گراسی گراونڈ او کہ ترکولی….؟
قومی سلامتی، سیاسی مصلحتیں اور خطرناک خاموشی

وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ ریاست پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے؟ محض ایک بیان نہیں، بل کہ قومی سلامتی پر بہ راہِ راست حملہ ہے۔ یہ جملہ لاعلمی نہیں، دانستہ انکار ہے…… اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا روزانہ لاشیں […]
ناشکری تا زوال: یوسف زئی قوم اور سوات کا المیہ

زندگی کے ابتدائی ایام میں اکثر اس سوال پر مَیں بہت غور کرتا رہتا تھا کہ آخر قدرت اُن لوگوں پر ہی کیوں زیادہ مہربان دکھائی دیتی ہے، جو ناشکرے ہوتے ہیں؟ ہمیشہ نعمتیں اُس کے حصے میں کیوں آتی ہیں، جو نہ اُن کی قدر جانتا ہے، نہ اہمیت کو محسوس ہی کرتا ہے؟ […]
امریکہ بہادر کا اصل چہرہ

امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتا ہے، مگر اس کے عملی کردار پر نظر ڈالی جائے، تو یہ دعوے کھوکھلے اور تضادات سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مداخلت نے جہاں جمہوریت کو فروغ […]
بابوزئی قامی تڑون جرگہ اور سلگتے مسائل

’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں […]
خیبر پختونخوا بہ مقابلہ پنجاب

پاکستان میں صوبائی سیاست محض جماعتی مقابلے تک محدود نہیں رہی، بل کہ اب یہ حکم رانی کے انداز، ترجیحات اور عوامی توقعات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث ہے۔ حالیہ برسوں میں اگر خیبر پختونخوا اور پنجاب کا جائزہ لیا جائے، تو دونوں صوبوں میں سیاسی رویوں اور انتظامی ترجیحات کا فرق نمایاں دکھائی […]
سوات موٹر وے فیز ٹو: تاخیر، ناکامی اور نقصان

اس وقت نہ صرف مینگورہ شہر غیر قانونی رکشوں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شدید گھٹن کا شکار ہے، بل کہ اربن پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے آبادی کے غیر فطری پھیلاو (Irregular Expansion) نے لاکھوں لوگوں کو محصور کر دیا ہے۔ہم جیسے غیر ممالک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑی بھاری قیمت […]
خدا، بھوک اور سرمایہ دارانہ فریب

اشتراکی سوویت انقلاب کے عظیم راہ نما لینن نے کہا تھا: ’’ہم مذہبی لوگوں سے موت کے بعد والی جنت پر نہیں الجھنا چاہتے۔ ہمارا مقصد اِس زندگی کو تمام انسانیت کے لیے جنت بنانا ہے۔‘‘لبرل ازم، جدید سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔ اس فکر کے حامل لوگ مادر پدر آزادی کو ہی اصل […]
سرکاری جامعات: مالی بحران اور ٹیکس دہندگان کا کردار

حالیہ دور میں خیبر پختونخوا کی 34 سرکاری جامعات کو درپیش شدید مالی بحران کے بارے میں تشویش ناک خبروں کی بھرمار پڑھنے کو مل رہی ہے۔ شعبہ جات کی بندش، فیسوں میں اضافے اور متعدد دیگر مسائل کی باتوں کے درمیان صوبے میں اعلا تعلیم کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا ہے۔ […]
میاں منظور احمد وٹو کی یاد میں

سابق وزیرِ اعلا پنجاب، میاں منظور احمد وٹو طویل علالت کے بعد منگل 16 دسمبر 2025ء کی سہ پہر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ اُن کی رحلت کی خبر ضلع اوکاڑا کے عوام کو رنجیدہ و افسردہ کرگئی۔ ضلع ایک عظیم انسان، مشفق بزرگ، کام یاب ترین سیاست […]
ایمان مزاری جیسا ایمان کہاں سے لائیں؟

پاکستان کا معاشرتی ڈھانچا ہمیشہ سے تضادات کا ایک ایسا جنگل رہا ہے، جہاں طاقت ور اور کم زور کے درمیان فاصلہ صرف طبقاتی نہیں، بل کہ ذہنی، معاشی اور ادارہ جاتی تقسیم کا بھی مرہونِ منت ہے۔ اس معاشرے میں اشرافیہ کے لیے قوانین، مراعات اور زندگی کے اصول کچھ اور ہوتے ہیں، جب […]
پاکستانی جامعات، سویڈن ہی سے سبق لیں

