ریاستِ سوات کے محکموں کا ارتقا

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام کے فوری بعد، حکومت کے مختلف اداروں کے لیے کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود ریاستی اتھارٹی کی مضبوطی اور عدالتوں، محصولات، دفاع، صحت، تعلیم اور بنیادی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اڑتیس ویں قسط)

ایس ڈی اُو کا انحصار مکمل طور پر اس لڑکے پر تھا۔ دفتر کا سارا کام اس پر چھوڑ دیا تھا۔ وہ سرکاری خط و کتابت کرتا۔ اس کی غیر موجودگی میں ایس ڈی او کی طرف سے دستخط کرتا۔ آنے جانے والے خط و کتابت کا ریکارڈ رکھتا۔ مختصر یہ کہ وہ انجن تھا، […]
ڈاکٹر غلام یوسف کی یاد میں

لوگ تو آج کے جدید دور میں نہیں پڑھتے، تو 1969ء میں کتنے لوگ پڑھے لکھے ہوں گے اور اعلا تعلیم…… وہ تو گویا خواب تھی۔ اخبار پڑھ لینا ہی تعلیم یافتہ ہونے کی بڑی نشانی تھی۔مینگورہ اور اصل مینگورہ باچا صاحب چم میں مسافر حاجی صاحب کے بیٹے غلام یوسف صرف پڑھے لکھے نہیں […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (سینتیس ویں قسط)

پشاور سے پہلی آڈٹ ٹیم 1970ء میں آئی اور ہمارے دفتر میں اپنا کام شروع کر دیا۔ مجھے ایکس ای این عبدالرحیم خان نے آڈٹ ٹیم کے ساتھ کام کے لیے کہا۔ انھوں نے آڈٹ کا آغاز ریاست کے آخری سال سے شروع کرنا چاہا۔ مَیں نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس والی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھتیس ویں قسط)

سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ امور بی/ آر ڈویژن کے قیام کے بعد، ہمارے پہلے ایگزیکٹو انجینئر جناب عبدالرحیم خان نے چارج سنبھالا۔ سیدو شریف کو نو تشکیل شدہ ملاکنڈ ڈویژن کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بھی قرار دیا گیا تھا۔ کیوں کہ سوات کے عظیم حکم ران کی طرف سے تعمیر کیے […]
قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ (مرحوم)

(مرحوم) قاضی امداد اللہ ایڈوکیٹ سوات بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے ابتدائی ممبر تھے۔وکالت کا پیشہ ڈھیر سارے لوگوں نے سنا ضرور تھا، مگر وکیل کی شخصیت کیا اور کیسے ہوتی ہے؟ یہ ٹی وی اور فلموں ہی میں دِکھتا تھا۔ مکان باغ سے گزرتے ہوئے قاضی امداد اللہ وکیل صاحب […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تینتیس ویں قسط)

نوٹ:۔ آنے والی چند اقساط ریاستِ سوات کے خاتمے اور پاکستان میں انضمام کے حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ کیوں کہ جنابِ فضلِ رازق شہاب صاحب ان واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ انھوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا، بلا کم و کاست لکھ دیا۔ ان کی یہ تحاریر ریاستِ سوات کی تاریخ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بتیس ویں قسط)

میری زندگی اتنی آسان نہیں تھی، کوئی ہنسی، خوشی کا معاملہ نہیں تھا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ مَیں اپنی کھوپڑی کو اُڑانا چاہتا تھا…… لیکن ’’پروویڈنس‘‘ نے مداخلت کی اور مَیں تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندہ رہا۔ جیسا کہ مَیں نے کہیں ذکر کیا ہے کہ جب پرانے افسر آباد کا زوال […]
افسر آباد اور سیدو شریف سے جڑی یادیں

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میری آنکھ 5 اپریل 1943ء کو ایک ایسے گھر میں کھلی جو بڑے بڑے گھروں کی ایک جھرمٹ میں سب سے پہلا مکان تھا۔ مکانوں کے اس مجموعے کو افسر آباد کا نام دیا گیا تھا۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکتیس ویں قسط)

عمومی خیال یہ ہے کہ والیِ سوات ریاستی ملازمین کو، جب وہ ان کی کارکردگی سے ناخوش ہوتے، جسمانی طور پر سزا دیتے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے، لیکن ایسا فرعونیت یا بدمزاجی کی وجہ سے نہیں تھا، بل کہ اپنی رعایا کو فرائض میں غفلت برتنے پر ایک باپ کی طرح یاد […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیس ویں قسط)

مَیں اپنی شادی کی تفصیلات کو چھوڑ رہا ہوں۔ وہ بہت دردناک ہیں۔ مَیں دوبارہ ان یادوں سے نہیں گزرنا چاہتا۔ وہ زخم برسوں پہلے بھرچکے ہیں۔ میری بیوی کو دو چیزوں کا جنون تھا، روح کی صفائی اور گھر کی صفائی۔ پہلے تو وہ 24 گھنٹوں میں 8 بار نماز پڑھتی تھی، جب کہ […]
گوبند رام باپو

