مولانا خونہ گل (کیملپور مولوی صاحب)

میرے پردادا مولانا عبد الحنان رحمہ اللہ کے تین بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے مولانا خونہ گل (رحمہ اللہ) المعروف کیملپور مولوی صاحب، جو میرے سگے دادا تھے۔ دوسرے بیٹے مولانا انظر گل (رحمہ اللہ) المعروف شنگرئی مولوی صاحب اور سب سے چھوٹے بیٹے مولانا سیف الملوک المعروف منگلتان مولوی صاحب تھے۔ آج ذکر صرف مولانا […]
نیکپی خیل کے اکبر خان

یہ سوال ہمارے سامنے ہمیشہ سوال ہی رہے گا کہ ہم اہلِ سوات نے کیا پایا، کیا کھویا؟ تاریخ کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے تعلیم، صحت کی سہولیات، امن و امان، ترقی (ترقی معکوس)، تہذیب و تمدن اور برداشت…… الغرض ہر حوالے سے جایزہ لینا ہوگا۔مجھے کہنے دیجیے کہ اگر ہم نے ترقی کی ہے، […]
باچا خان بابا کے جنازے کا آنکھوں دیکھا حال

ہر سال کی طرح اس سال بھی بانیِ خدائی خدمت گار تحریک، فخرِ افغان خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان بابا کی 37ویں اور رہ برِ تحریک خان عبدالولی خان کی 19ویں برسی پورے شان و شوکت سے ملک بھر کے مختلف علاقوں میں منائی جارہی ہے، جس کا واحد مقصد لوگوں میں باچا خان […]
ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]
تصدیق اقبال بابو: درد مند معلم، بے بدل ادیب

زندگی کچھ چہرے ہمارے لیے ہمیشہ کے لیے امر کر دیتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنی فکر، عمل اور جذبے سے معاشرے میں روشنی بانٹتے ہیں، جو لفظوں کے ذریعے زندگی کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں اور جو اپنے ہنر سے دوسروں کی سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تصدیق اقبال بابو بھی انھی […]
د ملاکنڈ سُرے (ملاکنڈ ٹنل)

میری طرح 80ء کی دہائی میں آنکھ کھولنے والوں کو ملاکنڈ ٹنل کی سحر انگیزی کا اندازہ بہ خوبی ہوگا۔ مَیں چوں کہ ’’ٹریول سِکنس‘‘ (Travel Sickess) سے متاثر ہوں، سفر کے دوران میں اُلٹی نہ کروں، تو دل کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا۔ اس لیے جب بچپن میں ’’جی ٹی ایس بس‘‘ کے ذریعے […]
ریاست سوات کا جہانزیب کالج

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے تمام تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ آٹھویں، دسویں، انٹرمیڈیٹ اور بیچلر سطح کے امتحانات صوبے کے دیگر سکولوں اور کالجوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن کی نگرانی پشاور […]
سید عثمان شاہ لالا

لالا گان خاندان کو سوات میں بڑی عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی پہلی وجہ ان کی شرافت اور خوش اخلاقی ہے۔ دوسری وجہ ان کا سید، خاندانی اور نسلی ہونا ہے۔ تیسری وجہ شاہی خاندان سے تعلق اور رشتہ داری ہے۔ جب کہ چھوتی وجہ ان کی خدمات ہیں۔اس […]
سیدو شریف: میرے دنوں کی کچھ دل چسپ شخصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہم سیدو شریف میں تقریباً نصف صدی تک مقیم رہے۔ ریاست کے دارالحکومت میں اعلا عہدوں پر فائز افراد کے علاوہ، ریاست کے ہر کونے سے لوگ مواقع کی تلاش میں یہاں آئے اور سیدو کے […]