سویڈن میں طلبہ کو صرف ’’تعلیمی خدمت کے مستفیدین‘‘ نہیں سمجھا جاتا، بل کہ انھیں اعلا تعلیم کے نظام میں باقاعدہ اور بڑے ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ قانوناً طلبہ کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اہم فیصلہ ساز اور مشاورتی مجالس میں نمایندگی رکھیں، یونیورسٹی کی مجلسِ ادارہ (بورڈ) […]
سکول وزٹس: خوش کن دعوے اور تلخ حقائق

29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا […]
جمہوریت کی گم شدہ روح

امریکی صدر اور نیویارک کے مئیر نے پہلی ملاقات میں سب لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ مئیر جو جیت سے قبل انتخابی مہم میں امریکی صدر کو ’’فاشسٹ‘‘ اور آمر کہتے رہے، جب کہ امریکی صدر ممدانی کو ’’کمیونسٹ‘‘ اور ’’مذہبی جنونی‘‘ پکارتے رہے۔سیاسیات میں یہ حیران کن بھی نہیں، جیسا کہ پوری دنیا […]
’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کی مزاحمت کا سفر

(یہ معروضات ’’دریائے سوات بچاو تحریک‘‘ کے زیرِ اہتمام 21 نومبر 2025ء کو بحرین میں منعقدہ جرگے میں پیش کیے گئے ہیں۔)ہم ایک قوم ہیں۔ ہماری اپنی زمین، اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنی تاریخ ہے۔ ہم خود کو دوسری قوموں سے الگ سمجھتے ہیں اور وہ بھی ہمیں خود سے الگ ہی سمجھتے ہیں۔ […]
طاقت کے توازن پر کاری ضرب

کسی بھی ریاست کا آئین، ریاست اور عوام کے درمیان ایک تحریری عمرانی معاہدہ اور حکم رانی کے لیے ایک فریم ورک ہوتا ہے، جس کا مقصد ریاست اور عوام میں ذمے داریوں کی تقسیم ہے، تاکہ ریاستی کاروبار کو احسن طریقے سے انجام دیا جاسکے۔ پاکستان کو 1973ء تک ’’ریاستِ بے آئین‘‘ سمجھا جاتا […]
آئینی بحران اور سیاسی طاقت کی جنگ

27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اسی پلیٹ فارم (لفظونہ ڈاٹ کام) پر اپنی گذشتہ تحریر’’27ویں ترمیم، جمہوریت کا نیا امتحان‘‘ میں یہ گزارش کی تھی کہ ترمیم کا مسودہ اگر سرسری طور پر بھی پڑھ لیا جائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں سب کچھ موجود ہے، سوائے اس کے کہ عوام الناس […]
ترمیم نئی اور دُکھ وہی پرانے

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جو ماحول بنا ہوا ہے، اُس نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ مثلاً: کیا یہ پہلی ترمیم ہے؟ جواب ہے: ’’نہیں۔‘‘کیا یہ آخری ترمیم ہے؟ اس کا بھی جواب نفی میں ہے۔پھر ایسے میں اتنا واویلا کیوں ہے؟ ترمیم کے حمایتی اور مخالفین دونوں کے پاس درجنوں دلائل ہیں، […]
مینگورہ شہر کا خاموش المیہ

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں مینگورہ شہر بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ ڈینگی، ملیریا، کورونا، آلودگی، چوہوں کی بے تحاشا افزایش، شہری سیلاب کے خدشات، بے ہنگم ٹریفک، ٹریفک جام، سینے اور سانس کے امراض اور نہ صرف مینگورہ شہر بل کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریض…… اگر […]
پاکستان کی تباہی کا اصل سبب

ہم ایک عرصے سے یہی سنتے اور کہتے آئے ہیں کہ ملک میں کرپشن بڑھ گئی ہے۔ سیاست دانوں نے خزانے لوٹ لیے ہیں۔ فُلاں وزیر نے بیرونِ ملک جائیدادیں بنا لی ہیں اور فُلاں ایم این اے یا ایم پی اے دولت کے انبار میں کھیل رہا ہے۔یہ باتیں درست ہیں، لیکن سوال یہ […]
عمران خان کی رہائی میں رکاوٹ کون؟

خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیرِ اعلا سہیل آفریدی بڑے غصے میں ہیں۔ اُنھیں غصہ اس بات پر ہے کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے بھی اُنھیں مقتدر حلقوں سے عزت نہیں مل رہی۔ اُن کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اس معاملے کو لے کر وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے جا […]