محترم گوبند رام باپو مینگورہ شہر کی سماجی شخصیت اور روایتوں کے امین تھے۔باپو ایک زبردست قوم پرست مینگروال، ایک دانش مند مشر، ایک رحم دل، صلح جو اور ایمان دار تاجر اور مصالحتی کمیٹی کے ممبر تھے۔ غیر مسلم سواتی شہری، سوات پر اپنا حق محبت اور عقیدت کے ساتھ جتاتے ہیں۔باپو (یعنی ابا […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنتیس ویں قسط)

ایک دن میں اپنے دفتر سے واپس اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں داخل ہو رہا تھا۔ اچانک دیکھا کہ وہ ایک کونے میں، ہاتھوں میں ایک گٹھڑی اٹھائے، کھڑی ہے۔ مَیں نے ہکلا کر پوچھا کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے اور وہ میرے گھر کو کیسے جانتی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ […]
شاہ روان کپتان

گاؤں ’’منگلور‘‘ سوات کی تاریخ میں ایک اہم نام ہے، جس کو نظر انداز کرکے سوات کی تاریخ کو سمجھا جاسکتا ہے، نہ یوسف زئی تاریخ مکمل ہوتی ہے، نہ قدیم سواتیوں بارے روشنی ہی مل سکتی ہے۔ آپ اگر مزید تفصیل میں جائیں، تو سمجھ لیں کہ اس گاؤں بغیر قدیم بدھ مت اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اٹھائیس ویں قسط)

ان سالوں میں مجھے مانیار، ابوہا اور پبلک سکول سنگوٹہ کے ایک بڑے ٹیچنگ بلاک میں تعمیرات کی نگرانی اور کچھ اور پروجیکٹس کرنے تھے۔ یہ مصروف ترین سال تھے اور وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن مجھے اپنے پہلے معاشقے کا موقع مل ہی گیا۔میرے بڑے بھائی فضلِ وہاب، شیر خان کو […]
سید خدا بخش پاچا

گلشن چوک سے نشاط چوک کی طرف جائیں، تو آپ کے بائیں طرف دُکانیں اور اُن کے پیچھے محلے مینگورہ شہر کی ایک بھرپور تاریخ جو ہر گلی، نکڑ، دروازے، گھر سے چیخ چیخ کر شہر کے ماضی کو بیان کرتی ہے، مگر اس کے سننے کے لیے وہ کان چاہئیں، جو شہر کی محبت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (ستائیس ویں قسط)

چکیسر میں قیام کے دوران میں ایک اور چیز، جس نے مجھے متاثر کیا، وہ ان کی تعلیم کے ساتھ محبت تھی۔ ودودیہ سکول سیدو شریف کے بعد بادشاہ صاحب کے دور میں پہلا سکول چکیسر میں بنا تھا۔ ہائی سکول چکیسر موجودہ ضلع شانگلہ کا سب سے قدیم ادارہ ہے۔ 1950ء کی دہائی کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چھبیس ویں قسط)

چکیسر سے میرا تبادلہ تحصیل بلڈنگ کی چھت کے سلیب سے مشروط تھا۔ ٹھیکہ دار کی الم ناک موت کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ کیوں کہ اس کا خاندان شدید صدمے میں تھا۔ نومبر کے آخر میں، ٹھیکہ دار کے بیٹے نے، جو ابھی کالج کا طالب علم تھا، نے بقیہ کام کا چارج […]
سید محمد المعروف کچے اُستاد

مینگورہ شہر کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے۔ اردگرد کے پہاڑوں پر بھی آبادیوں کا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے گنجان آباد ترین شہروں اور آبادی میں بے تحاشا اضافے کے لحاظ سے مینگورہ شہر پہلے نمبروں پر آتا ہے۔جب مینگورہ شہر کی لمبائی کی حد محض سہراب خان چوک تک تھی […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (چوبیس ویں قسط)

سابق ریاست میں کوالٹی کنٹرول کا ایک بہت موثر نظام تھا، جس پر اگر حقیقتاً عمل کیا جاتا، تو بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ لیکن کچھ بے پروا عناصر نے اپنے عامیانہ مفادات کے لیے اس ’’سیٹ اَپ‘‘ کو سبوتاژ کیا۔ مثال کے طور پر، ہر تحصیل دار کو تحریری ہدایت دی گئی تھی کہ وہ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیئس ویں قسط)

جب مَیں نے اپنی سوانح عمری لکھنی شروع کی، تو میرے اکثر قارئین نے اصرار کیا کہ مجھے کچھ نہیں چھپانا چاہیے، لیکن سوچتا ہوں کہ مَیں اپنی زندگی کے انتہائی تاریک گوشوں کے بارے میں، اپنی بری عادات اور اپنی ناکامیوں کی وجوہات کے بارے میں کیسے بات کروں، جب کہ میرے پاس بہترین […]